حضرت مولانا محمد انعام الحق قاسمی کہتے ہیں کہ ہمارے ایک ساتھی جو ڈاکٹر ہیں وہ ایک مرتبہ ملنے کے لیے آئے، کھانا وغیرہ سے فارغ  ہونے کے بعد ہم نے کہا کہ بھئی سو جائو، وہ کہنے لگے کہ۔۔۔


حضرت مولانا محمد انعام الحق قاسمی کہتے ہیں کہ ہمارے ایک ساتھی جو ڈاکٹر ہیں وہ ایک مرتبہ ملنے کے لیے آئے، کھانا وغیرہ سے فارغ ہونے کے بعد ہم نے کہا کہ بھئی سو جاؤ، وہ کہنے لگے کہ دیوار کے ساتھ تکیہ لگا دیں میں اوٹ لگا کے بیٹھ جاؤں گا، پوچھا کیوں؟ کہنے لگے
مجھے ایک مرض ہے، ہم جو کھانا کھاتے ہیں تو وہ ہماری خوراک کی نالی میں نیچے جاتا ہے، اللہ تعالیٰ نے درمیان میں ایک وول (Value) بنا دیا ہے، وائیپر (Viper) بنا دیا ہے، جب اوپر سے کھانا جاتا ہےتو کھل جاتا ہے

کھانا اندرچلا جاتا ہے، کھانا واپس آنا چاہے تو وہ بند ہو جاتا ہے وہ آنے نہیں دیتا، اس لیے کھانا کھا کر کوئی بندہ سر کے بل کھڑا ہو جائے تو یہ نہیں ہوتا کہ وہ منہ کے راستے سے نکل جائے، وہ وول گویا نن ریٹرن وول (None return value) ہے۔ کہنے لگا میرا وول لیک (Leak) ہو گیا ہے، میں ذرا لیٹتا ہوں تو میرے پیٹ میں جو کچھ ہوتا ہے وہ میرے منہ کے راستے باہر آ جاتا ہے، پچھلے کئی سالوں سے بیٹھ کر رات گزارتا ہوں، لیٹ کر سونے کا مزہ اب میں زندگی میں حاصل نہیں کر سکتا، اس دن مجھے احساس ہوا کہ یا اللہ لیٹ کر آرام کی نیند سو جانا کتنی بڑی آپ کی نعمت ہے۔





Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں