فرعون کی لاش۔۔۔ قرآن مجید کا دعویٰ اس شان سے پورا ہو گا‘ بھلا کسے معلوم تھا؟


ہم یہاں واضح کر دینا چاہتے ہیں قرآن مجید سائنس کی کتاب ہر گز نہیں بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری پیغمبرؐ پر اس لیے نازل کی تاکہ اس کے ذریعے سے وہ لوگوں کا تزکیہ کر سکیں۔ اس ضمن میں اللہ تعالیٰ نے اپنی بہت سی نشانیوں کا ذکر کیا ہے اور ان کے بیان میں محض ضمنی طور پر بعض ایسے تاریخی اور علمی حقائق کی طرف اشارہ کیا ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں بیان ہوئے تھے۔سائنس کے حوالے سے جو باتیں برسبیل تذکرہ بیان ہوئی ہیں ‘وہ ایسی ہیں جنہیں جدید سائنسی تحقیق

آج دریافت کر رہی ہے اور ایسا صرف اس لیے ہوا کہ ان حقائق کو بیان کرنے والا اس کار خانہ قدرت کا خالق ہے‘ لہٰذا اس طرح کے سائنسی حقائق کے انکشاف سے اس غلط فہمی میں نہیں پڑنا چاہیے کہ قرآن محض سائنسی یا اس طرح علمی انکشافات کرنے کے لیے نازل ہوا تھا۔ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلا م بھی ہے اور اس کے آخری پیغمبرحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سچا ہونے کا ایک زندہ معجزہ بھی۔ قرآنی معجزات کے سلسلے میں اس دفعہ ایک ایسے معجزے کی داستان درج کی جاتی ہے‘ جس کو پڑھ کر ایمان والوں کا ایمان تازہ بھی ہو گا اور مضبوط بھی اور ہر غیر مسلم کے لیے یہ معجزہ ایک مجسم سوال بن جائے گاکہ اس عظیم نشانی کے باوجود بھی قرآن منزل من اللہ نہ ماننے کی آخر کیا وجہ ہے؟ میری بہن اپنے بیٹے کی اس عادت سے پریشان تھی کہ اس کی انٹرنیٹ سے دلچسپی بڑھ گئی ہے لیکن ایک دن اس نے خوشی خوشی مجھے بتایااب اس کی پریشانی دور ہو گئی ہے۔ اس اطمینان کی وجہ بتاتے ہوئے وہ کہنے لگی کہ پچھلی رات ایک بجے سٹڈی روم سے آنے والی آواز نے ہمیں نیند سے بیدار کر دیا تھا۔ میرے شوہر رؤف صاحب جلدی سے اٹھے اور ڈرتے ڈرتے احتیاط سے سٹڈی روم کی طرف چل دیئے۔ سٹڈی روم کا دروازہ کھلا اور کمراروشن تھا۔ انھوں نے دائیں طرف دیکھا تو ایک اور حیرت نے ان کے قدم تھام لیے۔ معاذ کے کمرے کی بتی بھی روشن تھی ۔ وہ پہلے اس کمرے کی طرف بڑھے‘ اندر داخل ہوئے تو دیکھا کہ کمپیوٹر آن ہے لیکن معاذ وہاں موجود نہیں تھا۔اس چیز نے تو ان کی تشویش میں مزید اضافہ کر دیا۔ وہ اب دوبارہ سٹڈی روم کی طرف بڑھے ۔ دروازے کے قریب آئے تو پھر آواز آئی ۔ وہ دبے قدموں سٹڈی روم میں داخل ہوئے اور پھر انہوں نے اطمینان کا سانس لیا ۔ سٹڈی روم میں معاذ ان سے بے خبر کتاب پڑھنے میں مصروف تھا۔ ’’بھئی یہ کون سا وقت ہے تحقیق کا ؟‘‘ انہوں نے بے زاری سے پوچھا ۔ ابو میری انٹرنیٹ پر ایک دوست سے بات ہو رہی ہے اس نے مجھ سے ایک بات پوچھی تھی جس کے لیے مجھے قرآن مجید دیکھنا پڑ گیا تھا۔ اسی لیے یہاں قرآن مجید اور اس کی تفسیر دیکھ رہا ہوں۔ ’’ لیکن وہ آواز؟‘‘ دراصل مجھ سے ایک کتاب گر پڑی تھی اتنی دیر میں بھی وہاں پہنچ گئی ۔ہم دونوں حیرت سے بیٹے کی طرف دیکھ رہے تھے‘ دراصل ہم تصور بھی نہیں کر سکتے تھے کہ انٹرنیٹ پر گفتگو معاذ کو قرآن مجید پڑھنے پر مجبور کر دے گی‘تب ہمارا اس حقیقت پر اعتماد اور بڑھ گیا تھا کہ کوئی ایجاد اصل میں بری نہیں ہوتی ۔ اس کا استعمال ہے جو اچھا یا برا بناتا ہے ۔ کچھ لمحوں کے توقف بعد رؤف صاحب نے پوچھا‘معاذ بیٹا ! قرآن مجید میں کیا چیز دیکھ رہے ہو؟اور کس دوست سے بات ہو رہی تھی؟ دراصل ایک بڑی اچھی سائٹ ہے‘ میں اس سائٹ کو دیکھتا رہتا ہوں۔ اس کے وہ صفحات جس میں غیر مسلموں کے سوالوں کے جواب دیئے جاتے ہیں بڑے دلچسپ اور ایمان افروز ہوتے ہیں۔اسی صفحے پر ایک غیر مسلم طالب علم رابن کے ساتھ میری گفتگو شروع ہوگئی۔ ظاہر ہے ہم مذہب پر گفتگو کرتے تھے۔ یوں ہماری دوستی ہو گئی لیکن آج اس نے مجھ سے ایک مشکل سوال کر دیا ہے میں بے بس اسی سوال کا جواب تلاش کر رہا تھا۔مسٹر رابن نے تم سے کون سا سوال پوچھ لیا؟رؤف صاحب کی نیند اب ختم ہو چکی تھی اور وہ بیٹے کی دلچسپیوں میں دلچسپی لے رہے تھے۔ ابو! وہ پوچھ رہا تھا کہ سورہ یونس کی آیت نمبر 92میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ فرعون کی لاش کو محفوظ رکھے گا اور اسے دنیا کے لیے نمونہ بنائے گا۔ مگر یہ لاش کہاں ہے؟قرآن کے دعوے کے مطابق اسے کب اور کہاں نمونہ بنا کر رکھا گیا ہے ؟اور ابو میں نے سورۃیونس کی وہ آیت دیکھ لی ہے واقعی اس میں اللہ نے یہ فرمایا ہے مگر مجھے تو اس کے بارے میں کچھ علم نہیں۔ میں نے کچھ تفسیر یں بھی دیکھی ہیں اس میں بھی اس کے متعلق کچھ نہیں لکھا۔ سمجھ میں نہیں آرہا کہ اب رابن کو کیا جواب دوں گا۔رؤف صاحب مسکرائے اور بولے ’’بیٹا وہ دیکھو ‘دائیں طرف الماری کی تیسری شیلف سے پانچویں کتاب اٹھاؤ۔ معاذ نے وہ کتاب نکالی ۔ کتاب انگریزی میں تھی۔ اس کا نام تھا۔ ’’قرآن ‘بائبل اینڈ سائنس‘‘رؤف صاحب بولے بیٹے اس کتاب میں تمہیں اس سوال کا بڑا اچھا جواب مل جائے گا اور میرے خیال میں تم آدھ گھنٹے ہی میں اسے جوابی ای میل بھیج دو گے۔اب تم کتاب پڑھو اور ہم سوتے ہیں اور ہاں بیٹے یہ اتنی رات گئے جاگنا کوئی اچھی عادت نہیں۔ کوشش کرو کہ زیادہ سے زیادہ دس بجے تک جاگو رات دیر تک جاگنے سے فجر کی نماز بھی قضا ہو سکتی ہے !یہ کہہ کر اس کے ابو اپنے کمرے کی طرف چل دیئے۔ صبح اٹھ کر معاذ نے بتایا کہ اس نے بے چینی سے کتاب کی فہرست دیکھی۔ کتاب کے انڈکس میں ’’فرعون موسیٰ کی لاش(فرعون ممی)کے الفاط دیکھے اور متعلقہ صفحات نکال کر انہیں پڑھنے لگا۔ جیسے جیسے وہ پڑھتا گیا ویسے ویسے اس پر حیرتوں اور انکشافات کے نئے دروازے کھلتے چلے گئے۔ اس نے جلدی سے کتاب کے مصنف کا نام پڑھا تو ایک اور حیرت ہوئی ‘مصنف کا نام غیر مسلموں کا سا تھا۔ پندرہ بیس منٹ کے مطالعے کے بعد وہ اپنے کمرے کی طرف دوڑا ۔ان نے رابن کو ای میل کرنے کے بجائے اس سے انٹرنیٹ پر گفتگو(چیٹنگ) کو مناسب خیال کیا۔ چند لمحو ں کے بعد اس کا رابطہ رابن سے ہو چکا تھا۔ معاذ نے لکھا ’’مسٹر رابن ‘میرے پاس آپ کے لیے بڑی دلچسپ خبریں ہیں‘ آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ مشہور ماہر آثار قدیمہ اور یت نے 1896ء میں فرعون کی ممیاں دریافت کی تھیں۔ رابن نے جواب دیا ’’تمہارا مطلب ہے کہ مصر کے ان حکمرانوں کی حنوط شدہ لاشیں جنہیں زمین دوز مقبروں میں رکھا جاتا تھا۔ ‘‘بالکل وہی پھر ایسا ہو ا کہ 1907ء میں مصر کے عجائب گھرمیں رکھی فرعون کی حنوط شدہ لاش کو پھپھوندی لگ گئی۔ عجائب گھر کی انتظامیہ نے اس ممی کا معائنہ کیا تو معلوم ہوا کہ اس ممی کے اوپر کپڑے کی پٹیاں لپٹی ہوئی ہیں ان پر سمندری نمک موجود ہے!‘‘ یہاں تک لکھ کر معاذ نے رابن کے جواب کا انتظار کیا۔اس کی توقع کے مطابق فوراً رابن نے جواب میں لکھا ’’یہ کیسے ممکن ہے؟ مصری تو ان لاشوں کو اچھی طرح صاف کر کے اور پھر ان پر خاص قسم کا مسالا لگا کر انہیں محفوظ کرتے تھے تاکہ لاشیں خراب نہ ہوں اور صحیح حالت میں رہیں ! اس طرح لاش میں نمک کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہی سوال ماہرین کے سامنے تھا۔ انہوں نے اس کا یہ نتیجہ نکالا کہ نمک لاش کے اندر سے کپڑے کی پٹیوں میں آیا ہے اور لاش میں نمک اس لیے تھا کہ جس فرعون کی یہ لاش ہے اس کی موت سمندر میں ڈوبنے سے ہوئی ہے اور اب سمندر میں ڈوب کر ایک ہی فرعون ہلاک ہو ا تھا جس کا نام ہے ’’منفتا‘‘(مرنپتہ)یہ اسی فرعون کا نام ہے جس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مقابلہ کیا تھا۔ یوں قرآن مجید کی اس آیت میں کیا گیا دعویٰ سچ ثابت ہو گیا جس کے متعلق تم نے سوال کیا تھا۔
معاذ کی اس بات کا رابن نے کئی لمحوں تک کوئی جواب نہ دیا ۔ظاہر ہے یہ بہت ہی حیران کن بات تھی۔ معاذ نے بتایا کہ رابن ایک پڑھا لکھا نوجوان تھا اور وہ اس بات سے اچھی طرح واقف تھا کہ فرعون نے حضرت موسیٰ ؑ اور اس کی قوم کا پیچھا کیا تھا۔ حضرت موسیٰ ؑ کے راستے میں سمندر آگیا تو اللہ نے انہیں حکم دیا کہ اپنی لاٹھی سمندر میں ماریں۔ لاٹھی مارنے سے سمندر میں راستہ بن گیا۔ اور حضرت موسیٰ ؑ اور ان کی قوم اس میں گزر گئی۔ فرعون اپنی فوج کے ساتھ ان کے تعاقب میں آیا۔ وہ وہ ابھی راستے ہی میں تھا کہ سمندر اپنی پہلی حالت میں آگیا اور وہ لشکر سمیت سمندر میں غرق ہو گیا۔ اتنی کہانی بائبل میں بھی بیان ہوئی تھی لیکن آگے کے حالات صرف اور صرف قرآن میں بیان ہوئے تھے۔قرآن میں ہے کہ اس نے مرتے وقت حضرت موسیٰ ؑ پر ایمان لانے کا اعلان کیا تھا لیکن موت کے وقت لایا گیا ایمان اللہ تعالیٰ قبول نہیں کرتے ۔ اس لیے اس کی لاش کو عبرت کے لیے قیامت تک محفوظ رکھنے کا بھی اعلان کیا اور قرآن کا یہ اعلان اس انکشاف سے درست ثابت ہوا۔ یہ بات رابن کے لیے بڑی ہی حیران کن تھی۔ آخر کئی لمحوں کے انتظار کے بعد اس کا جواب آیا’’تم مجھے اس کتاب کا نام بتاؤ جہاں یہ ساری تحقیق بیان ہوئی ہے‘‘۔ معاذ نے کہا’’مسٹر رابن میں تمہیں ضرور بتاؤں گا لیکن پہلے مزید جان لو کہ 1975ء میں فرعون کی لاش کو فرانس سے لے جایا گیا۔ وہاں اس کا مزید مطالعہ کیا گیا اور ماہرین نے یہ رپورٹ دی کہ جس فرعون کی یہ ممی ہے وہ سمندرمیں ڈوب کر ہلاک ہوا تھا۔یہ بات اس ممی کے جسم میں موجود نمک اور کان کے پردوں میں موجود کیمیکلز سے معلوم ہوئی‘ رہی ثبوت کی بات تو تم ’’مورس باکائے‘‘ کی مشہور کتاب’’بائبل اور سائنس ‘‘ میں یہ ساری تحقیق پڑھ سکتے ہو اور اب تو قاہرہ کے عجائب گھر میں اس لاش کی نمائش جاری ہے۔یعنی قرآن کے وعدے کے مطابق وہ عبرت کا نشان بنی ہوئی ہے۔ رابن نے معاذ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ کتاب پڑھ کر اسے جواب دے گا۔اس کے بعد رابطہ کٹ گیا۔
صرف دو دن بعد رابن نے انٹرنیٹ کے ذریعے معاذ سے خود رابطہ کیا۔ اس نے لکھا’’پیارے دوست تمہاری بات درست ثابت ہوئی میں نے نہ صرف مورس بکا ئے کی کتاب کے متعلقہ حصوں کا مطالعہ کیا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر اس موضوع پر بہت ساری سائٹس بھی دیکھی ہیں۔ان سے تمہاری دی ہوئی تمام معلومات کی تصدیق ہو گئی چنانچہ میں تسلیم کرتا ہوں کہ قرآن واقعی اللہ کا کلام ہے اور محمدؐواقعی اللہ کے سچے نبی ہیں۔ معاذ کی والدہ کی یہ کہانی سننے کے بعد میرے ذہن میں ایک اور سوال آیا۔ وہ یہ کہ مصر میں فرعون کی ممیوں کی دریافت تو اٹھارہویں صدی عیسوی کا واقعہ ہے اس سے پہلے تو کسی کو معلوم ہی نہ تھا کہ فرعون کی ممیاں یوں عجائب گھروں میں دیکھنے کے لیے دستیاب ہوں گی۔ ان حالات میں قرآن مجید کے مفسرین اللہ تعالیٰ کے اس وعدے کے متعلق کیا کہتے تھے؟اس سوال کا جواب پانے کے لیے میں نے مختلف تفاسیر دیکھنا شروع کیں تو بڑی حیرت ہوئی ۔ مثلاً ابن کثیر اپنی تفسیر میں سورۃ یونس کی مذکورہ آیت کی تشریح میں لکھتے ہیں۔’’اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ اب ہم تیری روح ہی کو نہیں تیرے جسم کو محفوظ کرتے ہیں تا کہ بعد والوں کے لیے وہ عبرت بن جائے۔ ابن عباس سے روایت ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کی قوم نے فرعون کی موت کے بار ے میں شک کیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے دریاکو حکم دیا کہ فرعون کے جسد کو جس پر لباس بھی موجود ہے خشکی پر پھینک دے تا کہ لوگوں کو فرعون کی موت کا حقیقی ثبوت مل جائے۔ تفسیر ابن کثیر(اردو)جلد دوم ایک جدید مفسر اس آیت کا حاشیے میں لکھتے ہیں۔ ’’قدرت کے انتقام کی ایک نشانی یہ ظاہر ہوئی کہ فرعون کی لاش کو نشان عبرت بنانے کے لیے سمندر نے ساحل پر پھینک دیا۔ مصر میں لاشوں کو ممی کر کے محفوظ کرنے کا رواج تھا چنانچہ اس لاش کو بھی محفوظ کر لیا گیا تا کہ ہر زمانے کے فرعون اس زمانے کے فرعون سے عبرت پکڑیں۔(ترجمہ و حواشی قرآن مجید از خالد مسعود۔)اس مطالعے سے ثابت ہوتا ہے کہ مفسرین قرآن مجید کے اس دعوے کا یہی مطلب سمجھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ فرعون کی لاش کو بعد کے لوگوں کے لیے عبرت کا نشان بنائے گا لیکن قرآن مجید کا یہ دعویٰ اس شان سے پورا ہو گا۔ بھلا کس کو معلوم تھا!





Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں