لندن میں شاہد خاقان عباسی کی میاں نواز شریف سے ملاقات، شہباز شریف کا خصوصی پیغام بھی پہنچایا


اسلام آباد(آن لائن) سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی لندن میں نواز شریف سے ملاقات ہوئی ہے۔شاہد خاقان عباسی نے نواز شریف سے ان کی والدہ کے انتقال پر تعزیت کی۔ملاقات میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ذرائع کیمطابق شاہد خاقان عاسی نے پی ڈی ایم کی حکومت کے خلاف احتجاجی حکمت عملی سےنواز شریف کو آگاہ کیا گیا۔شاہد خاقان عباسی امریکہ سے واپسی پر لندن پہنچے ہیں۔سابق وزیر اعظم کو پندرہ دن کیلئے بیرون ملک جانے کی اجازت ملی تھی۔ انہوں نے شہباز شریف کا خصوصی پیغام بھی پہنچایا، دوسری جانب مریم نواز کا کہنا

ہے کہ ارباب اختیار اور اقتدار کی کرسی پربیٹھے شخص کی بے حسی پر افسوس ہے، مائیں، بہنیں، بیٹیاں اپنے پیاروں کی لاشیں رکھ کر عمران خان کو دہائی دے رہی ہیں کہ خدارا ہمارے سر پر ہاتھ رکھو، عمران خان اپنی انا کی وجہ سے یہاں نہیں آرہے،اگر حکمران کوئٹہ نہیں آتا تو قوم اسے اسلام آباد میں کرسی پر بیٹھنے کی اجازت نہیں دیگی۔ یہ بات انہوں نے جمعرات کو مچھ کے علاقے میں قتل کئے گئے کان کنوں کی نعشوں کے ہمراہ دھرنا دینے والے لواحقین اورہزارہ قوم کے افراد سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔اس موقع پر پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری،سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی،وزیراعلیٰ سند ھ سید مراد علی شاہ، سیکرٹری جنرل مسلم لیگ (ن)احسن اقبال، سینیٹرمولانا عبدالغفور حیدری،سینیٹر سرداریعقوب خان ناصر،سینیٹر پرویز رشید،سابق وفاقی خرم دستگیر،رانا ثناء اللہ،حنا پرویز،ارکان بلوچستان اسمبلی اصغرعلی ترین،یونس عزیز زہری،پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر حاجی علی مدد جتک،جنرل سیکرٹری سیداقبال شاہ، سیکرٹری اطلاعات سردارسربلند جوگیزئی،مسلم لیگ(ن) کے صوبائی جنرل سیکرٹری جمال شاہ کاکڑ،نعمان خانناصرسمیت دیگر بھی موجود تھے۔مریم نواز نے کہاکہ ہزارہ برادری پر جو قیامت ٹوٹی ہے اس پر میاں نواز شریف اورمسلم لیگ(ن)کی جانب سے اظہارتعزیت کرتی ہوں،ہم ہزارہ برادری کے غم میں برابرکے شریک ہیں یقینا یہ غم جس پر گزر رہا ہے وہی اسے محسوس کرسکتا ہے لیکن ہم بھی اس غم میں برابرکے شریک ہیں۔انہوں نے کہاکہپانچ دن سے دیکھ رہی ہوں کہ ہزارہ برادری کے لوگ شدید سردی میں اپنے پیاروں کی میتیں رکھ کر کسی بے حس کو پکار رہی ہے،ایک بچی نے کہا کہ ہم اپنے والد کو تب تک نہیں دفن کریں گے جب تک عمران خان یہاں نہیں آتے ایک طالب علم کی میت پڑی ہے جو اپنی فیس کے پیسے جمع کرنے کیلئے کانکنی کرتا تھا،ایک گھر میں کوئیمرد نہیں بچا،ہزارہ برادری 2کلومیٹر کے دائرے میں محصور ہے انہیں روزگار،تعلیم،صحت سمیت دیگر سہولیات کے حصول کیلئے مشکلات کا سامنا ہے،آج تک ہزارہ برادری نے 2ہزار شہداء دیئے ہیں انہیں سلام پیش کرتی ہوں۔انہوں نے کہا کہ میں تمام سیاسی اختلافات بالائے طاق رکھتے ہوئے عمران خان سے کہتی ہوں کہ خدارا یہاںآؤ،ریاست کا کام تحفظ دینا ہے اور یہ انکی ذمہ داری ہے ریاست ماں ہے لیکن یہ ماں اگر اپنا حق ادا نہیں کرسکی تو کم از کم عمران خان یہاں آئیں اور لوگوں کی داد رسی کریں شہدا کے لواحقین یہاں لاشیں رکھ کر انکے منتظر ہیں لاشوں سے انا بڑی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کہتے ہیں کہ لاشوں پرسیاست ہورہی ہے آپ یہ کہہ کراپنی بے حسی اور ناکامی کو نہیں چھپاسکتے انہیں یہاں آنا پڑے گااور لوگوں کے سرپر ہاتھ رکھنا پڑے گا۔انہوں نے کہاکہ شہدا کے لواحقین کوئی بڑی چیز نہیں مانگ رہے،وہ منفی 8 درجہ حرارت میں کھلے آسمان تلے بیٹھے صرف یہ کہتے ہیں کہ آو ہم سے بات کرو اورہمارے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھو کیا انا اتنی بڑی ہوگئی ہے کہ وہیہاں نہیں آسکتے۔انہوں نے کہاکہ وزیراعظم تنقید سے ڈررہے ہیں اگر وہ یہاں آئے اور انہیں تھوڑی سی تنقید سننی پڑے تو سن لیں تاہم یہ انکا فرض ہے کہ عوا م کا دکھ دردبانٹیں خدا کے واسطے خدا کی مخلوق پر رحم کریں ارباب اختیار اوراقتدار کی کرسی پر بیٹھے شخص کی بے حسی پر افسوس ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی ماؤں، بہنوں، بیٹیوں کیتکلیف کا احساس ہے عمران خان ایک بار اپنے آپ کو انکی جگہ رکھ کردیکھیں میں ان شہدا کے لواحقین کے حوصلے کو سلام پیش کرتی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہزارہ برادری نے ملک کی خدمت اور مٹی سے وفا کی ہے اب ریاست کی باری ہے کہ وہ اس وفا کا حق ادا کرے اور زخموں پرمرہم رکھے اگر حکمران یہاں نہیں آتا تو قوم اسے اسلام آباد میں کرسی میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دے گی۔

موضوعات:

سٹیٹ کو جاگنا ہوگا

امیت سکھ خاندان میں پیدا ہوا‘ یہ لوگ ڈیرہ بابا نانک (کرتار پور) میں رہتے تھے‘ دو بھائی اور ایک بہن تھے‘ والدین کھیتی باڑی کرتے تھے‘ کرتار پور 1947ءمیں پاکستان میں آ گیا‘ پنجاب میں سکھ مسلمان فسادات شروع ہو ئے‘ امیت اس وقت آم توڑ رہا تھا‘ والدین‘ بہن اور چھوٹا بھائی گھر میں تھا‘گھر پر ….مزید پڑھئے‎

امیت سکھ خاندان میں پیدا ہوا‘ یہ لوگ ڈیرہ بابا نانک (کرتار پور) میں رہتے تھے‘ دو بھائی اور ایک بہن تھے‘ والدین کھیتی باڑی کرتے تھے‘ کرتار پور 1947ءمیں پاکستان میں آ گیا‘ پنجاب میں سکھ مسلمان فسادات شروع ہو ئے‘ امیت اس وقت آم توڑ رہا تھا‘ والدین‘ بہن اور چھوٹا بھائی گھر میں تھا‘گھر پر ….مزید پڑھئے‎





Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں