حضرت رابعہ بصری تشریف فرما تھیں کہ خادمہ نے آ کر بتایا کہ باہر 5 مہمان ہیں،آپ نے فرمایا ان کو بٹھائیں اور کھانا کھلائیں  خادمہ نے عرض کیا کہ باورچی خانے میں تو صرف ۔۔۔


حضرت رابعہ بصری تشریف فرما تھیں کہ خادمہ نے آ کر بتایا کہ باہر کچھ پانچ مہمان ہیں۔ آپ نے فرمایا ان کو بٹھائیں اور کھانا کھلائیں۔ خادمہ نے عرض کی کہ باورچی خانے میں تو صرف ایک روٹی ہے اور مہمان چار پانچ ہیں۔ آپ نے فرمایا وہ ایک روٹی لے جاؤ اور باہر جا کر خیرات کر آؤ۔ اب میری اور آپ کی سوچ تو یہی کہتی ہے کہ ایک ہے تو باقیوں کا انتظام کیا جائے نہ کے جو ہےاسے بھی باہر دے دیا جائے خیر حکم تھا رابعہ بصری کا تو تعمیل کیسے نہ ہوتی۔ خادمہگئیں

اور وہ روٹی باہر جا کر خیرات کر آئیں۔ کچھ دیر بعد دروازے پر دستک ہوئی پوچھا دروازے پر کون ہے۔ آواز آئی میں فلاں بادشاہ کا غلام ہوں ہمارے آقا نے آپ کے لیے کھانا بھیجا ہے۔ خادمہ نے کھانا وصول کیا آپ نے کہا دیکھو کپڑا اٹھا کر دیکھا تو پانچ روٹیاں تھیں۔ آپ نے کہا نہیں یہ کسی اور کی طرف بھیجا ہو گا غلطی سے ہماری طرف آ گیا جاؤ جاؤ جلدی سے واپس کر آؤ۔ خادمہ گئیں اور کھانا واپس کر آئیں۔ کچھ دیر بعد دوبارہ دستک ہوئی۔ پوچھا دروازے پر کون ہے۔ آواز آئی میں فلاں بادشاہ کا غلام ہوں اور میرے آقا نے آپ کے لیے کھانا بھیجا ہے۔ خادمہ نے کھانا وصول کیا دیکھا تو سات روٹیاں تھیں۔ آپ نے کہا نہیں یہ کسی اور کی طرف بھیجا ہو گا غلطی سے ہماری طرف آ گیا جاؤ واپس کر آؤ۔ خادمہ جلدی سے گئیں اور کھانا واپس کر آئیں۔ کچھ دیر بعد دوبارہ دستک ہوئی۔ پوچھا من علی البابُ۔ دروازے پر کون ہے۔ آواز آئی میں فلاں بادشاہ کا غلام ہوں میرے آقا نے آپ کے لیے کھانا بھیجا ہے اور کہا ہے کہ آپ کو دے کر آنا ہے۔ خادمہ نے کھانا وصول کیا آپ نے دیکھا تو دس روٹیاں تھیں۔ ہاں ہاں یہ ہمارا ہی کھانا ہے جاؤ مہمانوں کو کھلا دو۔ آپ نے خادمہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ خادمہ نے عرض کی کہ پہلے جو لوگ آ رہے تھے وہ بھی یہی کہہ رہے تھے کہ یہ کھانا آپ کا ہے لیکن آپ نے واپس کر دیا۔ حضرت رابعہ بصری نے فرمایا میرا اللہ فرماتا ہے ایک نیکی کرو میں دس کا ثواب دوں گامیں نے اپنے اللہ سے کہا جب تک ایک کے بدلے دس نہیں دے گا تب تک تیری بندی یہ کھانا نہیں لے گی۔فرمایا گیا ہے کہایک ایسی امت ہو گی جو نیکی کا سوچے گی فرشتے اس کی نیکی لکھ دیں گے اور جب وہ نیکی کا کام کرے گی وہ ایک نیکی کرے گی میں دس کا ثواب عطا کروں گا





Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں