براڈشیٹ کا دعویٰ درست ہوتا تو عدالت اسے ردنہ کرتی، حسین نوازبھی کھل کر بول پڑے


اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سابق وزیراعظم نواز شریف کے بیٹے حسین نواز نے کہا ہے کہ برطانوی عدالت میں براڈ شیٹ مقدمہ ایک سازش تھی جوناکام ہوئی۔ روزنامہ جنگ میں سعید نیازی کی شائع خبر کے مطابق حسین نواز نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ برطانوی ہائی کورٹ کیجانب سے ایون فیلڈ فلیٹ کی اٹیچمنٹ کی درخواست منظور نہ کئے جانے سے شریف فیملی کا یہ موقف درست ثابت ہوگیا ہے کہ انھوں نے کبھی کوئی غیرقانونی کام نہیں کیا اور ان کے اثاثے صاف ستھرے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ براڈ شیٹ نے لندن ہائی کورٹ میں موقف اختیار

کیا تھا کہ ایون فیلڈ کے 4 اپارٹمنٹس حکومت پاکستان کی ملکیت ہیں، کیونکہ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے اس مقدمے میں، جس میں نواز شریف کو آمدنی سے زائد اثاثے رکھنے کے الزام میں سزا دی گئی ہے، یہی فیصلہ دیا تھا، جب یہ معاملہ عدالت میں پہنچا تو اس دعوے کا کوئی ثبوت نہیں ملا، اس سے ثابت ہوگیا کہ دعویٰ درست نہیں تھا۔ انھوں نے کہا کہ اگر عدالت کو کوئی بھی غیر قانونی عنصر ملتا یا براڈ شیٹ کی درخواست کے مطابق فلیٹس اٹیچ کردیئے جاتے تو عمران خان اور ان کے ساتھی شور مچا دیتے کہ دیکھو عدالت نے فیصلہ دیدیا اور شریف فیملی پکڑی گئی لیکن اللہ تعالی بہت مہربان ہے اور اس نے لوگوں کی عزت اور احترام کی لاج رکھی۔





Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں