اسرائیل دوستی میں امارات نے تمام حدیں پار کر دیں،تہلکہ خیز انکشافات


جنیوا (این این آئی)انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے متحدہ عرب امارات کی طرف سے مقبوضہ فلسطینی شہروں میں اسرائیلی فوج کے حراستی مراکز اور نام نہاد چیک پوسٹوں کے قیام کے لیے سرمایہ کاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے اماراتی قیادت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایاہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جنیوا میں قائم بین الاقوامی انسانی حقوق گروپ یورو، مڈل ایسٹ نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل اور امارات نے مشترکہ طورپر انویسٹمنٹ فنڈ قائم کیا ۔ یہ فنڈ مقبوضہ فلسطینی شہروں میں اسرائیلی فوج کی قائم کی گئی چیک پوسٹوں اور حراستی مراکز کو اپ گریڈ

کرنے اور نئے حراستی مراکز قائم کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔ اس طرح امارات کا سرمایہ براہ راست اسرائیلی فوج کے حراستی مراکز اور فلسطینیوں کو اذیتیں دینے کے لیے قائم کردہ چیک پوسٹوں پر استعمال کیا جائے گا۔انسانی حقوق گروپ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیاکہ امارات کا فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی چیک پوسٹوں کے لیے سرمایہ کاری باعث تشویش ہے جس کے نتیجے میں فلسطینی علاقوں میں صہیونی ریاست کی طرف سے انسانی حقوق کی پامالیوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔بیان میں امارات پر زور دیا گیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ معاہدوں کیدوران فلسطینیوںکی انسانی حقوق کی پامالیوں کے خدشات کو سامنے رکھے۔ امارات کی طرف سے فراہم کی گئی سرمایہ کاری فلسیطنیوں کے خلاف اسرائیلی فوج کے جرائم کی حوصلہ افزائی کا باعث بن سکتی ہے۔انسانی حقوق گروپ نے کہا کہ غرب اردن اور القدس میں اسرائیلی فوجی چوکیوں کے لیے سرمایہ کاری سے فلسطینیوں کے جبری اغوا اور ان پر تشدد کے واقعات میں غیرمعمولی اضافہ ہوگا اور فلسطینیوں کی روز مرہ زندگی مزید اجیرن ہو کر رہ جائے گی۔





Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں