برطانیہ میں پاکستان کیخلاف نفرت انگیز شو معروف بھارتی چینل پر بھاری جرمانہ عائد


اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)برطانیہ کے میڈیا ریگولیٹر آفکام نے ٹی وی چینل ری پبلک بھارت ٹی وی(ورلڈ وائیڈ میڈیا نیٹ ورک لمیٹیڈ ) پر برطانیہ میں متنازعہ اینکر ارنب گوسوامی کے ایک شو میں پاکستان کے عوام کے خلاف نفرت انگیز تقریر نشر کرنے پر براڈکاسٹنگ کی سنگینخلاف ورزیوں کے الزام میں 20000 پونڈ جرمانہ عاید کیا ہے۔روزنامہ جنگ میں مرتضیٰ علی شاہ کی شائع خبر کے مطابق آفکام نے اعلان کیا کہ اس نے ری پبلک ٹی وی پر جس کی میزبانی گوسوامی کرتا ہے اپنے پروگرام پوچھتا ہے بھارت کے ایک شو میں پاکستانی عوام کے خلاف شدید جارحانہ

نفرت انگیز تقریر نشر کرنے پر جرمانہ عاید کیا ہے ،اس پروگرام میں پاکستانیوں کیلئے تضحیک آمیزلفاظ استعمال کئے گئے تھے ،ری پبلک بھارت چینل برطانیہ میں رہنے والے ہندی بولنے والی کمیونٹی کیلئے درجنوں دوسرے بھارتی اور پاکستانی نیوز اور انٹرٹینمنٹ چینلز کی طرح تازہ خبریں،حالات حاضرہ کے پروگرام نشر کرتا ہے ،آفکام نے ایک بیان میں اس نامہ نگار کو بتایا کہ ہم نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یہ ہمارے قواعد کی سنگین خلاف ورزی تھی جس پر قانونی قدغن لگائی جانی چاہئے۔اس میں 20, 000 پونڈ جرمانہ جو کہ ایچ ایم پے ماسٹر جنرل کو ادا کیاجائے گا ،اس بات کی ہدایت کہ آئندہ اس طرح کے پروگرام دوبارہ نشر نہیںکئے جائیں گے،اور آفکام کی جانب سے بتائی گئی تاریخ اور وقت پر آفکام کے فیصلے کو نشرکرنا شامل ہے۔گزشتہ سال 22 جولائی کو نشر کئے گئے پروگرام پوچھتا ہے بھارت میں ارنب گوسوامی اور اس کے مہمانوں جن میں 3 بھارتی اور3 پاکستانی شامل تھے بھارت کی جانب سےخلائی جہاز چندرایان 2 کوچاند پر بھیجے جانے کی کوشش کے بارے میں ایک مباحثہ نشر کیاگیاتھا ،جس میں پاکستان کے مقابلے میں بھارت کی خلا کی تسخیر اور دیگر ٹیکنیکل کامیابیوں ،مسئلہ کشمیر اور بھارت کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں میں مبینہ طورپر پاکستان کے ملوثہونے کے حوالے سے بات کی گئی تھی۔اس پروگرام میں میزبان اور اس کے بعض مہمانوں نے اس خیال کااظہار کیا کہ پاکستان کے عوام جن میں سائنسدان، ڈاکٹر اور ان کے لیڈرز ،سیاستداں یہاں تک کہ کھلاڑی سب شامل ہیں سب ہی دہشت گرد ہیں وہاں کا ہر بچہ دہشت گرد ہے۔آپ کا واسطہ ایک دہشت گرد ملک سے ہے،ایک مہمان نے پاکستانی سائنسدانوں کو چور بھی قرار دیا جبکہ ایک دوسرے نے پاکستانی عوام کو بھکاری کہا،میزبان پاکستان یا پاکستانی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم سائنسداں تیار کررہے ہیں اور تم دہشت گرد۔آفکام کاکہنا ہے کہ ہم ان بیانات کونفرت انگیز اور پاکستانی عوام سے صرف ان کی قومیت کی بنیاد پر عدم تحمل اور عدم برداشت کاحاملتصور کرتے ہیں،اور اس طرح کے بیانات نشر کرنا ناظرین کو پاکستانی عوام کے خلاف عدم تحمل پر اکسانے اور نفرت پھیلانے کے مترادف تصور کرتے ہیں۔پروگرام میں شریک ایک تیسرےمہمان جنرل سنہا نے کہاتھا کہ اوہ آپ بیکار لوگ ہو،ہم آزاد کشمیر آرہے ہیں، تیار رہنا۔انہوں نے اس گفتگو میں پاکستان کیلئے تضحیک آمیز الفاظ استعمال کئے اور حملہ کرنے کی دھمکیاں دیں، آفکام نے اپنے فیصلے میں کہاہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ باتیں بھارتی فوج کے ایک ریٹائرڈ جنرلنے کہی ہیں جس کے واضح مطلب یہ ہیں کہ وہ یہ دھمکی دے رہے ہیں کہ بھارتی فوج پاکستان کے شہریوں پر ان کے گھروں میں حملہ کرے گی ایک مقتدر شخصیت کی جانب سے لوگوں کو قتل کرنے کی خواہش کا اظہار نفرت کا اظہار ہے ،ہمارے خیال میں اس طرح کے بیانات نشرکئے جانے سے پاکستانی عوام کے خلاف عدم تحمل اورنفرت کو فروغ ملتا ہے ،آفکام نے کہا کہ اس مباحثے کا لب ولہجہ پاکستانیوں کو تحقیر آمیز القاب دینا اشتعال انگیزی ہے ،ہم نے یہ بھی نوٹ کیا ہے کہ پروگرام میں شریکپاکستانیوں کی بات چیت کے دوران مسلسل دخل اندازی کیجاتی رہی اور ان کو اپنا نقطہ نظر پیش کرنے جس سے ان باتوں کا جواب دیاجاتا بہت کم وقت دیاگیا ،آفکام نے کہا کہ اس پروگرام میں دیئے گئے بیانات نفرت اور پاکستانی عوام سے صرف ان کی قومیت کی بنیاد پر عدم برداشت پر مبنی تھے اوران سے پاکستانی عوام کے خلاف نفرت اور عدم برداشتکو فروغ ملا ،چینل کے مالک نے موقف اختیار کیا کہ لفظ پاکی جارحانہ نہیں ہے اور برصغیر میں اسے اس طرح نہیں برا تصور نہیں کیاجاتا ،لیکن آفکام کے خیال میں یہ منفی اصطلاح جو کہ پاکستانی عوام کے خلاف ان کی قومیت کے حوالے سے توہین آمیز سلوک کے طورپر استعمال کی جاتی ہےاور اس سے رول 3.3. 38 کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ری پبلک ٹی وی نے آفکام سے کہا کہ اس پر جرمانہ عاید نہ کیاجائے اور وہ وعدہ کرتاہے کہ آئندہ بھارت اور پاکستان کے بارے میں کوئی پروگرام نظرثانی اور ایڈٹ کئے بغیر اور برطانوی قوانین کے مطابق بنائے بغیر نشر نہیںکیاجائے گا لیکن آفکام نے ری پبلک ٹی وی کو لاپروائی اوربار بار قوانی کی خلاف ورزی کامرتکب پایا ،آفکام نے قرار دیا کہ ری پبلک ٹی وی پر نشر کیا گیا مواد برطانیہ میں پاکستانی کمیونٹی کیلئے ایک خطرہ ہیں اور خاص طورپر اس سے برطانیہ میں پاکستانی اور بھارتی کمیونٹیز کے درمیان موجود اچھے تعلقات کو نقصان پہنچ سکتاہے۔





Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں