تاجر رہنماء کے بیٹے پر22گولیاں بر سا کر قتل پو لیس گر دی کی بد ترین مثال قرار، تاجروں نے کشمیر ہائی وے بند کر دی


اسلام آباد (این این آئی)اسلام آباد پو لیس کی جانب سے فائرنگ کے نتیجے میں قتل ہو نے والے تاجر رہنماء کے بیٹے اُسامہ ستی کی نماز جنازہ اسلام آبادمیں ادا کر دی گئی، جس میں مر کزی تنظیم تاجران پاکستان کے صدر محمد کاشف چوہدری سمیت جڑواں شہروں کے سینکڑوں تاجر وں اور شہر یوں نے شرکت کی، قبل ازیں مقتول کے لو احقین نے میت کو کشمیر ہائی وئے پر رکھ کر واقعےکے خلاف شدید احتجاج کیا اور پولیس اور انتظامیہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ اس موقع پر مر کزی تنظیم تاجران پاکستان کے صدر محمد

کاشف چوہدری نے اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں کی جانب سے نہتے شہری اُ سامہ ستی پر فائرنگ اور اس کے بہیمانہ قتل کی شدید الفاط میں مذ مت کر تے ہو ئے اسے ریاستی دہشت گردی قرار دیا ہے،انھوں نے کہا اسلام آباد پو لیس کے اہلکاروں نے نہتے شہری اور تاجر رہنماء پر 22گولیاں بر سا کر پو لیس گر دی کی بد ترین مثال قائم کی ہے جو کسی صورت قابل برادشت نہیں، اسلام آباد کے شہری اورتاجر برادری واقعے پر عدم تحفظ کا شکار ہو چکے ہیں،اسلام آباد کی تاجر برادری مطالبہ کر تی ہے کہ آئی جی اور ایس ایس پی اسلام آباد کو فوری طور پر معطل کیا جا ئے، اور اُسامہ ستی کے قتل کی جو ڈیشل انکوئری کی جائے تاکہ قتل کے اصل محرکات کو سامنے لا یا جا سکے۔ انھوں نے دہشت گردی کے اس وقعے میں ملوث اہلکاروں کے خلاف دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کی جائے،اسلام آباد انتظامیہ واقع میں ملوث پولیس اہلکاروں کو گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچائے تاکہ آئندہ کسی کو بھی وردی کی آڑ میں نہتے شہریوں پر گولیاں بر سانے کی جرات نہ ہو سکے۔واضح رہے کہ پولیس گردی کا شکار ہونیولے اسامہ ستی کے قتل کیخلاف جی نائن کراچی کمپنی کے تاجروں کی جانب سے فوری طور پر شٹر ڈان ہڑتال کا اعلان کر دیا گیا۔مقتول اسامہ ستیکی لاش کو سڑک پر رکھ کر احتجاج کا اعلان کیا گیا۔کراچی کمپنی کے تاجر راہنماؤں کی جانب سے دوکانداروں کو فوری دوکانیں بند کرنے کی ہدایت کر دی گئی۔پولیس گردی کیخلاف احجاج اور مقتول کے ورثا کیساتھ اظہاریکجہتی کیلئے کراچی کمپنی میں کاروبار بند ہونا شروع ہو گئے۔





Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں