خواجہ آصف کیس میں اہم پیشرفت ، نیب نے لیگی رہنما کا ملازم ڈھونڈ لیا ملازم طارق میر کو کمپنی کاکتنے فیصد کا مالک بنا رکھا تھا ؟ تہلکہ خیز انکشافات


اسلام آباد( آن لائن )مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف کے مقدمے میں اہم پیشرفت سامنے آگئی۔ تفصیلات کے مطابق نیب ذرائع کی طرف سے دعوی کیا گیا ہے کہ ن لیگی رہنما خواجہ آصف کا بے نامی دار ملازم ڈھونڈ لیا ہے ، خواجہ آصف نے اپنے ملازم طارق میر کو کمپنی کا 50 فیصد کا مالک بنا رکھا ہے ، خواجہ آصف نے ملازم طارق میر کے نام پر 2009 میں کمپنی رجسٹرڈ کرائی ،مذکورہ فرم لوکل مارکیٹ سے چاول خرید کر بیرون ممالک ایکسپورٹ کرتی تھی ، نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ خواجہ آصف کے

ملازم طارق میر کو ان کے روبرو بیٹھا کر تفتیش کی جائے گی۔دوسری طرف نیب لاہورنے خواجہ آصف کے48 بینک اکاونٹس کا سراغ لگانے کا دعوی کردیا ، ان اکانٹس میں ایک ارب 45 کروڑ کی خطیر رقم جمع ہوئی، یہ بینک اکاونٹس خواجہ آصف، ان کی فیملی اور بینامی داروں کے نام سے کھلوائے گئے۔نیب ذرائع کے مطابق نیب لاہور نے مسلم لیگ ن کے پارلیمانی لیڈر خواجہ آصف کے 48 بینک اکاونٹس کے سراغ لگانے کا دعوی کرتے ہوئے کہا کہ ان ایک ارب 45 کروڑ خطیررقم جمع ہوئی ، یہ بینک اکاونٹس خواجہ آصف، ان کی فیملی اور بینامی داروں کے نام سے کھلوائے گئے، خواجہ آصف اور اس کی فیملی اراکین کے اکاونٹس میں 22 کروڑ 30 لاکھ کی رقوم جمع ہوئیں، خواجہ آصف سے دوران تفتیش بھاری رقوم اکاونٹس میں جمع ہونے پر پوچھا جائیگا، خواجہ آصف سے بینامی داروں کے اکاونٹس میں رقوم اور تعلق کا پوچھا جائیگا۔یاد رہے یکم جنوری کو احتساب عدالت نے مسلم لیگ (ن ) کے مرکزی رہنما خواجہ آصف کو 14روزہ کے جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کر رکھا ہے ، پراسکیوٹر کے مطابق ملزم کیخلاف اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کی سیکشن (3) کے تحت تحقیقات جاری ہیں تاہم قبل 1991 میں ا اثاثہ خات 51 لاکھ روپے پر مشتمل تھے ، 2018 تک مختلف عہدوں پر رہنے کے بعد انکے اثاثہ جات 221 ملین تک پہنچ گئے جو انکی ظاہری آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے ، خواجہ آصف اپنے ملازم طارق میر کے نام پہ ایک بے نامی کمپنی ” طارق میر اینڈ کمپنی” بھی چلا رہے ہیں ، بینک اکائونٹ میں 40 کروڑ کی خطیر رقم جمع کروائی گئی ، خواجہ آصف بیرون ملک ملازمت سے حاصل آمدن کا کوئی کاغذی ثبوت بھی فراہم نہ کر سکے، ملزم کے وکیل مطابق پی ٹی آئی کے رہنما عثمان ڈار کے کہنے پر انکوائری شروع کی گئی ۔





Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں