سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں اضافہ کر دیا گیا


کراچی(مانیٹرنگ +این این آئی) سندھ حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں اضافہ کر دیا ہے،سرکاری ملازمین کیلئے یوٹیلٹی الاؤنس کی فراہمی کے ذریعے تنخواہوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے، وزیراعلیٰ سندھ نے صوبہ سندھ کے سرکاری ملازمین کو یوٹیلٹی الاؤنس دینے کی منظوری دے دی ہے۔تحریری حکم نامہ جاری کر دیاگیا ہے، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ سرکاری ملازمین کو یوٹیلٹی الاؤنس قوانین کے تحت دیا جائے۔ واضح رہے کہ سندھ اسمبلی نے پارلیمانی سیکریٹریز کی مراعات اور تنخواہوں میں اضافے کا ترمیمی قانون منظور کرلیا،اپوزیشن کی جانب سے بھی ترامیم کی مخالفت نہیں

کی گئی۔ایوان کی کارروائی کے دوران تین سرکاری بل بھی متعارف کرائے گئے جن میں نشہ آور اشیاپرکنٹرول سندھ ترمیمی بل 2021،سندھ چائلڈ تحفظ اتھارٹی ترمیمی بل 2021 اور لیٹرزآف ایڈمنسٹریشن اینڈسکسیشن سرٹیفکیٹس بل 2021 شامل ہیں۔ منظور کئے جانے والے پارلیمانی سکریٹریز کے ترمیمی بل کے تحت سندھ میں پارلیمانی سیکریٹری کی سرکاری مراعات،الاونسز میں اضافہ کیاجائیگا اب پارلیمانی سیکریٹری کو 50ہزار روپے کا خصوصی الاونس دیاجائیگااور انہیں رکن سندھ اسمبلی کے طور پر تنخواہ،،مراعات ملیں گی۔پارلیمانی سیکریٹری کو سرکاری گاڑی بمعہ ڈرائیور بھی دیاجائیگا۔پارلیمانی سیکریٹری کو دس ہزار روپے کا خصوصی الاونس بھی ملے گا۔پارلیمانی سیکریٹری کے لئے اعزازیہ کی رقم 150سے بڑھا کر ایک ہزار روپے کی جائیگی۔پارلیمانی سیکریٹری کو گریڈ 21کے مساوی 45ہزار روپے ماہانہ ہاوس رینٹ الاونس بھی دیا جائے گا۔پارلیمانی سیکریٹری سندھ سرکاری دورے پر فضائی سفر کا ٹکٹ بھیحق دار ہوگا۔انہیں بیرون ملک دورے کی صورت گریڈ 21کے مساوی رقم ملے گی۔سندھ پارلیمانی سیکریٹریز مراعات ایکٹ کا اطلاق اگست 2018سے ہوگا۔سندھ میں پیپلزپارٹی کے 5ارکان بلدیات،صحت،قانون،آبپاشی،زکوا وعشر کے پارلیمانی سیکریٹریز ہیں۔پنجاب میں پارلیمانی سیکریٹری کی تنخواہ مراعات پانچ لاکھ تک ہے۔وزیر پارلیمانی امور مکیش کمار چالہنے ترمیمی بل پیش کرتے ہوئے کہا کہ مراعات میں اضافے سے سرکاری خزانے پر فرق نہیں پڑیگا۔تاہم ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی محمد حسین نے کہا کہ ایک طرف توسندھ حکومت خود کہتی ہے کہ وسائل کی کمی ہے دوسری جانب پارلیمانی سیکریٹری کی مراعات میں اضافہ کردیا گیا جو غلط ہے۔بعدازاں سندھ اسمبلی کا اجلاس کل جمعہ کی دوپہر ڈھائی بجے تک ملتوی کردیا گیا۔





Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں