لارڈ نذیر نے چھوڑا نہیں بلکہ انہیں ہاوس آف لارڈز سے نکالا گیا ہے


اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )برطانیہ کے سینیئر پاکستانی نژاد سیاستدان اور برطانوی پارلیمان کے ایوان بالا یعنی ہاؤس آف لارڈز (برطانوی دارالامراء) کے ممبر لارڈ نذیر احمد ہاؤس سے ریٹائر ہوگئے۔لارڈ نذیر نے ایک ماہ قبل ہاؤس آف لارڈکےکلرک (سینیئر افسر)کو خط لکھ کر ریٹائرمنٹ کیخواہش کااظہار کیا تھا۔لارڈ نذیرنے جیو نیوز سےگفتگو کرتے ہوئے بتایا تھاکہ وہ برطانوی دارالامراء میں 23 سالہ خدمات کے بعد ریٹائر ہورہے ہیں۔برطانوی پارلیمان کی جانب سے بھی لارڈ نذیر کی ریٹائرمنٹ کا خط منظورکرلیاگیا ہے۔خیال رہےکہ لارڈ نذیر احمد برطانوی دارالامراء کے رکن منتخب ہونے والے پہلے مسلمان پاکستانی تھے۔لارڈ نذیر احمد آزاد کشمیر

میں 1957 میں پیدا ہوئے تھے اور 1969 میں اپنے خاندان کے ہمراہ روڈہرم میں منتقل ہوئے، انہوں نے 1975 میں 18 برس کی عمر میں لیبر پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور 1990 میں پہلی بار روڈہرم کونسل کے ممبر منتخب ہوئے۔ وہ پہلی بار 1998 میں لیبر پارٹی کی جانب سے ہاؤس کے ممبر منتخب ہوئے تھے تاہم 2013 میں انہوں نے اختلافات پر استعفیٰ دیدیا تھا اور آزدانہ حیثیت سے انگلینڈ کے علاقے روڈہرم سے سیاست میں حصہ لے رہے تھے۔لارڈ نذیر نے برطانوی پارلیمنٹ میں مسلمانوں کے مسائل اور حقوق بالخصوص مسئلہ کشمیر پر بھرپور آواز اٹھائی، انہیں برطانیہ میں کشمیر کی ایک مضبوط اور توانا آواز سمجھا جاتا تھا۔دوسری جانب منگل کے روز ایک رپورٹ سامنے آئی جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ لارڈ نذیر نے ہاؤس آف لارڈز خود نہیں چھوڑا بلکہ انہیں نکالا گیا ہے۔ ہاؤس آف لارڈز کی کنڈکٹ کمیٹی نے 268 صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ پیش کی ہے جس میں یہ سفارش کی گئی ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر لارڈ نذیر کو ہاؤس آف لارڈز سے نکالا گیا ہے۔





Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں