بلند فشارِ خون کو بغیر دوائوں سے کیسے کنٹرول کیا جا سکتا ہے؟ اپنے پیاروں کیلئے جئیں، ماہرین کے مفید مشورے


کراچی(آن لائن)ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں ماہرین ِ امراض ِ قلب نے زور دیا کہ اپنے پیاروں کیلیے جئیں اور خاموش قاتل بلڈ پریشر کو زندگی سے دور رکھیں دنیا بھر کے 20فیصد افراد بلند فشارِ خون میں مبتلا ہیں، سوائے موروثیت کے بلڈ پریشر کے رسک فیکٹر ایسے ہیں، جنھیں کم کرنا ممکن ہے، اس لیے نمک ، چینی کا کم استعمال ، متوازن غذا، روزانہ ورزش کے ذریعےبلند فشارِ خون کو بغیر دوائوں کے کنٹرول کیا جاسکتاہے، بلند فشارِ خون پر قابو پاکر نہ صرف ہم اپنے پیاروں کے ساتھ زیادہ عرصے پیار کے ساتھ رہ سکتے

ہیں، بلکہ اسٹروک اور دل کے دورے، گردوں اور آنکھوں کو ناکارہ ہونے سے بچا سکتے ہیں، یہ باتیں ڈائو میڈیکل کالج کے آراگ آڈیٹوریم میں رتھ فائو سول اسپتال کارڈیولوجی ڈیپارٹمنٹ اور ہائپر ٹینشن لیگ کے اشتراک سے ورلڈ ہائپر ٹینشن ڈے کی مناسبت سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہیں، اس موقع پر چیئرمین ڈیپارٹمنٹ آف کارڈیولوجی رتھ فائو سول اسپتال پروفیسر نواز لاشاری، جنرل سیکریٹری پاکستان ہائپر ٹینشن لیگ پروفیسر اسحاق، جوائنٹ سیکریٹری پاکستان ہائپر ٹینشن لیگ پروفیسر عبدالرشید، اسسٹنٹ پروفیسر غلام عباس ، ڈاکٹر زریاب احمد اور ڈاکٹر فیصل احمد نے بھی خطاب کیا، اس موقع پر ماہرین نے کہا کہ بلڈپریشر ایک ایسا خاموش قاتل ہے، جس سے آپ کی زندگی کو خطرہ لاحق ہوتا ہے بلکہ یہ آپ کے بعض جسمانی اعضا کو متاثر کرکے عمر بھر کے لیے معذور بناسکتا ہے۔ ہیڈ آف کارڈیولوجی ڈیپارٹمنٹ پروفیسر نواز لاشاری نے ورلڈ ہائپر ٹینشن ڈے کی تھیم ہے کہ “بلڈ پر یشرکے خلاف اقدام کرو ، زندگی بڑھائوـ”۔ہماری زندگی بہت سے پیاروں کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، اس لیے ہم بلڈ پریشر کو کم رکھنے کے باعث زیادہ جی کر اپنے پیاروں کو زیادہ خوشیاں دے سکتے ہیں، من پسند اور متوازن غذا ، 30منٹ کیروزانہ واک “پھل ، سبزیوں کامناسب مقدار میں استعمال زندگی کو بڑھا تا ہے، بلکہ عمر بھر معذوری اور تکلیف سے بچاتا ہے۔سول اسپتال کے میڈیکل سپر ٹینڈینٹ پروفیسر نورمحمد سومرو نے کہا کہ سول اسپتال کراچی میں صوبے کے دور دراز مقامات سے امراضِ قلب کے مریض آتے ہیں، اس لیے اسپتال میں زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کی جارہی ہیں، تاکہ غریب مریضوں کو مکملطورپر مفت علاج مہیا کیا جا سکے، انہو ںنے اعلان کیا کہ کارڈیولوجی وارڈ کے آٹھ نو کروڑ روپے مالیت کی کیتھ میشن جلد فراہم کردی جائے گی اور دیگر جدید آلات و سہولتیں بھی مخیر حضرات اور سندھ حکومت کے تعاون سے فراہم کئے جائیں گے،اس موقع پر پاکستان ہائپر ٹینشن لیگ کے چیئر مین جنرل سیکریٹری پاکستان ہائپر ٹینشن لیگ پروفیسر اسحاق نے کہا کہ2005میں پہلی بارمحسوس کیا کہ بلند فشارِ خون وبا کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے، اس لیے عوامی آگہی کی اشد ضرورت ہے ، پاکستان میں کافی لوگوں کا بلڈ پریشر چیک کیا گیا، انہو ں نے کہا کہ پاکستانی سوسائیٹی میں بد قسمتی سے تعلیم کی کمی اور صحت کے متعلق عدم توجہی کے باعث بیماریاں جنم لے رہی ہیں، تاکید کے باوجود حفاظتی اقدامات پر عمل نہیں کیا جاتا، جس کے باعث دل ، ذیابیطس ،گردوں ، آنکھوں اور دوسرے امراض بڑھ رہے ہیں، ورزش نہ کرنے کے باعث موٹاپا تیزی سے بڑھ رہا ہے، جو بلند فشارِ خون کے ساتھ، ہارٹ اٹیک، گردوں کا ناکارہ ہونا، اندھا پن اور مختلف امراض کا سبب بن رہے ہیں، انہو ں نے ڈاکٹروں کو تاکید کی کہ اپنے مریضوں کے لیے وقت نکالیں ، ان کی مکمل بات سنیں، اس سے مریض میں کافی افاقہ ہوگا، کیونکہ بلند فشارِ خون کے مریض کومستقل دوا استعمال کرنی ہوتی ہے، اسلیے پہلے ہی روز مرہ کے معمولات کے ذریعے اس نہج پر پہنچنے سے بچا جائے، بلڈ پریشر ہونے کی صورت میں دوا کا استعمال ترک کرنے سے کسی بڑے حادثے کا شکار ہوسکتے ہیں، انہوں نے اس بات پر زرو دیا کہ جیسے بھی ممکن ہو اپنی زندگی سے ذہنی دبائو کو کم سے کم کیا جائے،سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر عبدالرشید نے کہاکہ روزانہ بلڈ پریشر چیک کرانا چاہیے، اس سے بچائو کا واحد طریقہ یہی ہے، بلڈ پریشر کے مریضو ں کے لیے ضروری ہے کہ ان کا بلڈ پریشر ٹھیک چیک کیا جائے، تاکہ ٹھیک ریڈنگ کی بدولت ، ان کا ٹھیک علاج کیا جاسکے، انہو ں نے کہا کہ معمولی بلڈ پریشر کو بھی ٹریٹ کیا جانا ضروری ہے، جو کسی بڑے مرض کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے، اگر بلڈ پریشر کے ساتھ دوسریبیماریاں موجود ہوں تو بلڈ پریشر کا باریک بینی سے مشاہدہ لازمی ہے، سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر زریاب احمد نے کہا کہ سب سے موزوں بات یہ ہے کہ مریض اپنا وزن گٹھائیں ، ایسے مریض جنہیں مایوکارڈئیل انفا کشن کا شکار ہوچکے ہوں ، وہ روزانہ بلڈ پریشر چیک کریں، موزوں دوا کا استعمال ہی مریض کو بڑے خطرے سے بچا سکتا ہے، انہو ںنے دوائوں کی مختلف اقساماور ان کے استعمال کے بارے میں حاضرین کو آگہی دی، انہو ں نے بتا یا کہ پہلے صرف ACE Inhibitorپہلی ڈرگ آف چوائس تھی، مگر اب میڈیکل سائنس کی ترقی کی باعث مختلف ادویات مریض کی کنڈیشن کے مطابق دستیاب ہیں، جن کا روز استعمال بلڈ پریشر کو کنٹرول میںرکھتاہے، انہو ںنے بتایا کہ اگر مریض کا بلڈ پریشرmg/dl 220ہوتو فوری طورپر ایمرجنسیمیں لے جائیں، تاکہ کسی بھی اسٹروک یا ہارٹ اٹیک سے بچا جاسکے، ایسے مریض کو تیسرے درجے کا مریض کہا جا تا ہے،سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فیصل نے بلند فشارِ خون کو دوا کے بغیر کنٹرول رکھنے میں بتایا، انہو ں نے کہا کہ بلڈ پریشر کو گھر میں جانچنا بہت ضروری ہے، اس مقصد کے کم سے کم 2ریڈنگ لیں جائیں، تمباکو نوشی، سگریٹ، چکنی، تلی ہوئیغذا کا استعمال نہ کریں، ایک روز میں 1000سے 1500mgکے درمیان نمک کا استعمال کریں، ذیابیطس کی صورت میں زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے، کیونکہ ذیابیطس میں خون میں ذیادہ شوگر ہونے کے سبب بلڈ پریشر بڑھ سکتا ہے، انہو ں نے کہا کہ عام طورپر 80/120mg/dlنارمل بلڈ پریشر ہوتا ہے،جو عمر کے مختلف حصوں میں مختلف نارمل تصورکیا جاتاہے، انہو ںنے آفس یا اسپتال میں بلڈ پریشر کی ریڈنگ کی نسبت گھر میں لی جانے والی ریڈنگ کو زیادہ relibleقرار دیا ، دی گئی ہدایات پر عمل کرنے کے باعث بلڈ پریشر کو 5سے دس سال سے تک دوا کے استعمال سے بچا جاسکتا ہے۔

موضوعات:

مولانا روم کے تین دروازے

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ….مزید پڑھئے‎

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ….مزید پڑھئے‎





Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں