حکومتی بڑھتے ہوئے قرضے ملکی معیشت کے لیے نقصان دہ قرار،حکومت نے کتنے ارب ڈالر نیا قرضہ لیا؟ حیرت انگیز انکشاف


لاہور(این این آئی)تاجر رہنما انجمن تاجران لوہا مارکیٹ شہید گنج (لنڈا بازار)لاہورکے سینئر نائب صدرراجہ عدیل نے کہا ہے کہ حکومتی بڑھتے ہوئے قرضے ملکی معیشت کے لیے نقصان دہ ہیں ،اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق ستمبر 2018کو بیرونی قرض96ارب ڈالرز تھا موجودہ حکومت نے17ارب ڈالرز کا نیا غیر ملکی قرض لیا جس سے 30جون2020تک اس کا حجم113ارب ڈالرز رہا ،یہ قرضے تشویشناک اور قوم پر بوجھ ہیں کیونکہ ان قرضوں سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ان خیالات کا اظہار انہوںنے شہید گنج کے تاجروں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔راجہ عدیل اشفاق نے کہا

کہ ایک سال کے دوران بیرونی قرض میں7ارب ڈالرز اضافہ ہوا ،30جون 2019کو یہ106ارب ڈالرز تھا موجودہ حکومت نے آئی ایم ایف سے ایک ارب7کروڑ، کمرشل بینکوںسے ایک ارب20کروڑ اور مختلف ممالک سے3ارب 10کروڑ ڈالرز قرض لیا ۔انہوںنے کہا کہ آئی ایم ایف و دیگر اداروں سے قرض کے عوض ان کی شرائط پر قرضوں کی ادائیگی کے لیے بجلی، گیس ، پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کے ساتھ ساتھ صنعتی شعبہ و عوام پر مختلف ٹیکسوں کی بھر مار سے ملک میں ہوشربا مہنگائی بڑھ رہی ہے جو اب کنٹرول سے باہر اور عوام سڑکوں پر نکل آئی ہے ۔اس لیے حکومت مزید قرضوں سے اجتناب برتے اور عوام کو ریلیف دینے کیلئے مہنگائی کو کنٹرول کرے جس نے عوام کی قوت خرید مزید کم کردی ہے۔





Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں