ایم ایل ون منصوبہ، چین نے اضافی گارنٹیز سے متعلق خبروں کو بے بنیاد قرار دیدیا


بیجنگ(آن لائن ) چین نے ایم ایل ون پشاور سے کراچی تک ریلوے لائن کی اپ گریڈیشن اور دوہری لائن کی فنانسنگ کی منظوری دینے سے پہلے پاکستان سے اضافی گارنٹیز مانگنے کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیدیا۔ لیجیان ژاؤ کا بریفنگ کے دوران کہنا تھا کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) ایک اہم منصوبہ ہے، کورونا وباء کے دوران بھی منصوبے پر کوئی کام نہیں رکا اورنہ ہی نوکریوں میں کمی آئی ہے، منصوبوں میں تیزی سے کام جاری ہے، اس منصوبے کی وجہ سے پاکستانی معیشت میں استحکام بھی دیکھنے کو مل رہا ہے۔ انہوں نے

مزید کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان سی پیک جوائنٹ ورکنگ گروپآن انٹرنیشنل کارپوریشن اینڈ کوآرڈینیشن سے متعلق اجلاس گزشتہ ہفتے ہوا تھا، دونوں طرف سے منصوبوں پر اطمینان کا اظہار کیا تھا اور اگلے مرحلے کے دوران زراعت، انڈسٹری، سائنس ، ٹیکنالوجی کے منصوبوں پر بھی غور کیا گیا۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ سی پیک کے متعدد منصوبے مکمل ہو چکے ہیں اور کچھ منصوبوں پر کام جاری ہے۔ ان منصوبوں کی وجہ سے پاکستانی معیشت کو فائدہ ہو گا۔ چین بیلٹ اینڈ روڈ سمیت سی پیک پر سرمایہ کاری بھی بڑھا رہا ہے۔ چین اپنے تمام بی آر آئی پارٹنرز کو کورونا سے نمٹنے میں بھی مدد فراہم کر رہا ہے۔ خیال رہے کہ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بین نے کہا کہ ہم صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کے چین پاکستان اقتصادی راہداری کے مثبت جائزے سے پوری طرح اتفاق کرتے ہیں۔ ترجمان وانگ وین بین کا کہنا تھا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری ‘‘دی بیلٹ اینڈ روڈ’’ کا ایک پائلٹ پراجیکٹ ہے۔ 2013ء میں اس کے آغاز کے بعد سے اس نے مثبت ترقی کی رفتار برقرار رکھی ہے۔یہ بات چینی وزارت کیخارجہ ترجمان نے ایک پریس کانفرنس میں پاکستانی صدر کےچین پاکستان اقتصادی راہداری کی تعمیر کے بارے میں مثبت تبصرے پر سوال کا جواب دیتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی وبا کے بعد سے چین اور پاکستان اس کے چیلنجز پر قابو پانے اور راہداری کی تعمیر کو فروغ دینے کے لیے متحد ہو کر بھرپور کوششیں کررہے ہیں۔چینی ترجمان کا کہنا تھا کہ متعلقہ منصوبوں کی تعمیر رکنے کی بجائے بخوبی آگے بڑھ رہی ہے اور اس سلسلے میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، جس سے پاکستان کو کورونا وائرس کی وبا سے لڑنے اور معیشت کو مستحکم کرنے میں بھر پور تعاون اور مدد ملی ہے۔





Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں