امریکی صدر ٹرمپ کے وارنٹ گرفتاری جاری


بغداد(مانیٹرنگ + این این آئی)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے گئے، عراق کی عدالت نے ایرانی کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے الزام میں ٹرمپ کے وارنٹ جاری کیے ہیں۔عدالت کے میڈیا سیل کا کہناہے کہ بغداد کی تحقیقاتی عدالت کے ایک جج واشنگٹن کے زیرانتظام ڈرون حملے کی تحقیقات کر رہے ہیںجس میں جنرل قاسم سلیمانی اور ابو مہدی المہندیس ہلاک ہوئے تھے۔ اسی سلسلے میں امریکی صدر کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے گئے ہیں، دوسری جانب ایران نے پاسداران انقلاب کی سمندر کارروائیوں کی ذمہ دار تنظیم قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم

سلیمانی کے قتل میں مبینہ طور پرملوث ہونے کے الزام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور 47 دیگر ملزمان کے انٹرپول کے ذریعے وارنٹ جاری کردیئے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ایرانی عدلیہ کے ترجمان غلام حسین اسماعیلی نے کہا کہ ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف بین الاقوامی پولیس انٹرپول اور 47 دیگر ملزمان کے خلاف ایرانی پاسداران انقلاب کے قدس فورس کے سابق کمانڈر قاسم سلیمانی کو قتل کرنے کے الزام میں نوٹس جمع کروائے۔ قاسم سلیمانی کو امریکی ڈرون کے ذریعے امریکی 3 جنوری 2020 کو بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پرموت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا۔اسماعیلی نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ایرانی عدلیہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت سلیمانی کے قتل میں ملوث افراد کو ریڈ نوٹس جاری کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انٹرپول کے ذریعے وارنٹ جاری کرنے کا مقصد تمام ملزمان کوعدلیہ کے حوالے کرنا اور انھیں اس جرم کے لیے مقدمہ چلانا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس واقعے میں ملوث تمام افراد کی نشاندہی کی گئی ہے جسکے بعد ہم اس نتیجے تک پہنچے ہیں کی سلیمانی کے قتل کی منصوبہ بندی اور اسے انجام دینے سمیت تمام مراحل میں 48 افراد ملوث ہیں۔ منصوبہ بندی کا آغاز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا۔ وہی اس کے اصل مجرم ہیں۔ انہوں نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ اس کے علاوہ امریکی محکمہ دفاع اور فوج کے وہ تمام عہدیدار جنہوںنے اس آپریشن میں حصہ لیا سلیمانی کے قاتل ہیں۔اسماعیلی نے بتایا کہ مشتبہ افراد کی فہرست میں خطے میں تعینات امریکی افواج کے کمانڈروں کو شامل کیا گیا ہے۔ ان سبھی لوگوں کی شناخت کی گئی تھی اور اس جرم میں ان میں سے ہر ایک کے کردار کو درج کیا گیا تھا۔ ان کے خلاف ریڈ نوٹس جاری کردییگئے ہیں اورانہیں اشتہاری قرار دے دیا گیا ہے۔





Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں