فیاض الحسن چوہان کو عہدے سے کیوں ہٹایا گیا، وزیراعظم کو کس نے شکایت لگائی؟ حیران کن انکشافات


لاہور (نیوز ڈیسک) فیاض الحسن چوہان کو عہدے سے ہٹانے کی اندرونی کہانی منظر عام پر آ گئی، میڈیا ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے فردوس عاشق اعوان کو ن لیگ کی خواتین کے مقابلے کے لئے میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ وفاق میں اطلاعات کے شعبے میں تقرری کی خواہش مند تھیں لیکن وزیراعظم نے انہیں صوبہ پنجاب میں اطلاعات کا شعبہ
سنبھالنے پر آمادہ کیا، دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب بھی تبدیلی چاہتے تھے، وزیراعظم کے دورہ لاہور کے موقع پر فیاض الحسن چوہان کے خلاف وفاقی حکومت کی سوشل میڈیا

ٹیم نے شکایات کے انبار لگا دیے، ان کا کہنا تھا کہ وہ حکومتی موقف کی بجائے اپنے موقف کو ترجیح دیتے ہیں، اس کے علاوہ پنجاب کے کئی وزراء بھی ان سے خوش نہیں تھے، جس پر وزیراعظم نے انہیں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا اور عثمان بزدار بھی یہی چاہتے تھے۔واضح رہے کہپنجاب کابینہ میں ردوبدل کردیاگیا ہے، فیاض الحسن چوہان سے وزارت اطلاعات پنجاب کا عہدہ واپس لے لیا گیا۔ پی ٹی آ ئی کی سینئر رہنما ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کو وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی معاون خصوصی برائے اطلاعات تعینات کر دیا گیا ہے۔اس ضمن میں پنجاب حکومت نے نوٹیفیکیشن جاری کردیا ۔نوٹیفکیشن کے مطابق فیاض چوہان سے اطلاعات کا محکمہ واپس لے لیا گیا ہے اور اب وہ صرف محکمہ کالونیز کے صوبائی وزیرہوں گے۔نوٹیفکیشن کے مطابق فردوس عاشق اعوان کے پاس اطلاعات کا شعبہ بھی ہوگا۔اس کے علاوہ پنجاب کے مزید دو وزرا مہر محمد اسلم اور زوار حسین وڑائچ کو بھی عہدے ہٹایا گیا ہے۔مہر محمد اسلم کو آپریٹیو اور زوار حسین وڑائچ جیل خانہ جات کے وزیرتھے۔ فردوس عاشق اعوان کا تعلق سیالکوٹ سے ہے۔وہ مشرف دور میں بھی وفاقی وزیر رہ چکی ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کے دور میں
وزارت اطلاعات کا قلمدان انکے پا س تھا اور پھر جب پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بنی تو وہ معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات تعینات رہی ہیں ۔ اپریل کے مہینے میں ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات کے عہدہ سے علیحدہ ہوگئی تھیں ۔اب انہیں پنجاب میں معاون خصوصی برائے اطلاعات تعینات کیا گیا ہے۔





Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں