صوبائی حکومت کا کچرے سے بجلی بنانے کا فیصلہ‎


کراچی (این این آئی)کراچی میں کچرے سے بجلی بنانے کے منصوبے کو جلد از جلد قابلِ عمل بنانے کے لیے سندھ کے وزیر بلدیات،اطلاعات،مذہبی امور اور جنگلات سید ناصر حسین شاہ اور وزیر توانائی سندھ امتیاز احمد شیخ کی مشترکہ صدارت میں ایک اجلاس آج محکمہ توانائی سندھ کے دفتر میں منعقد ہوا۔اجلاس میں سیکریٹری بلدیات سندھ نجم شاہ، سیکریٹری توانائی سندھ طارق علی شاہ،محکمہ خزانہ سندھ کے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ یونٹ کے سربراہ خالد شیخ، سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے مینیجنگ ڈائریکٹر زبیر چنہ اور محکمہ توانائی سندھ کے دیگر افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں بتایا گیا

کہ کراچی میں روزانہ تقریبا 8 ہزار ٹن سالڈ ویسٹ پیدا ہوتا ہے جس سے 200 میگا واٹ تک بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔اجلاس میں وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ اور وزیر توانائی امتیاز احمد شیخ نے کہا کہ کچرے سے بجلی بنانے کے منصوبے کی اہم ترین افادیت یہ ہے کہ اس سے کراچی شہر کے کچرے کو ماحول دوست طریقے سے ٹھکانے لگایا جا سکتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس سے بجلی بھی حاصل کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں کچرے سے بجلی بنانے کے منصوبے پر کام کو تیز رفتاری سے آگے بڑھایا جائے اور اس ضمن میں دو ہفتے میں حتمی پالیسی رپورٹ وزیر اعلی سندھ کو پیش کرنے کے لئے مکمل کرلی جائے۔ اس پالیسی رپورٹ کی تیاری کے لئے سیکریٹری بلدیات سندھ نجم شاہ کی سربراہی میں کمیٹی بھی تشکیل دی گئی۔کمیٹی میں سیکریٹری توانائی سندھ، پی پی پی یونٹ کے سربراہ، اور دیگر متعلقہ افسران شامل ہونگے۔اس موقع پر وزیر توانائی سندھ امتیاز احمد شیخ نے کہا کہ کچرے سے بجلی بنانے کے منصوبے کو جلد از جلد قابلِ عمل کرنیکے لیے کام کیا جائے تاکہ سندھ اس ماحول دوست منصوبے پر عمل کرنے والا پہلا صوبہ ہوسکے اور دیگر صوبے بھی سندھ کے تجربے سے استفادہ کرسکیں۔اجلاس میں یہ بھی ہدایات دی گئیں کہ کچرے سے بجلی بنانے کے منصوبے میں کراچی کے بعد صوبے کے دیگر شہروں تک بھی اس منصوبے کو پھیلانے کی گنجائش رکھی جائے تاکہ کراچی میں منصوبے کی کامیابی کی روشنی میں دیگر شہروں کے کچرے کو بھی ماحول دوست طریقے سے ٹھکانے لگایا جا سکے اور بجلی بھی حاصل کی جاسکے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ کچرے سے بجلی بنانے کے منصوبے کے لئے لینڈ فل سائٹ سب سے معقول جگہ ہے اور کچھ کمپنیاں کچرے سے بجلی بنانے کے منصوبے میں گہری دلچسپی کا اظہار بھی کرچکی ہیں۔اجلاس میں ہدایات دی گئیں کہ تمام پہلوں کا جائزہ لے کر دوہفتے میں پالیسی رپورٹ پیش کی جائے۔





Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں