ایل این جی کی خریداری میں 122ارب روپے کی مبینہ بدعنوانی کا تہلکہ خیز انکشاف


اسلام آباد (آن لائن) حکومت نے ایل این جی کی خریداری میں 122ارب روپے کی مبینہ بدعنوانی کی تحقیقات پارلیمانی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی سے کروانے سے انکار کردیاہے اور کہا ہے کہ پی اے سی میں صرف آڈٹ اعتراضات کو زیر غور لایا جائے، ایل این جی کی خریداری میں بے قاعدگیوں سے متعلق میڈیا کی خبروں کا نوٹسنہ لیا جائے اس حوالے سے وفاقی وزیر عمر ایوب نے سپیکر قومی اسمبلی کو خط بھی لکھ دیا جوکہ جمعرات کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں پیش بھی کردیاگیا جس پر پی اے سی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ

پی اے سی کسی بھی معاملے کو دیکھ سکتی ہے پی اے سی نے آئندہ اجلاس میں وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب کو طلب بھی کرلیا۔ کمیٹی کا اجلاس رانا تنویر حسین کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایل این جی خریداری میں 122 ارب روپے کی مبینہ بدعنوانی پر وزارت توانائی اور پی اے سی کے درمیان تنازع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں بتایا گیا وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب نے سپیکر قومی اسمبلی کو خط لکھ دیا، خط کے متن میں کہا گیا ہے۔پی اے سی میں آڈٹ پیراز کو زیر غور لایا جائے، خبروں پر نوٹس نہ لیا جائے۔چئیرمین کمیٹی نے اجلاس میں کہا ایک سو بائیس ارب روپے کی ایل این جی خریداری میں مبینہ بے ضابطگی کا انکشاف ہوا، نوٹس کیوں نہ لیں۔ چئیرمین کمیٹی نے کہا وزارت توانائی پارلیمنٹ کو نظرانداز کر رہی ہے۔ اجلاس کے دوران پٹرولیم ڈویژن حکام کا کہنا تھا گزشتہ تین ماہ کے دوران صرف 35 ارب روپے کی ایل این جی خریدی گئی۔ پبلک اکاونٹس کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں عمر ایوب کو طلب کر لیا گیا، کمیٹی نے پٹرولیم ڈویڑن حکام کو معاملے پر آئندہ اجلاس میں مکمل تیاری کےساتھ دوربارہ طلب کر لیا۔ اس موقع پر سردار ایاز صادق نے کہا کہ شاہد خاقان نے ایل این جی منگوائی تو نیب نے گرفتار کر لیا کیا بروقت ایل این جی نہ منگوانے اور مبینہ بدعنوانی پر نیب ایکشن لے گا یا صرف شاہد خاقان کو پکڑنا تھا؟۔ رکن کمیٹی نور عالم نے اس موقع پر کہا کہ کیا قطر کے علاوہ کسی دوسرے ملک سے سستی ایل اینجی مل سکتی ہے؟ تو پٹرولیم ڈویژن حکام نے کہا کہ قطر سے ایل این جی خریداری کا معاہدہ منسوخ کرنے پر اربوں ڈالر نقصان کاخدشہ ہیتین حکومتی پاور پلانٹس کے ساتھ ایل این جی کا معاہدہ دوہزار اکیس کے دوران ختم ہو جائے گا پاور پلانٹس کے ساتھ ٹیک اینڈ پے کی بنیاد پر طویل مدتی معاہدہ تھا جو ختم کیا گیا۔اس وقت گیس کیمجموعی طب 3 ارب کیوبک فٹ ہے جبکہ مقامی سطح پر گیس کی پیداوار کم ہو رہی ہے آئندہ ہفتے کے دوران دوایل این جی ٹرمینل کی تعمیر کیلئے لائسنس جاری کر دیے جائیں گیتعبیر اور انر گیس دونوں ٹرمینل پورٹ قاسم پر تعمیر کیے جائیں گے ۔ آئی پی پیز کے ساتھ ٹیک اینڈ پے معاہدہ کے انکشاف پر رکن کمیٹی نوید قمر نے کہا کہآئی پی پیز کے ساتھ ٹیک اینڈ پے معاہدہ ہوا تو نیب کیسز کا خدشہ ہے اس پر مشاہد حسین سید نے کہا کہ نیب کے ڈر سے متعدد فیصلے بروقت نہیں لیے جاتے۔ چیئرمین کمیٹی رانا تنویر نے کہا کہ وزارت توانائی گیس خریداری کیلئے قیمت اور سپلائی کو مستحکم رکھنے میں ناکام ہے رکن کمیٹی راجہ ریاض نے کہا کہ کیا آپ کے ڈی جی آئل ویٹرنری ڈاکٹر ہیں؟ تو سیکرٹری پٹرولیم ڈویژن نے کہا کہ ڈی جی آئل ویٹرنری ڈاکٹر نہیں ہیں۔





Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں