حفیظ سینٹر میں آتشزدگی کا افسوسناک واقعہ پر خاتون بلاگر نے بے حسی کی حد کر دی ایک طرف تاجر دھاڑیں مار کر روتے رہے ،دوسری جانب خاتون بلاگر جلتے پلازے کے سامنے فوٹو شوٹ کرواتی رہی


لاہور( این این آئی/مانیٹرنگ ڈیسک )گزشتہ روز صوبائی دارالحکومت لاہور کے علاقے گلبر گ میں واقع حفیظ سنٹر پلازے میں خوفناک آتشزدگی سے سینکڑوں دکانیں جل کر خاکستر ہو گئیں،،آتشزدگی کے دوران وقفے وقفے سے دھماکے بھی ہوتے رہے ، آتشزدگی کی اطلاع ملنے پر تاجر او ران کے عزیز و اقارب جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور تاجر اپنا کاروبار جلتا ہو ا دیکھ کردھاڑیں مار مار کر روتے رہے، تو دوسری جانب لوگوں کے کروڑوں کے نقصان کی فکر سے آزاد ہو کر فاطمہ ناصر نامی بلاگر اپنا فوٹو شوٹ کرواتی رہیں ، حفیظ سینٹر میں آگ لگنے کے

بعد تاجر ایک دوسرے کی ہمت بندھاتے رہے لیکن وہاں پر فاطمہ نامی بلاگر نے بے حسی کی انتہا کر ڈالی ، فاطمہ نامی بلاگر نے نہ صرف وہاں پر اپنی تصاویر بنوائیں بلکہ وہاں مزے لے لے کر کھانے بھی کاتیں رہیں ۔ فاطمہ ناصر کی تصاویر سوشل میڈیا پر آتے ہی صارفین خاتون پر برس پڑے ، کھری کھری سنادیں ۔ صارفین کا کہنا تھا کہ بلاگر ہونے کی حیثیت سے اگر آپ کو وہاں تک رسائی مل گئی تھی تو آپ کو چاہیے تھا کہ وہاں ان دھاڑیں مار کر روتے ہوئے لوگوں کی ہمت بندھاتی ، لیکن آپ نے بے حسی کی ساری حدیں ہی پار کر دیں ،آپ شرم آنی چاہیے ۔ صارفین نے فاطمہ ناصر کیخلاف ایکشن لینے کا مطالبہ کر دیا ۔واضح رہے کہ صوبائی دارالحکومت لاہور کے علاقے گلبر گ میں واقع حفیظ سنٹر پلازے میں خوفناک آتشزدگی سے سینکڑوں دکانیں جل کر خاکستر ہو گئیں،آتشزدگی سے کروڑوں روپے نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے ، اطلاعات کے مطابق آگ دوسرے فلور پر شارٹ سرکٹ سے لگی جس نے اوپر کے دو فلورز کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ، دکانوں میں موبائل فونز، لیپ ٹاپ ، کمپیوٹر ، بیٹریز ، کمپریسرز ، جنریٹرز اور ڈیزل موجود ہونے کی وجہ سے آگ نے شدت اختیار کی ،آتشزدگی کے دوران وقفے وقفے سے دھماکے بھی ہوتے رہے ، آتشزدگی کی اطلاع ملنے پر تاجر او ران کے عزیز و اقارب جائےوقوعہ پر پہنچ گئے اور تاجر اپنا کاروبار جلتا ہو ا دیکھ کر دھاڑیں مار مار کر روتے رہے ،ریسکیو اور فائر بریگیڈ کی درجنوں گاڑیاں کئی گھنٹوں تک آگ پر قابو پانے کیلئے کوشاں رہیںجبکہ بعد ازاں آرمی کی آگ بجھانے والی گاڑیاں بھی طلب کر لی گئیں ، تاجروں نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ریسکیو 1122اور فائر بریگیڈ کی گاڑیوں میں بار بار پانی ختم ہوتا رہا ، اگر آگ بجھانے کیلئے مکملانتظامات ہوتے تو اتنے وسیع پیمانے پر نقصان نہ ہوتا، وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار ریسکیو آپریشن کی خود مانیٹرنگ کرتے رہے ،تاجروں نے موقع پر پہنچنے والے صوبائی وزیرڈاکٹر یاسمین راشد سے تلخ کلامی کی اورحکومت کے خلاف نعرے بازی کی جس پر وہ وہاں سے روانہ ہو گئیں،ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ، کمشنر لاہور ڈویژن، ڈپٹی کمشنر ،ڈی جی ریسکیو ڈاکٹر رضوان نصیر،سی سی پی او لاہور، ڈی آئی جی آپریشنزسمیت دیگر اعلیٰ حکام بھی جائے وقوعہ پر موجود رہے ، حکومت نے آتشزدگی کی تحقیقات کیلئے کمیٹی تشکیل دیدی جبکہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے اعلان کیا ہے کہ تاجروں کے نقصان کا جائزہ لے کر اس کا ازالہ کیا جائیگا۔ تفصیلات کے مطابق گلبرگ میں واقع الیکٹرانکس کی مختلف اشیاء کے بڑے تجارتی مرکز حفیظ سنٹر کے دوسرے فلور پرصبح 6بجے کےقریب آگ بھڑک اٹھی جس نے دیکھتے ہی شدت اختیار کر لی ۔اطلاع ملنے پرریسکیو 1122، فائر بریگیڈ اور دیگر امدادی اداروں نے موقع پر پہنچ کر امدادی کارروائیوں کا آغاز کر دیا ۔آتشزدگی کی اطلاع پر حفیظ سنٹر میں کاروبار کرنے والے تاجر اور ان کے عزیز و اقارب بھی موقع پر پہنچ گئے اور محفوظ حصوں سے اپنا سامان نکال کر محفوظ مقام پر منتقل کرنا شروع کر دیا ۔ حفیظ سنٹرز میںموبائل فونز، کمپیوٹرز، لیپ ٹاپ ، بیٹریز ، کمپریسرزاور لوڈ شیڈنگ سے بچنے کے لئے جنریٹرز اور ڈیزل بھی موجود تھا جس سے آگ شدت پکڑتی گئی اور اس نے دوسرے کے ساتھ تیسرے اور چوتھے فلور ز کو بھی اپنی لپیٹ لے لیا ۔پلازے کی چھت پر پڑے ڈیزل کے ڈرموں نے بھی آگ پکڑ لی۔ آگ کی شدت بڑھنے پر موقع پر جمع ہونے والے تاجر اپنا کاروبار جلتا دیکھ کر دھاڑیں مار مار کر روتے رہےجبکہ ان کے عزیز و اقارب اور ساتھی انہیں دلاسہ دیتے رہے ۔ تاجروں نے الزام عائد کیا کہ ریسکیو کاعملہ جدید آلات سے لیس نہیں تھا جبکہ گاڑیوں میں بار بار پانی ختم ہوتا رہا جس کی وجہ سے آگ کی شدت میں اضافہ ہوا ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر ایڈیشنل چیف سیکرٹر ی مومن آغا ، کمشنر لاہور ڈویژن ذوالفقار گھمن، ڈپٹی کمشنر مدثر ریاض ملک اور ڈی جی ریسکیو ڈاکٹر رضوان نصیر موقع پرپہنچے اور امدادی کاموں کی نگرانی کرتے رہے جبکہ سی سی پی عمر شیخ ، ڈ ی آئی جی آپریشنز اشفاق بھی پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچے ۔ کچھ دیر بعد رینجرز کے جوان بھی حفاظتی ڈیوٹی کیلئے موقع پر پہنچ گئے ۔ سی سی پی او عمر شیخ نے کہا کہ پولیس کا یہاں آکر فرائض سنبھالنے کا مقصد ایسے صورتحال میں چوری جیسی وارداتوں کو روکنا ہے ۔صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد بھی جائے وقوعہ پر پہنچیںتاہم حادثے سے دلبرداشتہ تاجروں نے انہیں میڈیا سے گفتگو کرنے سے روکدیا اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی جس کی وجہ سے ڈاکٹر یاسمین راشد وہاں سے روانہ ہو گئیں ۔ صوبائی وزیر ڈیزاسٹر مینجمنٹ میاں خالد محمود اور صوبائی وزیر تعلیم ڈاکٹر مراد راس بھی جائے وقوعہ پر پہنچے اور امدادی کاموں کا جائزہ لیا۔آگ کی شدت بڑھنے پرحکومت کی جانب سے آرمی کی آگ بجھانے والی گاڑیاں بھی طلب کر لی گئی ۔ آگ پر قابو پانے کے لئے ریسکیو اور فائر بریگیڈ کی درجنوں گاڑیاں بھاری نفری کے ہمراہ امدادی کارروائیوں میں مصروف رہے۔ اس موقع پر دلبرداشتہ تاجر آپس میں بھی الجھ پڑے تاہم پولیس نے ان کے درمیان بیچ بچائو کرایا ۔ کمشنر لاہور ڈویژن ذوالفقار گھمن نے کہا کہ آتشزدگی کی وجوہات کاجائزہ لینے کے لئے ڈپٹی کمشنر لاہو رکی سربراہی میںکمیٹی بنا دی ہے جو چوبیس گھنٹوں میں رپورٹ پیش کرے گی ۔ کمیٹی میںایم سی ایل،ضلعی انتظامیہ،ریسکیو1122 کے افسران شامل۔کمیٹی آتشزدگی کے حقائق کو سامنے لا کر مستقبل میں ایسے واقعات کے تدارک کے لئے بھی سفارشات پیش کر ے گی ۔کمشنر لاہو رڈویژن کے مطابق ابتدائی معلومات کی بنا ء پر خدشہ ہے آگ شارٹ سرکٹ کی وجہ لگی اس کی تحقیقات ہوں گی ۔ سی سی پی او لاہور عمر شیخ کے مطابق متاثرہ پلازے سے 25 افراد کو ریسکیو کیا گیا ، پلازے کو 2 حصوں میں تقسیم کر کے پچھلے حصے کو آگ سے بچا لیا گیا ہے۔

موضوعات:

دعا

میرے پاؤں زمین پر گڑھ کر رہ گئے‘ میں آگے بڑھناچاہتا تھا لیکن مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میرے جسم سے ساری توانائی نکل گئی اور میں نے زبردستی ایک قدم بھی آگے بڑھانے کی کوشش کی تومیں جلے‘ سڑے اور سوکھے درخت کی طرح زمین پر آ گروں گا‘ میں چپ چاپ‘ خاموشی سے ان کے پاس ….مزید پڑھئے‎

میرے پاؤں زمین پر گڑھ کر رہ گئے‘ میں آگے بڑھناچاہتا تھا لیکن مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میرے جسم سے ساری توانائی نکل گئی اور میں نے زبردستی ایک قدم بھی آگے بڑھانے کی کوشش کی تومیں جلے‘ سڑے اور سوکھے درخت کی طرح زمین پر آ گروں گا‘ میں چپ چاپ‘ خاموشی سے ان کے پاس ….مزید پڑھئے‎





Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں