شادی کیلئے پاکستان آنے والی آذربائیجان کی خاتون کو دھوکہ دے کر 10 سال تک زبردستی دھندا کروایا جاتا رہا؟افسوسناک انکشافات


اسلام آباد(مانیٹرنگ +آن لائن) آذر بائیجان سے تعلق رکھنے والی خاتون جو شادی کے لئے پاکستان آئی تھی اس کے علاوہ اس سے کہا گیا تھا کہ وہاں ملازمت بھی دی جائے گی لیکن اسے دھوکہ دے کر دس سال تک زبردستی عصمت دری کا دھندا کرایا جاتا رہا، خاتون کی ایک دوست کی مدد سے اس گروہ کے ہاتھوں سے نکل گئی، اب عدالت نے خاتون کو اس ملک واپس بھیجنے کا حکم دیا ہے۔عدالت میں دائر درخواست کے مطابق 2011 میں اسے پاکستان میں شادی اور ملازمت کا جھانسہ دے کر لایا گیا اور بعد ازاں اسے شرمناک

کام پر مجبور کر دیا گیا۔خاتون نے انکشاف کیا کہ اسے اس کی ایک ہم وطن خاتون نے ہی پاکستان بلایا اور بعد ازاں آذر بائیجان سے تعلق رکھنے والی ایک دوسری خاتون کے حوالے کر دیا جس نے اس کا پاسپورٹ اور دیگر کاغذات پھاڑ دیے اور اس شرمناک کام پر مجبور کیا۔تین سال اسلام آباد میں اس شرمناک کام کے بعد اسے کراچی میں ایک اور اس کی ہم وطن کے ہی حوالے کر دیا گیا اور اس سے ایک لاکھ روپے لئے گئے۔ خاتون نے انکشاف کیا کہ اس کا شوہر ایک پاکستانی ہے، خاتون نے 2019ء میں وہاں سے بھاگ کر ایدھی سینٹر میں پناہ لی۔یاد رہے کہ اسلام آبادہائیکورٹ کے جسٹس محسن اخترکیانی نے آذربائیجان کی لڑکی کی واپس جانے کی درخواست منظور کرتے ہوئے لڑکی کو6نومبر سے قبل واپس بھیجنے کا حکم دے دیا۔گذشتہ روز سماعت کے دوران ایدھی فاونڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی عدالت کے سامنے پیش ہوئے درخواست گزار وکیل نے کہاکہ لڑکی کی واپسی کے لیے ایک ہزار ڈالر کا خرچہ ایدھی فاؤنڈیشن اٹھائے گی۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ جو کام ریاست کا تھا وہ ایدھی فاؤنڈیشن کر رہی ہے۔وکیل نے کہاکہ فیصل ایدھی بتارہے تھے کہ دو سال سے وزارت داخلہ کے چکر لگا رہے تھا لیکن کچھ نہیں ہوا۔ڈائریکٹر لیگل ایف آئی اے نے کہاکہ کراچی آفسکو ہم نے لکھا ہے وہ اس معاملے کو دیکھیں گے جس پر عدالت نے استفسارکیاکہ ابھی اگر یہ چلی جائے گی تو ایف آئی اے انکوائری کیسے کرے گی،لڑکی کے واپس جانے کے باوجود تفتیشی افسر اس کو ویڈیو لنک کے ذریعے بیان لے سکے گا،جتنے لوگ ایسے کام میں ملوث ہیں۔ سب کے خلاف ایف آئی اے نے کارروائی کرنی ہے،عدالت نے مذکورہ بالا ہدایات کے ساتھ درخواست منظور کرلی۔ بعد ازاں ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے زبردستی شرمناک کام کے لیے پھنسی مزید لڑکیوں کی بازیابی کا حکم دیا ہے،عدالتی حکم کے بعد یہ لڑکی چھ نومبر تک اپنے ملک واپس جاسکتی ہے،یہ لڑکی دوسال قبل ایدھی ہوم کراچی آئیتھی، لڑکی سے جبری طور پر غلط کام کروایا جارہا تھا لڑکی ہمارے پاس آئی تو واپس آزربائجان بھجوانے کے لیے کوششیں کیں، پولیس کو بتایا کہ لڑکی کا پاسپورٹ ضبط کرکے شرمناک کام کروایا گیا،اب عدالت کے حکم پر لڑکی کو اس کے وطن بھیجا جاسکے گا،لڑکی کو عارضی پاسپورٹ بھی مل چکا ہے۔





Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں