غریب آٹے کو ترس رہے ہیں، محکمہ خوراک کی گندم کی 30 ہزار بوریاں کھلے آسمان تلے پڑی پڑی سڑ گئیں


خیرپور (مانیٹرنگ +این این آئی) محکمہ خوراک سندھ کی نااہلی، خیرپور میں گندم کھلے آسمان تلے پڑی پڑی سڑ گئی، گندم کی تیس ہزار بوریاں خراب ہو گئیں، محکمہ خوراک سندھ کی نااہلی کی وجہ سے دس کروڑ کا نقصان ہو گیا۔ یہاں عوام آٹے کو ترس رہی ہے اور دوسری طرف گندمضائع کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب سندھ کے سرکاری گوداموں سے کروڑوں روپے کی گندم غائب ہونے کا انکشاف ہوا ہے ۔ نجی ٹی وی نے نیب ذرائع کے حوالے سے بتایاکہ گندم خریداری سینٹرز اور گوداموں میں خردبرد کی اطلاعات پر ڈی جی نیب سکھر نے

نوٹس لیتے ہوئے حکم دیا تھا کہ معاملے کی تہہ تک پہنچ کر اصل حقیقت سامنے لائی جائے۔ نیب ٹیموں کے کندھکوٹ اور کشمور میں سرکاری گندم خریداری مراکز اور گوداموں پر چھاپے مارے اور ضلع کشمور میں کروڑوں روپے کی سرکاری گندم کی خرد برد کا پتہ لگا لیا۔نیب حکام کے مطابق نیب ٹیموں نے مجسٹریٹ کی موجودگی میں گوداموں میں موجود گندم کا اسٹاک چیک کیا، تو پتہ چلا کہ کشمور اور کندھکوٹ کے گوداموں سے 15 ہزار من سرکاری گندم غائب ہے، گوداموں سے گندم کی 6 ہزار بوریاں خردبرد کی گئیں جن کی مالیت تقریباً 25 کروڑ روپے ہے۔نیب ذرائع کے مطابق ڈی جی نیب نے سرکاری گندم کی خرد برد میں ملوث متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا ہے، اور کروڑوں روپے کی سرکاری گندم خرد برد کرنے والے محکمہ خوراک کے متعدد افسران کی گرفتاری متوقع ہے، نیب نے کشمور اور کندھکوٹ میں تعینات محکمہ خوراک کے افسران کی فہرستیں تیار کرلی ہیں۔آئے روز آٹے کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، چکی مالکان اپنی مرضی سے آٹے کا ریٹ بڑھا دیتے ہیں۔





Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں