ایران نے امریکہ اور برطانیہ کی کورونا ویکسین منگوانے پر پابندی لگادی


تہران (این این آئی)ایران کے رہبر اعلی آیت اللہ خامنہ ای نے امریکا، برطانیہ اور فرانس سے کورونا ویکسین لینے پر پابندی لگا دی اور کہا یہ ممالک قابل بھروسہ نہیں، کسی اور قابل بھروسہ ملک سے کورونا ویکسین لے سکتے ہیں۔ایرانی سپریم لیڈر نے ایران پر سے امریکی پابندیاں فوری ختم کرنے کا بھی مطالبہ کر دیا۔آیت اللہ خامنہ ای نےکہاکہ ملک میں امریکا اور برطانیہ میں تیار کردہ کورونا ویکسین منگوانے پر پابندی لگا دی ہے، یہ ممالک قابل بھروسہ نہیں، دوسری اقوام کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایران دوسرے قابل بھروسہ ممالک سے کورونا

ویکسین لے سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عالمی جوہری معاہدے میں امریکا کی واپسی کی جلدی نہیں لیکن ایران پرسے پابندیاں فوری ہٹنی چاہئیں۔خامنہ ای نے کہا کہ مشرق وسطی میں امریکا کے برخلاف ایران کا کردار تعمیری ہے اور یہ کردار جاری رہے گا، ایران میں گذشتہ ماہ مقامی طور پر تیار کردہ کورونا ویکسین کی انسانی آزمائش شروع کر دی گئی ہے، ایران میں کورونا متاثرین کی تعداد بارہ لاکھ چوہتر ہزار سے زیادہ اور اموات چھپن ہزار سے زائد ہیں۔ دوسری جانب ایران نے امریکا کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے بعد دھمکی دی ہے کہ خلیج فارس کے ساحلی علاقے میں زیر زمین میزائل کا ایک بڑا اڈا رکھتے ہیں جس کا افتتاح پاسداران انقلاب کے سربراہ نے کیا ہے۔عالمی میڈیاکے مطابق زیر زمین میزائل اڈے کا افتتاح ایران کی پاسداران انقلاب فورس کے سربراہ میجر جنرل حسین سلامی نے کیا اور اسے سرکاری ٹیلی وژن پر براہ راست بھی دکھایا گیا۔سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی ایک ویڈیو کلپ میں پاسداران انقلاب کے اعلی سطح کے کمانڈرز کو زیر زمین ڈپو میںامریکی اور اسرائیلی جھڈوں کے اوپر چلتے ہوئے اندر جاتے دیکھا جا سکتا ہے۔اس حوالے سے پاسداران انقلاب کے سربراہ نے میڈیا کو بتایا کہ یہ اڈا خلیج میں ہماری بحریہ کے کئی اڈوں میں سے ایک ہے۔ گزشتہ برس ایران نے اعلان کیا تھا کہ وہ خلیج کی ساحلی پٹی پر زیرزمین میزائل شہر تعمیر کر رہے ہیں۔میجر جنرل حسین سلامینے ایران کے زیرزمین میزائل اڈے کا اعتراف تو کیا تاہم انہوں نے اڈے کے مقام اور صلاحیت سے متعلق تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا۔ایران نے زیر زمین میزائل اڈے کا دعوی امریکا کی جانب سے جوہری صلاحیت رکھنے والے دو B-52 اسٹریٹجک بمبار طیاروں کو مشرق وسطی میں تعینات کیا ہے۔





Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں