عمران خان نے جو کہا کردکھایا شہبازشریف کو جیل میں حاصل سہولیات ختم اپوزیشن لیڈر عام قیدیوں کی طرح رہیں گے


اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)اپوزیشن لیڈر اورمسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کے لیے جیل کی سہولیات ختم ،عام قیدیوں کی طرح رکھا جائے گا۔ نجی ٹی وی کے مطابق قائد حزب اختلاف کو بیرک نمبر دو میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ، جہاں شہباز شریف کو جیل میں عام قیدیوںکی طرح رکھا جائے گا اور مسلم لیگ ن کے صدر کو جیل میں الگ کمرہ،بیڈ، ٹیبل لیمپ اور بی کلاس کی سہولیات ملیں گی۔یا درہے کہ چند روز قبل وزیر اعظم عمران خان نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ جنہوں نے قوم کا پیسہ

لوٹا انہیں اب جیل میں وی آئی پی سہولیات نہیں ملیں گی ، انہیں بھی عام قیدیوں کی طرح رکھا جائیگا، دریں اثنااحتساب عدالت نے منی لانڈرنگ کیس میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا ہے۔شہباز شریف اور ان کی فیملی کے خلاف منی لانڈرنگ ریفرنس کی سماعت احتساب لاہور میں ہوئی۔نیب کی جانب سے شہباز شریف کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی جس پر احتساب عدالت نے نیب پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ نیب کو آج کس بنیاد پر جسمانی ریمانڈ چاہیے؟نیب پراسکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ شہباز شریف کو تحریری سوال نامے فراہم کیے مگر وہ جواب نہیں دے سکے،شہباز شریف کہتے ہیں وہ عدالت میں جواب دیں گے۔مسلم لیگ ن کے صدرشہباز شریف نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ مجھے آخری پیشی سے پہلے دو سوالنامے دیے گئے، دیے گئے سوالناموں کے جواب بھی دیے ہیں، میرے جواب ریفرنس کا حصہ ہیں۔شہباز شریف کا کہنا تھا میں نے ان سے کہا جو آپ پوچھ رہے ہیں وہ پہلے آپ مجھ سےپوچھ چکے ہیں۔سابق وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا مجھے ان کی حراست میں 85 دن ہو چکے ہیں، 26 اکتوبر 2018 کو آمدن سے زائد اثاثہ جات میں انکوائری شروع ہوئی، میں نے جو قرض لیا اس کا مکمل ریکارڈ لکھ کر دے چکا ہوں۔ان کا کہنا تھا یہ 17 ہزار پاونڈ قرض کی بات کرتےہیں جب کہ میں نے 10 سال اس صوبے کی خدمت کی ہے۔نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ یہ کسی سوال کا جواب دینے کو تیار ہی نہیں، کیا ہم تفتیش ہی نہ کریں۔عدالت نے نیب کی استدعا مسترد کرتے ہوئے شہباز شریف کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔





Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں