ایک علاقے کا حاکم رات کو اپنے قلعہ نما محل میں واپس آیا تواس نے دیکھا کہ  اس کے محل کے دروازے پر پہرہ دینے والوں میں ایک شخص ناکافی کپڑوں  میں شدید سردی کی وجہ سے تھر تھر کانپ رہا تھا ، حاکم نے اس سے پوچھا کہ۔۔۔


ایک علاقے کا حاکم رات کو اپنے قلعہ نما محل میں واپس آیا تواس نے دیکھا کہ اس کے محل کے دروازے پر پہرہ دینے والوں میں ایک شخص ناکافی کپڑوں میں شدید سردی کی وجہ سے تھر تھر کانپ رہا تھا ، حاکم نے اس سے پوچھا کہ وہ شدید سردی میں ڈھنگ کے کپڑے کیوں پہنے ہوئے نہیں ہے؟
حضور اگر میرے پاس اس کے علاوہ بھی کوئی کپڑے ہوتے تو ضرور پہنتا ، غریب پہریدار نے جواب دیا ، اچھا ھم ابھی تمہارے لئے اندر سے گرم کپڑے بھیجتے ہیں ، یہ بات کہہ کر حاکم محل میں

چلا گیا اور پھر بھول گیا کہ وہ کسی سے کوئی وعدہ کر آیا تھا ، صبح منہ دھوتے ہوئے اچانک حاکم کو وہ ٹھٹھرتا ہوا غریب پہریدار یاد آیا ، وہ جب گیٹ پر آیا تو اس نے دیکھا کہ وہ غریب پہریدار محل کے مین گیٹ کے ساتھ مر کر سردی سے اکڑ گیا تھا ،مگر اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا کاغذ کا پرزہ دبا ہوا تھا ،جس پہ ٹیڑھے میڑھے انداز میں لکھا تھا ، بادشاہ سلامت! میں نے کئی سردیاں ایسے ہی کپڑوں میں گزار دی تھیں ،میں اس سردی کا عادی ہو گیا تھا اور اپنی بےلباسی سے سمجھوتہ کر لیا تھا ۔ میرے اندر امید کی ایک دھیمی سی چنگاری جلتی رہتی تھی جس کے سہارے میں جی رہا تھا ۔ آپ کے وعدے کی خوشی میں یہ ناچیز اس چنگاری سے غافل ھوا تو وہ بجھ گئی ، دوسری جانب آپ بھی اپنا وعدہ بھول گئے ۔ بادشاہ سلامت! بخدا مجھے سردی نے نہیں مارا ، آپ کے وعدے نے مارا ہے خدا را آئندہ ایسا قاتل وعدہ کسی اور غریب سے مت کیجئے گا ۔۔





Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں