جزیرے کسی قیمت پر نہیں دیں گے، سندھ حکومت نے وفاقی حکومت کے خلاف بڑا قدم اٹھا لیا


کراچی (این این آئی) سندھ اسمبلی نے بدھ کوسندھ کے جزائر سے متعلق حالیہ صدارتی آرڈیننس کے خلاف ایک قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی،وفاقی حکومت کے اتحادی جی ڈی اے نے بھی متنازع صدارتی آرڈیننس کی مخالفت کی اور قرارداد پر پی پی کا ساتھ دیا جبکہ، اس معاملے پر پی ٹی آئی کے ایک رکن سندھ اسمبلی شہر یار شر نے اپنی پارٹی پالیسی سے بغاوت کردی انہوں نےاپنی جماعت کے ارکان کی جانب سے ایوان کی کارروائی کے بائیکاٹ میں حصہ نہیں لیا اور ایوان میں موجود رہے۔ان کا کہنا تھا کہ میں اس دھرتی کا بیٹا

ہوں، سندھ ہماری ماں ہے اس لئے اس تحریک کی حمایت کرتا ہوں۔سندھ کے جزائر سے متعلق صدارتی آرڈیننس کے خلاف قرارداد سجاول سے تعلق رکھنے والے پیپلز پارٹی کے رکن محمد علی ملکانی اور محمود عالم جاموٹ نے پیش کی تھی۔ آئی لینڈ اتھارٹی آرڈیننس کیخلاف قرارداد پر پیپلزپارٹی ارکان نے بڑے جذباتی انداز میں دھوان دھار تقاریر کیں۔ صوبائی وزیر زراعت اسماعیل راہو نے اپنی تقریر میں کہا کہ شاہ عبد الطیف بھٹائی نے پہلے ہی کہا تھاکہ کبھی سندھ کے جزائر پر قبضہ ہوگا یہ بات آج سچ ثابت ہورہی ہے آج وہی ثابت ہورہا ہے۔آئین کے آرٹیکل 172 میں واضح ہے کہ صوبوں کی ملکیت کیا ہے۔ایوان صد راعلی ترین ہاو س ہے مگرانہوں یہ آرڈیننس جاری کردیا۔یہ کیا ظلم ہے؟کبھی یہاں گورنر راج کی بات ہوتی ہے۔کبھی کراچی پر قبضہ کی دہمکی دی جاتی ہے۔اب یہ آرڈیننس آگیا ہے ہم اس کو رد کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ کم عقل اور کم تجربہ کار لوگ ہیں لیکن خود کو عقل مند سمجھتے ہیں۔جی ڈی اے نے حمایت کی خوشی کی بات ہے۔اگر آپ وفاقی حکومت سے علیحدگی اختیار کریں تو اور بھی زیادہ خوشی ہوگی۔اسماعیل راہو نے کہا کہ یہاں بات ہوئی کہ این او سی جاری کیا گیا۔یہ منڈیٹ سندھ کے عوام کا ہے جو پیپلز پارٹی کے پاس ہے۔سندھ کسی کی جاگیر نہیں ہے۔آئین قانون کے خلاف فیصلوں کو ہم نہیں مانیں گے آج جو ہنگامہ کیا گیا تو ان کو معلوم تھا کہ یہاں کیا قرار داد آئے گی۔انہوں نے کہا کہ حالیہ بارشوں کے دوران ہمارے چیئرمین دا روز تک طبیعت خراب ہونے کے باوجود نکلے جبکہ وزیر اعظم آئے ہی نہیں۔وزیر اعظم جب کراچی آئے تو کسان انتطار کررہے تھے۔کسی اضلاع کسی تحصیل کا دورہ کرلیتے لیکنوزیر اعظم نے ایک لفظ تک نہیں بولا۔ صوبائی وزیر لائیو اسٹاک عبد الباری پتافی نے کہا کہ اس ایوان میں پاکستان کی قرارداد پیش ہوئی تھی۔جی ایم سید نے قرار داد پیش کی تھی۔افسوس ہے کہ ہم کس طرف جارہے ہیں۔ہم بلاول کے مشکور ہیں جو ہمیشہ سازشوں کے خلاف کھڑے رہے۔انہوں نے ثابت کیا کہ پیپلز پارٹی پاکستان کی زنجیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں کہیں نہیں لکھا کہ جزائروفاق کی ملکیت ہیں۔بارہ ناٹیکل میل تک صوبے کی حدود ہے۔یہ سندھ کا حصہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں مختلف انداز میں دھمکیاں دی جاتی ہے مگرہم اس کی پروا نہیں کرتے۔روزانہ نئے روپ سے سندھ پر حملہ کیا جاتا ہے۔یہ وہی سندھ دھرتی ہے جس نے پاکستان کی قرارداد پیش کی۔آج اسی پاکستان کی وفاق سندھ پر قبضہ کرنا چاہتی ہے۔آرڈیننس کو مسترد کرتا ہوں۔جی دی اے کے رکناسمبلی ڈاکٹر رفیق بھابھن نے کہا کہ یہاں ٹڈی دل نے فصلیں تباہ کردیں۔اسپتالوں میں ادویات نہیں ملتیں۔ایک قرارداد اس پر بھی لیکر ائیں۔انہوں نے کہا کہ سندھ کو برباد کرنے کا ٹھیکہ صرف سندھ حکومت کے پاس ہے۔تیرہ سال میں ایک ضلع بتا دیں جہاں تمام سہولیات موجود ہیں۔سندھ تباہ ہورہا ہے۔پیپلز پارٹی کے محمود عالم جاموٹ کا کہنا تھا کہ ہمارے جزائر پر قبضہ کیا جارہاہے،سندھ میں 300جزائر ہیں جن میں ڈنگی اور بھنڈار بھی شامل ہیں ان پر قبضہ کیا جارہا ہے،ان جزائر سے لاکھوں ماہی گیروں کا روزگار وابستہ ہے۔مشرف دور میں بھی ایسی کوشش کی گئی تھی جس پرپورے سندھ نے احتجاج کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ یہاں مینگروز موجود ہیں جن کو کاٹا جائے گا۔یہاں مچھلی کی افزائش ہوتی ہے۔ راجہ رزاق نے کہا کہ اب ہمارے جزائر پر قبضہ کیا جارہا ہے،کیا بلوچستان اورسندھ مقبوضہ علاقے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دونوں صوبوں میں اپنی اپنی حکومتیں موجود ہیں۔یہ تا ثر دیا جارہا ہے کہ سندھ کے رہنے والے غدار ہیں۔ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب تک وزیر اعلی کو اعتماد میں نہیں لیا جائے گا۔ہم اس طرح کے کسی منصوبے کو قبول نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ جی ڈی اے کے ارکان کم ازکم چوروں کی طرح بھاگ تو نہیں گئے۔ تحریک لبیکپاکستان کے مفتی قاسم فخری نے کہا کہ یہاں پر ترقی کی بات صرف ایک ڈھونگ ہے۔ڈیڑھ لاکھ نوکریوں کی بات غلط ہے۔جزائر کے حوالے سے صرف باتیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ دسویں اور نہم جماعت میں ختم نبوت کا پیرا نکالا گیا۔جس کا اعتراف سعید غنی نے بھی کیا تھا۔سعید غنی کو سامنے لائیں ورنہ سمجھا جائے گا کہ سعید غنی بھی اس میں ملوث ہے۔ جی ڈی اے کے رکن رزاق راحیموںنے کہا کہ اس سارے معاملے میں ہم وفاق کو تو قصور وار سمجھتے ہیں۔سندھ حکومت کی بھی مذمت کرتے ہیں لیکن سندھ کے مفاد کی خاطرہم اس قرارداد کی حمایت کرتے ہیں۔ رکن اسمبلی ریاض شاہ شیرازی نے کہا کہ ہم قرار داد کی حمایت کرتے ہیں۔اپوزیشن کے کچھ نے حمایت نہ کرکے سندھ دشمنی کا ثبوت دیا۔ جی ڈی اے کی خاتون رکن نصرت سحر عباسی نے کہا کہ میں مذمتکروں گی کہ ہمیں آج قرار داد پیش کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ جس پر اسپیکر آغا سراج درانی نے کہا کہ آپ کو جو بولنا ہے قرار داد پر بولیں۔نصرت سحر عباسی نے کہا کہ کیا ہمیں سندھ کا درد نہیں ہے؟آپ نے سندھ کی زمینوں کو کس طرح فروخت کیا۔یہاں کاغذات موجود ہیں کہ آپ نے جزائر سے متعلق وفاقی حکومت کو خود تحریری اجازت دی۔پوراسندھ جانتا ہے کہ آپ نے جزائر پر کیالکھ کر دیا تھا۔سندھ حکومت نے تھوک کر چاٹا ہے۔انہوں نے کہا کہ آئی جی کہاں جاتا ہے۔آپ کا آئی جی کون اٹھا کر لے گیا؟وزیر اعلی استعفی دیں۔ہمیں پوری دنیا میں شرمندہ ہونا پڑا ہے۔انہوں نے کہا ک کہ آپ کو بحریہ کے لوگوں کا درد کیوں نہیں۔وہ بھی سندھ کی زمین ہے۔ انہوں نے چیلنج کیا کہ وزیر اعلی اس قرارداد پر عمل بھی کرا کر دکھائیں۔ پیپلز پارٹی کی ہیر سوہونے کہا کہ جزائر جوبھی ہیں آئین کے مطابق اس صوبے کی ملکیت ہے۔ انہوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ آرڈیننس پر اپوزیشن نے ایک لفظ نہیں بولا۔انہوں نے نصرت سحر کی مداخلت پر کہا یہ بدتمیزی عورت ہے۔ جس پر نصرت نے کہا کہ آپ کو سندھ سے کیا محبت ہے۔ تحریک انصاف کے شہر یار شر نے اپنی پارٹی پالیسی سے بغاوت کرتے ہوئے اس قرارداد کی حمایت کی انہوں نےاپنی پارٹی ارکان کی جانب سے ایوان کی کارروائی کے بائیکاٹ کا بھی ساتھ نہیں دیا۔ان کا کہنا تھا کہ سندھ ہماری ماں ہے۔قرار داد کی حمایت کرتے ہیں۔ہمارے ضلع میں تباہی ہوئی۔ہم سندھ دھرتی کے پانی کی حمایت کریں گے۔انہوں نے کہا کہ مجھے پارٹی کی جانب سے بیان واپس لینے کا پریشر ڈالا جائے گا۔میرا یہ موقف ہے میں سندھ کا بیٹا ہوں۔میں یہ واپس نہیں لوں گا۔

موضوعات:

مولانا روم کے تین دروازے

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ….مزید پڑھئے‎

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ….مزید پڑھئے‎





Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں