سندھ حکومت نے گندم کا بحران پیدا کرکے وفاق کو گندم کے معاملے میں بلیک میل کرنے کی کوشش کی، حیران کن انکشاف


حیدرآباد(این این آئی)سندھ اسمبلی میں پی ٹی آئی کے اپوزیشن لیڈر فردوس شمیم نقوی نے الزام لگایا ہے کہ سندھ حکومت نے گندم کا بحران پیدا کرکے وفاق کو گندم کے معاملے میں بلیک میل کرنے کی کوشش کی، سندھ کے عوام کو وفاق کے خلاف بھڑکایاگیا، حیدرآباد میں یونیورسٹی کا منصوبہ سندھ حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہے، وفاق سندھ سے کوئی چیز نہیں جارہی،کووڈ کے دوران تاجر برادری سے سندھ حکومت نے زیادتی کی۔وہ قاسم آباد بزنس فورم کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کررہے تھے، اس موقع پر فورم کے صدر

انجینئر رحمت اللہ ساند، پی ٹی آئی لیڈیز ونگ کی صدف شیخ، انیسہ ولی اللہ بھی موجود تھیں۔فردوس شمیم نقوی نے کہاکہ سندھ کے لوگوں کو وفاق کے خلاف بھڑکایا گیا ہے گندم کا بحران سندھ حکومت نے پیدا کیا اور وفاق کو گندم کے معاملے پر بلیک میل کرنے کی کوشش کی گئی، انہوںنے کہاکہ سندھ کے جزائر سندھ میں ہی رہیں گے کوئی کرین سے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر سکتا، انہوںنے کہاکہ سندھ حکومت عوام کو وفاق کے خلاف بھڑکا کر اپنی ناکامیوں پر پردہ نہیں ڈال سکتی کووڈ کے دوران تاجر برادری سندھ حکومت نے زیادتی کی بازار بند کیئے گئے، کوڈ ایک حقیقت ہے لیکن اسی احتیاط سے نمٹنا ہے حکومت وقت کو تاجروں اور عوام کا سہارا بنا ہے، انہوںنے کہاکہ جس طرح پی ٹی آئی نے کوڈ کے دوران 63 ارب روپے عوام میں تقسیم کیئے، پی ٹی آئی کے کووڈ اقدامات کو دنیا نے قدر کی نگاہ سے دیکھا ہے انہوںنے کہاکہ میرا دورہ حیدرآباد کا مقصدتاجر برادری کے مسائل سنا تھا ان کو حل کرنے کے لئے سندھ اسمبلی میں بھی آواز اٹھائیں گے جبکہ وفاق اپنی جگہ کوشش کررہی ہے لیکن اصل کام صوبائی حکومت ہے کہ وہ تاجروں کے مسائل کو حل کرے، انہوںنے کہاکہ میں تاجروں سے بجٹ تجاویز لینے آیا ہوں وفاق سے ان مسائل پر بات کروں گا، انہوںنے کہاکہ ایک جماعت 13سال سے رورہی ہے کہ اس کا ایک رہنما بیمار ہے اور اس بیماری کا ایک نظارہ حیدرآباد شہر بھی ہے، انہوںنے کہاکہ وفاق نے حیدرآباد میں یونیورسٹی کا منصوبہ بنایا تھا جو سندھ حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے یہ منصوبہ تاخیر کا شکار ہے، ایک سوال پر انہوںنے کہاکہ تجاوزات کے حوالے سے جب تک حکومت بہتر حکمت عملی نہیں بنائے گی مسائل حل نہیں ہوں گے ‘بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو پیٹ کنٹرول کرنا ہوگا۔





Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں