اس ملک میں ظلم اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے، نماز کے وقت مریض کو دیکھنے سے انکار کرنے والے ڈاکٹر نے 2 سالہ بچے کی جان لے لی


لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) سوشل میڈیا پر لاہور ملتان موٹروے پر پیش آنے والے افسوسناک حادثے کی دل دہلا دینے والی ویڈیو وائرل ہے، کاشف ممتاز نامی شہری نے فیس بک پیج پر اپنی پوسٹ میں بتایا کہ کیسے چند ہزار کی نوکری کی لالچ میں بینائی کی مکمل صلاحیت سےمحروم ڈرائیور کے مجرمانہ عمل اور نماز کے وقت مریض کو دیکھنے سے انکار کرنے والے ڈاکٹر نے موٹروے پر پیش آنے والے حادثے میں زخمی 2 سالہ بچے کی جان لے لی، بچے کے والدین ہسپتال میں موت و حیات کی کشمکش میں ہیں، شہری نے اپنی پوسٹ میں بتایا

کہ عبدالحکیم کے قریب موٹر وے پر حادثہ کی شکار گاڑی اور ٹرک کو دیکھ کر گاڑی روکی، جا کر دیکھا تو گاڑی میں ایک دو سالہ بچہ اور اس کا باپ خون میں لت پت پڑا تھا، وہاں موجود لوگ ویڈیوز اور تصاویر بنانے میں مصروف تھے، پوچھنے پر پتہ چلا کہ کسی نے بھی ایمبولینس بلانے یا زخمی کو طبی امداد دینے کی کوشش نہیں کی، اس موقع پر اس شہری نے دونوں باپ بیٹا کو اپنی گاڑی میں ڈال کر قریبی سرکاری ہسپتال لے گیا، بچے کی حالت انتہائی تشویشناک تھی، ڈیوٹی پرموجود ڈاکٹر سے بچے کو طبی امداد دینے کو کہا تو ڈاکٹر نے کہا کہ ابھی نماز کا وقت ہے نماز کے بعد وہ مریض کو دیکھے گا، یہ کہہ کر ڈاکٹر نے فوری چیک کرنے سے انکار کر دیا، اس شہری کو ہسپتال پہنچنے پر معلوم ہوا کہ بچے کی والدہ بھی وہاں زخمی حالت میں موجود ہے، اس طرح طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے بچہ فوت ہو گیا۔https://web.facebook.com/kashifmumtaz.gondal.7/posts/1694582340701051





Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں