بنی اسرائیل میں ایک عابد رہتا تھا، وہ ہر وقت عبادت الٰہی میں مشغول رہتا تھا  ایک مرتبہ انکے پاس چند لوگ حاضر خدمت ہوئے اور کہنے لگے، حضرت یہاں  ایک ایسی قوم رہتی ہے جو ایک درخت کی پوجا کرتی ہے، اگر ہو سکے تو۔۔۔


بنی اسرائیل میں ایک عابد رہتا تھا۔ وہ ہر وقت عبادت الٰہی میں مشغول رہتا تھا۔ ایک مرتبہ ان کے پاس چند لوگ حاضر خدمت ہوئے اور کہنے لگے۔ حضرت یہاں ایک ایسی قوم رہتی ہے جو ایک درخت کی پوجا کرتی ہے۔ اگر ہو سکے تو ان لوگوں کو اس درخت کی پرستش سے کسی طرح روک دیا جائے۔ یہ سن کر ان کو غصہ آیا اور کلہاڑا کندھے پر رکھ کر اس درخت کے کاٹنے کے لیے چل دیے۔راستے میںانہیں شیطان ایک بوڑھے آدمی کی شکل میں ملا۔ اس مردود نے ان سے پوچھا۔ جی! آپ کہاں جا

رہے ہیں؟ انہوں نے کہا، فلاں درخت کو کاٹنے کے لیے جا رہا ہوں۔ شیطان نے کہا، تمہیں اس درخت سے کیا واسطہ۔ تم اپنی عبادت میں مشغول رہو۔ ایک فضول کام کی خاطر اپنی عبادت کیوں چھوڑتے ہو۔ عبادت گزار نے کہا، یہ بھی عبادت ہے۔ شیطان نے کہا، میں تمہیں وہ درخت نہیں کاٹنے دوں گا۔ بالآخر دونوں میں مقابلہ ہوا۔ وہ عابد بہت جلد اس پر غالب آ گیا اور اس کے سینے پر چڑھ کر بیٹھ گیا۔ شیطان نے اپنے آپ کو بے بس دیکھ کر ایک اور چال چلی۔ اچھا ایک بات سن۔ عابد نے اسے چھوڑ دیا۔ شیطان کہنے لگا کہ اللہ نے تجھ پر یہ فرض تو نہیں کیا۔ تیرا اس سے کوئی نقصان نہیں ہے تو تو اس کی پرستش بھی نہیں کرتا۔ اللہ کے بہت سے نبی آئے اگر اللہ چاہتا تو وہ کسی نبی کے ذریعہ اس کو کٹوا دیتا، اس لیے میں یہی کہتا ہوں کہ تو اس کو کاٹنے کا ارادہ ترک کر دے لیکن عابد نے عزم صحیح کے ساتھ کہا کہ نہیں میں تو اس کو ضرور کاٹوں گا۔ یہ سن کر شیطان نے پھراس سے لڑائی شروع کردی اور وہ عابد پھر عزم صحیح کی برکت سے اس کے سینے پر چڑھ بیٹھا۔ اب شیطان نے ایک اور پینترا بدلا۔ وہ کہنے لگا کہ تو ایک غریب آدمی ہے۔ دنیا والوں پر بوجھ بنا ہوا ہے۔ اب میں فیصلہ کن بات کہتا ہوں کہ تو اس کام سے باز آ جا۔ میں تجھے تین دینار دے دیا کروں گا۔ جو روزانہ اپنے سرہانے سے مل جایا کریں گے۔اس رقم سے تیری اپنی ضروریات بھی پوری ہوں گی نادار لوگوں کی مدد بھی کرنا اور اپنے رشتہ داروں پر احسان بھی۔ اس طرح تمہیں بہت زیادہ ثواب ملے گا جب کہ درخت کاٹنے سے صرف درخت کاٹنے ہی کا ثواب ملے گا۔ اس سے زیادہ نہیں۔ اس عابد نے شیطان کی یہ بات مان لی۔ چنانچہ اسے اپنے تکیہ کے نیچے سے روزانہ تین دینار ملنا شروع ہو گئے۔ چند دنوں کے بعد وہ دینارملنا بند ہو گئے تو اسے پھر شیطان پر غصہ آیا اور پھر کلہاڑا اٹھا کر درخت کو کاٹنے کے لیے چل دیا۔ راستے میں وہی بوڑھا پھر ملااور پوچھا کہ اب کہاں جانے کا ارادہ ہے۔ عابد نے کہا کہ اسی درخت کو کاٹنے جا رہا ہوں۔ اس بوڑھے (شیطان) نے کہا کہ تو اس کو نہیں کاٹ سکے گا۔ چنانچہ اب پھر دونوں کے درمیان جھگڑا ہوا۔ اب کی بار وہ بوڑھا غالب آ گیا اور عابد کے سینے پر چڑھ گیا۔ عابد نے حیران ہو کر اس سے پوچھا کیا بات ہے کہ اس مرتبہ تو مجھ پر غالب آ گیا۔ شیطان نے کہا کہ پہلی مرتبہ تیرا غصہ خالصتاً اللہ کے لیے تھا۔ اس لیے اللہ نے تجھے غالب رکھا۔ اب چونکہ اس میں دیناروں کی لالچ کی آمیزش شامل تھی اس لیے میں تجھ پر غالب آ گیا۔





Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں