شہید تو مزدور ہوئے ہیں لیکن رہائی کا مطالبہ کچھ دہشتگردوں کا کیا گیا،سینئر صحافی کا حیران کن دعویٰ


اسلام آباد، کوئٹہ (مانیٹرنگ ڈیسک، آن لائن)سینئر صحافی اورتجزیہ کار ارشاد عارف نے کہا ہے کہ متاثرین کے مطالبات جائز ہیں۔جوایگرمینٹ میں نے دیکھا ہے اس کے مطابق ان کے مطالبات مان لیے گئے ہیں۔معاہدے میں ڈیمانڈ کی لسٹ کو دیکھا جائے تو شہید تو مزدور ہوئے ہیںلیکن مطالبہ یہ ہے کہ فلاں فلاں کو رہا کیا جائے۔ایک حادثہ ہوا تھا اس میں جو لوگ پکڑے گئے جو دہشت گرد ہیں ان کی رہائی کا مطالبہ ہو رہا ہے،کوئٹہ میں غیر ملکی موجود ہیں ،انہوں نے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بھی بنوا لیے ہیں جن کو حکومت نے بلاک کیا

ہے ان کی بحالی کا بھی مطالبہ کیا جا رہا ہے۔تربت میں 13 سرائیکی شناختی کارڈ دیکھ کر ماضی میں شہید کیے گئے۔اس کے بعد پنجابی، پشتون بھی شہید کیے گئے لیکن انہوں نے تو لاشیں رکھ کر احتجاج کیا نہ سڑکیں بلاک کیں۔وزیراعظم نے بلیک میلنگ کا لفظ متاثرین نہیں بلکہ منتظمین کے لیے استعمال کیا ،دریں اثنا شہید بلال نورزئی کے والد شراف الدین خان نورزئی نے ہزارہ برادری کے دھرنے کے مطالبات میں 8ویں مطالبے سے متعلق وضاحت کامطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ ایف آئی آر میں نامزد دہشتگردوں کی رہائی کامطالبہ دہشتگردوں کی پشت پناہی کے مترادف ہے،حکومت،عدلیہ سمیت تمام ادارے ہمارے لئے قابل احترام ہے اگر بے دردی سے قتل کئے گئے بلال شہیدکے قاتلوں کو رہا کیا گیا تو میں گورنرہائوس یا بلوچستان ہائی کورٹ کے سامنے اپنی اہلیہ اور بچوں کے ہمراہ خودسوزی کروں گا۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے اپنے ایک ویڈیوپیغام میں کیا۔ پیغام میں شہید بلال نورزئی کے والد شراف الدین نورزئی نے وزیراعظم عمران خان اور تمامسیاسی جماعتوں کے قائدین سے اپیل کی کہ شہید بلال کے والدین پر کیا گزرتی ہے جب سارا دن بلال کی تصاویر سوشل میڈیا پر گردش کررہے تھے،تمام سیاسی جماعتیں دھرنے کے منتظمین سے دریافت کرے کہ مطالبات میں شامل 8واں مطالبہ کس بنیاد پر ڈالا گیاہے،جب نامزد ملزمانجنہوں نے اقبال جرم بھی کیاہے اور مطالبہ کیاجارہاہے کہ ایسے مجرمان جنہوں نے بے دردی سے میرے بیٹے کو شہید کردیا کو رہا کیاجائے،میں قطعاً اس کی اجازت نہیں دوں گا، دنیا کی تاریخ میں کہیں بھی ایسا مثال نہیں ملتی جہاں سینکڑوں لوگوں نے بے دردی سے بلال کو قتل کردیا،انہوں نے کہاکہ جن لوگوں کی رہائی کامطالبہ کیاجارہاہے وہ دہشتگرد ہیں اور دہشتگردوں کی رہائی کامطالبہ دہشتگردوں کی پشت پناہی کے مترادف ہے،اگر دھرنے کے منتظمین کا8واں مطالبہ تسلیم کرلیا گیا تو میں میری اہلیہ بچوں سمیت گورنر ہائوس یا بلوچستان ہائی کورٹ کےسامنے خود پر پیٹرول چھڑک کرآگ لگالیں گے،انہوں نے کہاکہ ہم قانون اور تمام اداروں کااحترام کرتے ہیں ہم نے حکومت اور اداروں پر بھروسہ کیاہے گزشتہ 7ماہ سے انصاف کی امید لگائے بیٹھا ہوں،ہمارا کوئی دوسرا مطالبہ نہیں ہمارا صرف ایک مطالبہ ہے کہ بلال شہید کے قتل میںملوث ملزمان کو کیفر کردارتک پہنچائیں،ہم نے کوئٹہ شہر کو آگ سے بچایا ہے اور اپنے دل کے ٹکڑے کو قربان کیاہے،ہمیں بتایاگیاکہ قاتل گرفتار ہوچکے ہیں ،میں نے ہمیشہ حکومت کاساتھ دیا، ہمارے دھرنے کے دوران کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔اگر قاتل چھوٹ جاتے ہیں توپھر نہ قانون نہ عدلیہ اور نہ ہی اداروں کا احترام رہے گا ،لوگ سڑکوں پر لاشیں رکھ کرکے اپنے مطالبات منوائیں گے،انہوں نے صوبائی حکومت سمیت تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں سے اپیل کی کہ مطالبات میں شامل 8ویں مطالبے سے متعلق وضاحت طلب کی جائے۔





Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں