سانحہ مچھ شہدا کمیٹی نے وزیراعظم کا شہدا کی تدفین کا مطالبہ مسترد کر دیا، نہ آنے کی صورت میں لاشوں کے ساتھ اسلام آباد میں لانگ مارچ کا اعلان


کوئٹہ(آ ن لائن) سانحہ مچھ شہدا کمیٹی نے وزیراعظم کا شہدا کی تدفین کا مطالبہ مسترد کر دیا۔تفصیلات کے مطابق سانحہ مچھ کے شہدا کے لواحقین کا دھرنا چھٹے روز بھی جاری ہے۔ سانحہ مشھ کے مظاہرین نے لاشوں کی تدفین کو وزیراعظم عمران خان کی آمد سے مشروط کیا تھا لیکن وزیراعظم عمران خان نے ہزارہ برادری کو واضح پیغامدیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کو اس طرح بلیک میل نہیں کیا جا سکتا، ہزارہ برادری آج ہی تدفین کرے میں گارنٹی دیتا ہوں آج ہی کوئٹہ جاں گا۔لیکن شہدا کمیٹی نے میتیوں کی تدفین نہ کرنے کا فیصلہ کیا

ہے۔ سانحہ مچھ شہدا کمیٹی نے وزیراعظم کا شہدا کی تدفین کا مطالبہ مسترد کر دیا۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ سانحہ مچھ کی شہدا کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ دھرنا جاری رہے گا اور تدفین بھی نہیں کی جائے گی۔ان کا کہنا ہے کہ میتیں دفنانا ہوتی تو شدید سردی میں دھرنا دینے کی ضرورت کیوں پیش آتی۔شہدا کمیٹی کے ممبران آغاز رضا نے اعلان کیا کہ وزیراعظم نہ آئے تو لاشوں کے ساتھ اسلام آباد میں لانگ مارچ کریں گے۔ گذشتہ روز بھی مچھ میں شہدا کمیٹی کے ممبران آغاز رضا نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت کی طرف سے 3 نمائندے مذاکرات کے لیے آئے۔ شہدا کے اہل خانہ نے حکومتی نمائندوں کے سامنے اپنے مطالبات رکھے۔ شہدا کے ورثا اپنی مرضی سے میتیں یہاں لائے۔شہدا کے لواحقین جو کہیں گے اسی کو لے کر آگے چلیں گے۔ مجلس وحدت المسلمین کے مرکزی رہنما آغا رضا کا کہنا تھا کہ عمران خان کی آمد تک دھرنا جاری رکھیں گے۔ اگر عمران خان دھرنے میں نہ آئے تو شہدا کے جنازوں کے ساتھ اسلام آباد مارچ کریں گے۔ پریس کانفرنس سے خطاب میں امان اللہ کا کہنا تھا کہ ہمحکومت وقت کے خلاف ہیں نہ کسی سیاسی پارٹی کے۔دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مچھ واقعہ پرہزارہ برادری کے تمام مطالبات مان لیے ہیں،وزیراعظم کی آمد سے تدفین کو مشروط کرنا مناسب نہیں، آپ تدفین کردیں میں ضرور پہنچوں گا، کسی بھی ملک کے وزیراعظم کو اس طرح بلیک میل نہیں کرتے ورنہ ہر کوئیبلیک میل کریگا، خاص طور پر ڈاکوں کا ایک ٹولہ ڈھائی سال سے کرپشن کیسز معاف کرنے کے لیے بلیک میل کررہا ہے،بھارت پاکستان میں فرقہ وارانہ انتشار پھیلانا چاہتا ہے، کراچی میں علما کا قتل اور مچھ واقعہ بھی اسی سازش کا حصہ ہے، خفیہ ایجنسیوں نے چار بڑے واقعات کو رونما ہونے سے روکا، کابینہ میں بتایا تھا علما کو قتل کرکے انتشار پھیلایا جائیگا، بڑی مشکل سے ہم نے آگ بجھائی۔





Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں