اردو سے متعلق تعصب بھرے الفاظ، محمود اچکزئی پر شدید تنقید


کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) کراچی جلسے میں محمود اچکزئی نے خطاب کے دوران کہا کہ اردو لنگوافرینکا ہے لیکن ہماری زبان نہیں ہے انہوں نے کہا کہ پشتو کا احترام ہو، سندھی، بلوچی، پنجاب سب کا احترام ہو، سندھ تو یہاں کی قومی زبان ہے۔وہ اپنے خطاب میں یہ بھی بھول گئے قائداعظم محمد علی جناح نے اردو کو قومی زبان قرار دیا تھا۔ اردو زبان کے بارے محمود خان اچکزئی کےتعصب بھرے الفاظ پر سوشل میڈیا پر لوگوں نے انہیں آڑے ہاتھوں لیا۔ صارفین نے کہاکہ محمود خان اچکزئی اردو زبان پر تنقید کررہا ہے اور وہ بھی اردو زبان

پر ہی اور اردو زبان کے خلاف ایسے شہر میں بول رہا ہے جہاں اکثریت اردو زبان ہی بولتی ہے۔سوشل میڈیا صارفین نے مزید کہا کہ محمود خان اچکزئی کے الفاظ قائداعظم کی توہین ہے۔ قائداعظم نے ہی اردو کو قومی زبان قرار دیا تھا۔ پاکستان میں نفرت اور تعصب کی سیاست کو فروغ دینے میں محمود خان اچکزئی جیسے لوگوں کا اہم کردار ہے۔اس پر جماعت اسلامی کراچی کے صدر حافظ نعیم الرحمان نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ محمود اچکزئی نے پی ڈی ایم کراچی کے جلسے میں پاکستان کی قومی زبان اردو کی تضحیک اور کہایہ ہماری زبان نہیں۔ یہ شرمناک ہے، قابل مذمت ہے۔ کیا قائد پی ڈی ایم اور صدر جلسہ مولانافضل الرحمن نے اس کی تردید کی؟ اردوہماری قومی زبان بھی ہے اور قومی شناخت بھی۔سید باسط نے کہا کہ محمود اچکزئی نے بالکل صحیح کہا کہ اردو اس کی زبان نہیں ہے کیونکہ اردو کبھی ملک غداروں کی زبان نہیں ہو سکتی اردو مودی کے یاروں کی زبان نہیں ہو سکتی اردو ملک میں انتشار پھیلانے والوں کی زبان نہیں ہو سکتی، اردو محب وطن پاکستانیوں کی زبان ہے۔ معروف صحافی سلیم صحافی نے کہا کہ پی ڈی ایم کے کراچی جلسے میں ایک مقرر کی طرف سے اردو زبان کے خلاف گفتگو قابل مذمت ہے، پی ڈی ایم جس آئینکی بالادستی چاہتا ہے اس آئین کے آرٹیکل 251 میں اردو کو پاکستان کی قومی زبان قرار دیا گیا ہے، اردو اسی طرح لاکھوں پاکستانیوں کی مادری زبان ہے جس طرح ہماری پشتو ہے، یوں اردو دگنی محترم ہے۔ ایک اور صارف نے کہا کہ محمود خان اچکزئی اردو میں تقاریر کرکے اردو ہی کی توہین کرنا بند کرو، جس آئین کی بالادستی کی تم بات کرتے ہوئے اس آئین میں واضحالفاظ میں اردو کو قومی زبان کا درجہ دیا گیا ہے، تم نے اردو کی ہی نہیں آئین کی بھی توہین کی ہے۔ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے اراکین سندھ اسمبلی نے پی ڈی ایم کے جلسے میں غیر اخلاقی تقاریروں کے خلاف سندھ اسمبلی میں قراردادیں جمع کرائیں رکن سندھ اسمبلی راجہ اظہر نے مزار قائد کے تقدس کی پامالی کے حوالے سے قرارداد کے متن میں رکن سندھ اسمبلی رجہ اظہرکا کہنا تھا کہ ن لیگی رہنماء کیپٹن صفدر اعوان اور کارکنان نے مزار قائد کے قائد قانون کی خلاف ورزی کی ہین لیگی رہنماؤں نے مزار قائد پر گنڈہ گردی اور سیاسی نعاروں سے پاکستانیوں کے جذبات کو مجروح کیا ہین لیگی رہنماؤں کی جانب سے کیے گئے غیر اخلاقی عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں سندھ حکومت اور وفاقی حکومت سے اس اقدام کے خلاف سخت کارروائی کامطالبہ کرتے ہیں دوسری جانب پی ٹی آئی اراکین سندھ اسمبلی شہزاد قریشی اور ارسلان تاج نیپی ڈی ایم کی جانب منعقدہ جلسے میں محمود اچکزئی کے اردو زبان کے خلاف بیانات و تقریر کے خلاف سندھ اسمبلی میں مذمتی قرارداد جمع کرائی اس موقع پر اراکین نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ اُردو زبان ہماری قومی زبان ہے، اور اس کا ہر پاکستانی کو احترام لازم ہیآئین کے آرٹیکل  251کے تحت اردو زبان کو قومی زبان کا درجہ حاصل ہے محمود اچکزئی کی تقریر آئین پاکستان کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ جس کی مذمت کرتے ہیں آئین کے آرٹیکل 28 کے تحت اپنی قومی زبان کی حفاظت کرناتمام پاکستانیوں کا بنیادی حق ہے محمود اچکزئی کی آئین شکنی کے عمل کے خلاف سندھ اسمبلی کے ایوان میں آواز بلند کرنے کے لیے آج قرارداد جمع کروائی ہے نئے پاکستان میں کوئی قانون سے بالاتر نہیں۔





Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں