اسلام مخالف بیانات کا ردعمل، یورپی ملک میں رکن اسمبلی ”آئی لو محمد ﷺ“ کی تحریر والا ماسک پہن کر اسمبلی پہنچ گئے


کوسووو (مانیٹرنگ ڈیسک) اسلام مخالف بیانات کے بعد دنیا بھر میں مسلمان احتجاج کر رہے ہیں، اس تمام صورتحال میں تمام مسلم اُمہ میں ایک بے چینی کی کیفیت ہے اور شدید غصہ پایا جا رہا ہے، ایسے موقع پر یورپی ملک کوسووو کے رکن اسمبلی ایمن رحمانی ایک ایسا ماسک پہن کر آئے جس پر ”آئی لو محمد ﷺ“ چھپا ہوا تھا، وہ یہ ماسک پہن کر اسمبلی اجلاس میں پہنچ گئے۔
ایمن رحمانی کا تعلق حزب اختلاف سے ہے، انہوں نے نبی کریمؐ سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے یہ ماسک پہن کر اجلاس میں شرکت کی۔ اس ماسک

کا رنگ سیاہ تھا اور پر ”آئی لو محمدﷺ“ تحریر تھا۔ یعنی مجھے محمدﷺ سے پیار ہے۔واضح رہے کہ فرانس میں اسلام مخالف مہم اور صدر میکرون کی جانب سے مہم کے دفاع میں بیان کے بعد سے دنیا کے کئی ممالک میں فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم کے ساتھ ساتھ مذمتی پیغامات بھی سامنے آئے، جس کے بعد انہوں نے عربی میں ایک پیغام جاری کیا ہے۔اسلام مخالف مہم کے دفاع پر شدید تنقید کی زد میں رہنے والے فرانس کے صدر نے اب ایک عربی زبان میں ٹوئٹ شیئر کیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام میں میکرون نے لکھا کہ ہم کبھی نفرت آمیز تقریر کو قبول نہیں کریں گے، اور امن کے لیے ہم ہر قسم کے خیالات کا احترام کرتے ہیں، اس حوالے سے مناسب بحث و مباحثے کا ہمیشہ دفاع کیا جائے گا۔فرانس کے صدر ایمانویل میکرون نے کہا کہ ہم کبھی ہار نہیں مانیں گے اور امن کے حصول کیلئے تمام مکاتب کے درمیان پائے جانے والے مختلف خیالات کا احترام کیا جاتا رہے گا۔ میکرون نے کہا کہ ہم ہمیشہ انسانی تقدس اور عالمی اطوار کے احترام کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق فرانس کی وزات خارجہ کا کہنا تھا کہ فرانس کی مصنوعات کے بائیکاٹ کو ہوا دی جا رہی ہے۔
گزشتہ دنوں میں چند ایسی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہیں جن میں کویت، اردن اور قطر سمیت دیگر ممالک کے کاروباری حضرات کو اپنی دکانوں سے فرانسیسی مصنوعات کو ہٹاتے اور ان مصنوعات کو دوبارہ فروخت نہ کرنے کا عزم کرتے
دکھایا گیا ہے۔قطر کی ایک بڑی کمپنی نے بھی فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے اس کی جگہ متبادل اشیا رکھنے کا اعلان کیا جب کہ قطر کی اسٹاک کمپنی المیرا نے بھی فوری طور پر فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا ہے۔





Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں