جھکے میرے سامنے مانگے کسی اور سے؟


ایک دفعہ حضرت مرشد عالمؒ مسجد میں تشریف فرما تھے، پتہ نہیں کہ اس عاجز کے دل میں کیا بات آئی کہ عرض کیا کہ حضرت! آپ کو گھر تشریف لائے ہوئے کافی وقت ہو گیا ہے آپ وضو تازہ کرنے کے لیے تشریف لے جائیں، حضرتؒ نے مسکرا کردیکھا اور گھر تشریف لے گئے، اگلے دن بیٹھے ہوئے تھے پتہ نہیں کیا بات ہوئی کہ اس عاجز نے عرض کیا حضرت! کافی وقت ہو گیا ہے،آپ نے کھانا بھی نہیں کھایا، آپ کھانا کھا لیجئے، حضرتؒ پھر مسکرا پڑے اور گھر تشریف لے گئے، تیسرے دن پھر کوئی ایسی

بات ہو گئی تو حضرتؒ مجھے فرمانے لگے کہ دیکھو! ایک ایسا وقت آتا ہے کہ بندے کے دل میں کسی چیز کی ضرورت محسوس ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو مخلوق کے سامنے زبان سے سوال بھی نہیں کرنے دیتے بلکہ مخلوق کے دل میں ڈال دیتے ہیں اور وہ خود ان کو کہتے ہیں کہ آپ ہماری اس چیز کو قبول فرما لیجئے، پھر فرمانے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک ایسا وقت دے دیا ہے کہ اب مجھے مخلوق کے سامنے کسی چیز کو کہنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی، سبحان اللہ، اللہ رب العزت سے مانگتے مانگتے بندے پہ ایک ایسا وقت آ جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بندے کو مخلوق سے مانگنے کا موقع ہی نہیں دیتے، فرماتے ہیں کہ جس کا سر کبھی کسی غیر کے سامنے نہیں جھکا میں اپنے اس بندے کا ہاتھ کسی غیر کے سامنے کیسے پھیلنے دوں۔ نیم روز کی حکمرانی مچھر کے پر سے بھی کمتر ایک مرتبہ حاکم وقت نے شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کے نام ایک رقعہ لکھا کہ آپ لوگوں کو اللہ اللہ سکھاتے ہیں اور دور دراز سے آ کر لوگ آپ سے فیض یاب ہوتے ہیں، اس لیے میں نے خوش ہو کر آپ کو علاقہ نیمروز کا گورنر بنا دیا ہے۔ حضرت نے اسی رقعہ کی پشت پر اس کا ایسا جواب لکھ کر واپس بھیجا جو سونے کی روشنائی سے لکھنے کے قابل ہے۔ فرمایا: جب سے مجھے نیم شب کی حکمرانی ملی ہے تب سے میری نظروں میں نیمروز کی حکمرانی مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں ہے۔





Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں