خواجہ آصف کا گرفتاری کے بعد طبی معائنہ ڈاکٹروں نے سفر کیلئے مکمل فٹ قرار دیدیا


اسلام آباد /لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک /این این آئی)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما خواجہ آصف کا ڈاکٹروں نے طبی معائنہ مکمل کر لیا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ ن لیگ کے مرکزی رہنما خواجہ آصف کے طبی معائنے کے بعد ڈاکٹروں نے انہیں سفر کے لیے مکمل طور پر فٹ قرار دے دیا ہے۔نیب نے سابق وفاقی وزیر خواجہ محمد آصف کو نیب لاہور کی جانب سے مبینہ طور پر آمدن سے زائد اثاثہ جات کےکیس میں گرفتار کرلیا ہے۔ منگل کو نیب لاہور کے مطابق خواجہ آصف کی گرفتاری کے وارنٹ چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی جانب سے جاری

کئے گئے اور ملزم کو (آج) بدھ کواحتساب عدالت اسلام آباد کے روبرو ٹرانزٹ ریمانڈ کیلئے پیش کیا جائیگا،ملزم کیخلاف نیب قانون این اے او 1999 کی شق (v) اور اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کی سیکشن (3) کے تحت تحقیقات جاری ہیں۔ نیب لاہور کے مطابق ملزم خواجہ آصف نے مبینہ طور پر اپنی آمدن سے زائد اثاثہ جات بنائے جبکہ اثاثہ جات کی نوعیت، زرائع اور منتقلی کو بھی چھپایا،ملزم خواجہ آصف نے 1991 میں بطور سینیٹر عہدہ سنبھالا جو بعد ازاں مختلف ادوار میں وفاقی وزیر اور ایم این اے بھی رہے۔عوامی عہدہ رکھنے سے قبل 1991 میں انکے مجموعی اثاثہ خات 51 لاکھ روپے پر مشتمل تھے تاہم 2018 تک مختلف عہدوں پر رہنے کے بعد انکے اثاثہ جات 221 ملین تک پہنچ گئے جو انکی ظاہری آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے۔نیب لاہور کے مطابق ملزم خواجہ آصف نے یو اے ای کی ایک فرم بنام M/S IMECO میں ملازمت سے 13 کروڑ روپے حاصل کرنیکا دعوی کیا تاہم دوران تفتیش وہ بطور تنخواہ اس رقم کے حصول کا کوئی بھی ٹھوس ثبوت پیش نہ کر سکے۔نیب کے مطابق اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ملزم نے جعلی زرائع آمدن سے اپنی حاصل شدہ رقم کو ثابت کرنا چاہا۔نیب کے مطابق ملزم خواجہ آصف اپنےملازم طارق میر کے نام پہ ایک بے نامی کمپنی ” طارق میر اینڈ کمپنی” بھی چلا رہے ہیں جسکے بینک اکائونٹ میں 40 کروڑ کی خطیر رقم جمع کروائی گئی اگرچہ اس رقم کے کوئی خاطر خواہ زرائع بھی ثابت نہ کئے ۔نیب لاہور کے مطابق ملزم خواجہ آصف کی بیرون ملک ملازمت کا معاملہ عدالت عالیہ اور عدالت عظمی میں بھی زیر سماعت رہا،جہاں قرار دیا گیا کہ ملزم خواجہ آصف کےپبلک آفس رکھنے اور پرائیویٹ نوکری میں کوئی قانونی قدغن نہیں جبکہ نیب انکوائری کا مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ کیا خواجہ آصف کی ظاہر کردہ بیرونی آمدن آیا درست ہے یا نہیں۔نیب لاہور کے مطابق انکوائری میں ظاہر ہوا کہ مبینہ بیرون ملک ملازمت کے دورانیہ میں ملزم خواجہ آصف پاکستان میں ہی تھے جبکہ بیرون ملک ملازمت کے کاغزات محض جعلی زرائع آمدن بتانے کیلئےہی ظاہر کئے گئے۔ترجمان نیب لاہور کے مطابق ملزم خواجہ آصف بیرون ملک ملازمت سے حاصل آمدن کا کوئی کاغذی ثبوت بھی فراہم نہ کر سکے۔نیب حکام (آج) بدھ کوملزم خواجہ آصف کو احتساب عدالت اسلام آباد کے روبرو پیش کرینگے تاکہ انہیں ٹرانسٹ ریمانڈ کے حصول کے بعد لاہور منتقل کیا جا سکے۔





Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں