عمران خان پر غداری کا مقدمہ چلانے کا اعلان، فارن فنڈنگ کیس بارے بھی ن لیگ کا تہلکہ خیز فیصلہ


لاہور(این این آئی)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے کہا ہے کہ عمران خان 6سال سے فارن فنڈنگ کیس میں این آر او لے کر سیاست کررہے ہیں، ان کے پیچھے اسرائیلی اور بھارتی لابی کی فنڈنگ کے ثبوت موجود ہیں، فارن فنڈنگ کیس کا اگر میرٹ پر فیصلہ ہو تو عمران خان اور تحریک انصاف کی سیاست ختم ہو جائے گی،فارنگ فنڈنگ کیس کو غیر معمولی التواءمیں رکھنے کے خلاف پی ڈی ایم 19جنوری کو الیکشن کمیشن کے دفتر کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کر یگی، موجودہ حکومت دھاندلی کی پیداوار ہے جسے ہم اس ملک سے

ہمیشہ کے لیے ختم کر دینا چاہتے ہیں،پاکستان ڈیمو کریٹک کے خلاف حکومتی ترجمانوں کا پراپیگنڈے سے ہماری تحریک متاثر نہیں ہو گی، ہم اپنے مقررہ وقت کے مطابق کامیابی سے آگے بڑھ رہے ہیں اور اس حکومت کو گھر بھیج کر دم لیں گے، کشمیر کا سودا کرنے پر عمران خان پر غداری کا مقدمہ چلائیں گے،حکومت نواز شریف کے پاسپورٹ کی تنسیخ کر کے ان کا سفر ناممکن بنانا چاہتی ہے،حکومت خود نہیں چاہتی کہ نواز شریف ملک میں واپس آئیں۔مرکزی سیکرٹریٹ ماڈل ٹاؤن میں ڈپٹی سیکرٹری جنرل عطا اللہ تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ عمران خان کے پیچھے پاکستان دشمن لابی کی فنڈنگ کے ثبوت موجود ہیں، انہیں چھپایا جا رہا ہے، ان پر کاروائی نہیں ہونے دی جارہی، ہم یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ نواز شریف کا کیس ہو تو ایک مہینے میں فیصلہ ہو لیکن عمران خان کا فیصلہ ہو تو چھ، چھ سال فیصلہ نہیں ہوتا، اس کی کیا منطق اور دلیل ہے۔یہ وہ این آر او ہے جس پر عمران خان پاکستان پر مسلط کیا گیا ہے، جس کے اوپر پاکستان میں سیاست کررہا ہے تو وہ شخص جو دوسروں کو این آر نہیں دوں گا کی رٹ لگاتا ہے، سب سے بڑا ”مدر آف این آر او“تو اس کے پاس ہےجو فارن فنڈنگ کا این آر او ہے کہ چھ سال سے اس کیس کو دفن کر کے رکھا گیا ہے۔سپریم کورٹ کا بھی فیصلہ ہے کہ اس کیس کا میرٹ پرفیصلہ کیا جائے، ہم الیکشن کمیشن متعدد بار گئے، چیف الیکشن کمشنر کو مل کر مودبانہ عرض کی کہ اس کیس کو جلد از جلد نمٹائیں، چھ سال میں تو اگر مریخ پر اکاؤنٹ ہوں تو ان کی بھی پڑتال ہو کر واپس آ جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسٹیٹبینک کی رپورٹ ریکارڈ پر موجود ہے کہ عمران خان نے اپنے درجنوں بینک اکاؤنٹس الیکشن کمیشن سے چھپائے ہیں، درجنوں ایسے اکاؤنٹس ہیں جن سے باہر سے پیسہ آ رہا تھا اور پی ٹی آئی کے لوگ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے خون پیسے کی کمائی سے یہاں گلچھڑے اڑا رہے تھے، ان کا کوئی آڈٹ نہیں ہے۔بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو دھوکہ دے کر کروڑوں روپے حاصل کیےگئے اور وہ پارٹی کے اکاؤنٹ میں الیکشن کمیشن میں ڈکلیئر نہیں کیے گئے، کسی کو نہیں پتہ کہ اس پیسے سے کیا کیا گیا اور جب اسٹیٹ بینک نے اس چوری کو پکڑا ہے تو اس چوری کی مسلسل پردہ پوشی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم قومی اداروں کو مضبوط دیکھنا اور جمہوریت میں ہر قسم کی غیر جمہوری مداخلت کا راستہ بند کرنا چاہتی ہے،پی ڈی ایمکیخلاف حکومتی ترجمان کے پراپیگنڈے سے ہماری تحریک متاثر نہیں ہو گی، پی ڈی ایم کے گزشتہ روز کے سربراہی اجلاس سے یہ اتحا د مزید مضبوط ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج قوم کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ نیب کس طرح حکومت کا آلہ کا ربنا ہوا ہے، خواجہ آصف کے کیس سے متعلق سپریم کورٹ سے فیصلہ ہو چکا ہے۔لیکن خواجہ آصف کی گرفتاری اور نیب کےنوے روز قید میں رکھنے کے قانون سے اور عدالتوں کے چکر لگوانے کا مقصد ہماری تحریک کو کمزور کرنا ہے لیکن ہم اس طرح کے جھوٹے مقدمات سے گھبرانے والے ہیں اور ہماری تحریک کمزور ہو گی۔انہوں نے ایک وزیر موصوف نے مجھ پر الزام عائد کیا کہ میں نے ملتان، سکھرے موٹر وے منصوبے میں 70 ارب روپے کی کمیشن لی اور کہا کہ ہم جے آئی ٹی بنا رہے ہیں لیکنڈیڑ ھ گزرنے کے باوجود جے نہیں بنا سکے، پھر یہ کہا گیا کہ ہم اسے قرضوں کے کمیشن کو بھجوا رہے ہیں۔ اس منصوبے کی ساری رقم چین نے خرچ کی اور چین کے کنٹریکٹر کو براہ راست دی گئی۔ اس منصوبے میں چین سے پاکستان کے خزانے میں ایک پیسہ نہیں آیا، یہ الزام مجھ پر نہیں بلکہ چین پر لگایا گیا،اب تک اس وزیر نے چینی حکومت سے اس کی شکایت کیوں نہیں کی۔ان کا وطیرہ ہے کہ اپوزیشن کی کردار کشی کر کے اپنی نالائقی اور کرپشن کو کور کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی غفلت سے ایل این جی کے معاملے میں قومی خزانے کو 122 ارب کا ٹیکہ لگایا گیا کیا نیب نے اس کا نوٹس لیا ہے،پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے حکم کے باوجود پشاور بی آر ٹی پر آج تک کوئی نوٹس نہیں لیا گیا،جتنی کرپشن اس حکومت نے کی اس کی تاریخمیں مثال نہیں ملتی۔یہ پہلی حکومت ہے جس کے دور میں گندم کی فصل آتے ہی بحران پید اہو گیا کیونکہ اس کی اسمگلنگ کی گئی، ڈالر کی مد میں راتوں رات اربوں روپے کمالئے گئے لیکن کسی نے آج تک اس کا نوٹس نہیں لیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر ہوا بازی کی اصل جگہ پریس کانفرنس نہیں بلکہ جیل ہے، وزیر ہوا بازی کے بیانات سے ملک کی ایوی ایشن انڈسٹری کو تباہ کر دیا گیاہے،آج پی آئی اے کے روٹس غیر ملکی ایئرلائنز کو دئیے جا رہے ہیں،کابینہ میں شامل دوہری شہریت والے پاکستان کے لئے کم او رجس ملک کی ان کے پاس شہرت ہے اس کے لئے زیادہ کام کر رہے ہیں لیکن اب کیا کہیں سے غداری کی آوازیں آتی ہیں۔خود کو امانت اور دیانت کی تصویر قرار دینے والے عمران خان کی ناک کے نیچے اربوں کی کرپشن ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہغریبوں کے گھر کوبلڈوز کرنے والے کے اپنے گھر کو کیسے ریگولرائز کیا جاتا ہے، یہ ریاست مدینہ نہیں بلکہ ریاست فسطائیہ ہے، ریاست کرپشنیہ او رریاست عمرانیہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے ملک کی خارجہ پالیسی کو تہس نہس کر کے رکھ دیا ہے، سعودی عرب آج ہم سے دور ہو چکا ہے، جب پاکستان میں کوئی ایک روپیہ لگانے کے لئے تیار نہیں تھا لیکن چین نےخزانے کے منہ کھولے اور پاکستان میں 46ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی لیکن آج آپ انہیں کرپشن کے الزامات دے رہے ہیں۔ پی ڈی ایم پانچ فروری کو کشمیر کا سودا نا منظور احتجاج کر یگی، سقوط کشمیر کی ذمہ داری موجودہ حکومت ہے، کشمیر کا سودا کرنے پر عمران خان کے خلاف غداری کا مقدمہ بھی چلے گا۔ہم نے اس وقت کہا کہ بھارت کشمیر میں فوجیں اتار رہا ہے آپاسلامی ممالک میں لابنگ کریں لیکن عمران خان کو کہا گیا کہ سمندر کے اوپر سے سفر نہیں کرنا تو اس نے اپنی نحوست سے بچنے کے لئے اسلام آباد میں ڈیرے ڈالے رکھے اور بھارت نے کشمیر پر قبضہ کر لیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے تمام اراکین نے اپنے استعفے پارٹی قیادت کو جمع کروا دئیے ہیں جب فیصلہ ہوگا تو ہمارا کوئی رکن قیادت کے فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹے گا،پی ڈیایم کو اپنی کامیابی کا اسی طرح یقین ہے جس طرح ہمیں یقین ہے کہ صبح مشرق سے سورج طلوع ہونے کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام حکومتی مشینری نے پی ڈی ایم کا دھڑن تختے کی امید لگائی ہوئی تھی لیکن حکومتی خواہشوں کا دھڑن تختہ ہو گیا،پی ڈی ایم کا اتحاد ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہا ہے،حکومت نے نواز شریف کی واپسی کا ناٹک رچایا،ان کے پاسپورٹکی تنسیخ کر کے حکومت ان کا سفر ناممکن بنانا چاہتی ہے،حکومت خود نہیں چاہتی کہ نواز شریف ملک میں واپس آئیں۔ انہوں نے کہا کہ 2021 پاکستان میں انتخابات کا سال ہو گا اور نالائق، نااہل اور کرپٹ حکمرانوں سے جان چھوٹے گی اور 2018 والا ترقی کا سفر دوبارہ شروع ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم نے وزیراعظم کو 31 جنوری تک مستعفی ہونے کی مہلت دے رکھی ہے،یکم فروری کو پی ڈی ایم لانگ مارچ کے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی،ہم اپنی حکمت عملی کے تحت چلیں گے اور کسی حکومتی ترجمان کی خواہش کے مطابق نہیں چلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں نوجوان کے قتل کے واقعے کی مذمت کرتا ہوں،یہ حکومت شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان قومی سکیورٹی کے اداروں کو سیاستزدہ کرنا چاہتے ہیں لیکن ہم ایسا نہیں ہونے دینگے کیونکہ اس سے ملک کا دفاع کمزور ہو سکتا ہے،آئین اور قانون کی حکمرانی کمزور ہوئی تو ملک میں کوئی محفوظ نہیں ہو گا،عمران خان ٹرمپ جونیئر ہے،امریکہ کے بعد پاکستان نے اپنے ٹرمپ سے جان چھڑوانی ہے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان خود کو امانت قرار دیتے ہیں ان کی چھتری میں کرپشن کے مافیاز اربوں روپے بنا رہےہیں یہ کون سے ایماندار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو واضح کر چکے جو بھی پی ڈی ایم پلیٹ فارم سے فیصلہ ہوگا سب اس پر عمل کریں گے،حکومت کی حسرتیں حسرتیں رہ جائیں گی،2021الیکشن کا سال ہوگا اور عوام کو ناتجربہ حکمرانوں سے نجات ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم حکومت نہیں اس نظام کو گرانا ہے جو جمہوریت نہیں چلنے دیتا،ہر دس سال بعد جمہوری عمل ختم ہو جاتاہے،پاکستان جمہوریت اور آمریت میں پنگ پونگ چلتی رہی،پی ڈی ایم کا قیام سیاسی نظام کی اس کمزوری کو درست کرنا ہے،جب تک مستحکم سیاسی نظام نہیں ہوگا تو دیر پا معاشی ترقی نہیں ہو سکتی،جب تک معیشت مضبوط نہیں ہوگی دفاع مضبوطنہیں ہو سکتا،پی ڈی ایم قومی اداروں کو مضبوط دیکھنا چاہتی ہے آئین کی حکمرانی دیکھنا چاہتی ہے،پی ڈی ایم غیر جمہوری دروازہ ہمیشہ کیلئے بند کرنا چاہتی ہے،حکومت دھاندلی کی پیداوار ہے جسے ہمیشہ ملک سے ختم کرنا چاہتے ہیں۔

موضوعات:

ڈرٹی پالیٹکس

جواہر لال نہرو کے والد موتی لال نہرو کام یاب وکیل‘ بزنس مین اور سیاست دان تھے‘ وہ دہلی‘ الٰہ آباد اور کلکتہ میں پریکٹس کرتے تھے اور 1900ءکے شروع میں لاکھوں روپے ماہانہ کماتے تھے‘ وہ دوبار آل انڈیا کانگریس کے صدر بھی رہے‘ بڑے نہرو صاحب خود سیاست دان تھے مگر وہ اپنے بیٹے جواہرل لال ….مزید پڑھئے‎

جواہر لال نہرو کے والد موتی لال نہرو کام یاب وکیل‘ بزنس مین اور سیاست دان تھے‘ وہ دہلی‘ الٰہ آباد اور کلکتہ میں پریکٹس کرتے تھے اور 1900ءکے شروع میں لاکھوں روپے ماہانہ کماتے تھے‘ وہ دوبار آل انڈیا کانگریس کے صدر بھی رہے‘ بڑے نہرو صاحب خود سیاست دان تھے مگر وہ اپنے بیٹے جواہرل لال ….مزید پڑھئے‎





Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں