مجھے آدھی رات کو سابق ڈی جی آئی ایس آئی کی جانب سے یہ پیغام ملا، نواز شریف کھل کر بول پڑے ‎‎


لاہور(این این آئی) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائدو سابق وزیر اعظم محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ پاکستانی بن کر رہوں گا غلام بن کر نہیں، ان چیزوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کرچکا ہوں،دوٹوک فیصلہ کیا ہے کہ ہم ذلت کی زندگی نہیں جی سکتے، عزت کی زندگی گزاریں گے،سابقہ ڈی جی آئی ایس آئی ظہیرالاسلام نے جو کیا سب کو معلوم ہے، ظہیرالاسلام نے کہاکہ نوازشریفاستعفیٰ دیں، یہ دھرنوں کے دوران کی بات ہے،آدھی رات کو مجھے پیغام ملا کہ اگر استعفیٰ نہ دیا تو مارشل لاء بھی لگ سکتا ہے،میں نے کہا استعفیٰ نہیں

دوں گا جو کرنا ہے کر لو،کہاجاتا ہے کہ فوج سیاست میں مداخلت نہیں کرتی تو مولانا عبدالغفور حیدری کے بیان کا کیا مطلب ہے،کیا مولانا عبدالغفور حیدری کے بیان کی کوئی تردید ہوئی،قوم نے فیصلہ کرلیا تو تبدیلی سالوں میں نہیں چند مہینوں اور ہفتوں میں آئے گی،تبدیلی ضرور آئے گی،سلیکٹڈ وزیراعظم کو لے آئے ہیں جو نااہل اور پاگل آدمی ہے،جسے لائے ہیں اس کا ذہن خالی ہے، پچھتا تو رہے ہوں گے، آپ لائے ہیں آپ کو ہی جواب دینا ہوگا،یہ شخص تو قصور وار ہے ہی لیکن لانے والے اصل قصور وار ہیں، اس کا جواب بھی انہیں ہی دینا ہوگا،پی ڈی ایم کا فیصلہ ہے کہ اس کا جواب دینا ہوگا،روزانہ بنیادوں پر پارٹی کو دستیاب رہوں گا، پارٹی جو فرض سونپے گی ادا کروں گا۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے لندن سے ویڈیو لنک کے ذریعے پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مرکزی سیکرٹریٹ ماڈل ٹاؤن میں منعقدہ اجلاس میں شاہد خاقان عباسی،مریم نواز،احسن اقبال،راجہ ظفرالحق،رانا تنویر حسین،مریم اورنگزیب،خرم دستگیر،طارق فضل چوہدری،عطاتارڑ،برجیس طاہر سمیت دیگر سینئر ارکان موجود تھے۔نواز شریف نے کہا کہ شہبازشریف مرد میدان،ان کی جرات و بہادری کو سیلوٹ پیش کرتا ہوں،مجھے اپنےبھائی پر بہت فخر ہے جس نے وفاداری اور نظریاتی وابستگی کی مثال قائم کی،شہبازشریف کے ساتھ سلوک پر دکھی ہوں،جو کچھ ہورہا ہے اس سے ہمارے جذبے اور بڑھے ہیں،انشااللہ ہم اپنی جدوجہد مزید تیز کریں گے،ہمیں اس پرفخر ہے کہ ہمارے ساتھی جرات سے حالات کا مقابلہ کررہے ہیں،ہمارے بچوں کے ساتھ جو سلوک ہورہا ہے، تاریخ میں ایسا سیاہ رویہ نہیں ہوا، شہبازشریف نےبے مثال جرات وبہادری اور استقلال کا مظاہرہ کیا ہے شہبازشریف کو سیلوٹ کرتا ہوں کہ انہوں نے دیانتداری سے قوم اور ملک کی خدمت کی۔شہبازشریف نے پنجاب میں دن رات محنت کرکے بجلی کے کارخانے لگائے۔شہبازشریف، خواجہ آصف اور شاہد خاقان عباسی اور ٹیم کے سر یہ سہرا ہے،اسحاق ڈار نے وسائل مہیا کئے، قوم کی خدمت پر اس ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں،ان سرکاری افسران کو بھی سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے توانائی کی قلت ختم کرنے میں کردار ادا کیا،شہبازشریف مرد میدان ہیں، انہوں نے مشکلات کے سامنے سرنہیں جھکایا،شہبازشریف نے ہمارے بیانیے کو تقویت دینے میں کردار ادا کیا،اپنے بھائی پر بہت فخر ہے جس نے وفاداری اور نظریاتی وابستگی کی مثال قائم کی۔گرفتار تو عاصم سلیم باجوہ کو ہونا چاہیے تھا لیکن گرفتار شہبازشریفکو کر لیا گیا،عاصم سلیم باجوہ نے اربوں روپے کیسے بنالئے؟ اس کا حساب کسی نے نہیں پوچھا،عاصم سلیم باجوہ کو کلین چٹ دے دی گئی، جس طرح ثاقب نثار نے بنی گالہ کو دے دی تھی۔انہوں نے کہا کہ باطل کے خلاف کھڑے ہوں تو پیچھے مڑ کر نہیں دیکھنا، یہ ہمارے دین کی تلقین ہے،مشکل کو برداشت کرکے کردار اد اکریں گے تو قوم کو تمام مصیبتوں سے نجات مل جائے گی،ان تمام چیزوںکا حساب دینا ہوگا، انشااللہ وہ وقت دور نہیں۔نواز شریف نے کہا کہ اپنے ملک میں غلام بن کر نہیں رہ سکتا، پاکستانی بن کر رہوں گا۔میں غلام بن کر نہیں رہوں گا، ان چیزوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کرچکا ہوں،دوٹوک فیصلہ کیا ہے کہ ذلت کی زندگی ہم نہیں جی سکتے، عزت کی زندگی گزاریں گے،تبدیلی ضرور آئے گی سلیکٹڈ وزیراعظم کو لے آئے ہیں جو نااہل اورپاگل آدمی ہے،جسے لائے ہیں اس کا ذہن خالی ہے، پچھتا تو رہے ہوں گے، آپ لائے ہیں آپ کو ہی جواب دینا ہوگا۔یہ شخص تو قصور وار ہے ہی لیکن لانے والے اصل قصور وار ہیں، اس کا جواب بھی انہیں ہی دینا ہوگا،پی ڈی ایم کا فیصلہ ہے کہ اس کا جواب دینا ہوگا،روزانہ بنیادوں پر پارٹی کو دستیاب رہوں گا، پارٹی جو فرض سونپے گی، ادا کروں گا۔آپ کی مشاورت کا منتظر ہوں کہ ان مقاصد کےحصول کے لئے کیا حکمت عملی ہونی چاہیے۔نواز شریف نے کہا کہ حافظ حفیظ الرحمن اور راجہ فاروق حیدر کو بھی بہت سلام کرتا ہوں ان کی رائے بہت اہم ہے۔انہوں نے کہا کہ سکھر حیدرآباد کا موٹر وے کا ایک حصہ رہ گیا ہے،اگر دورانیہ مکمل ہونے دیاجاتا تو صورتحال آج کہیں مزید بہتر ہوتی،چار سال کی مدت میں رکاوٹوں کے باوجود بھی ہم نے بھرپور کامیابیاں حاصل کیں،دھرنوںکے باوجود ہم نے ترقیاتی کاموں کو مکمل کیا۔5.8 فیصد پر گروتھ ریٹ چھوڑ کر گئے تھے جو آج منفی ہوچکا ہے۔ہم ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے پاکستان کو وائٹ میں لے کر آئے مصرف پنجاب نہیں بلوچستان میں بھی الحمداللہ ہم نے شاہراہیں بنائیں،ڈیرہ اسماعیل خان سے کوئٹہ تک شاہراہ زیرتعمیر ہے،گوادر کو ترقی دی، شاہراہوں سے ملایا، سی پیک معمولی منصوبہ نہیں مہزارہموٹر وے دیکھ لیں، ہم نے پورے پاکستان کو ترقی دی، کوئی امتیاز نہیں برتا۔احسن اقبال نے اس ضمن میں بہت کام کیا میں ان کی بھی تحسین کرتا ہوں۔سب کو معلوم ہے کہ ہم نے کتنی محنت، ایمانداری سے کاوشیں کیں اور ملک کو ترقی دی۔انہوں نے کہا کہآج عوام کو مہنگائی سے کچل دیاگیا ہے، پاکستان کے عوام ہمارے دور میں سکھ کی زندگی گزار رہے تھے،انہیں سستی اشیاء کو دستیاب تھیں،مہنگائی کا مسئلہ حل ہوگیا تھا،آج عوام کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے، بجلی، گیس کے بل ان پر بم بن کر گر رہے ہیں،ہماری جدوجہد ذات کے لئے نہیں بلکہ 22کروڑ عوام کے لئے ہے،ہمیں جدوجہد کرنا ہے کیونکہ بائیس کروڑ عوام کی مشکلات اور دکھوں میں بے پناہ اضافہ ہوچکا ہے۔ آج کے دور میں لوگ اپنی آمدن میں اخراجات پورے نہیں کرپارہے، یہ ظلم وزیادتی کی انتہاہے۔ عوام بجلیاور گیس کا بل دینے کے قابل نہیں رہے، دو وقت کی روٹی امتحان بن گئی ہے،لوگوں کی سفید پوشی کا جنازہ نکال دیاگیا ہے، بچوں کی سکول کی فیس ادا کرنے کے قابل نہیں،دوائیوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں،جان بچانے والی ادویات بھی عوام کی رسائی سے باہر ہوچکی ہیں،آج بتادے کوئی کہ کیسے عام آدمی زندگی اپنی گزر بسر کرے،آٹے کی قیمت آسمان پر ہے، اوپر سےآٹا ناپید ہونے والا ہے کیونکہ گندم ہی امپورٹ ہی نہیں کی گئی،ہمارے دور میں گندم ایکسپورٹ ہوتی تھی، آج امپورٹ ہورہی ہے،امپورٹ پر کثیر زرمبادلہ درکار ہوگا، یہ سرمایہ کس کی جیب سے آئے گا؟ چینی کی قیمتیں دیکھ لیں، عوام کو کس طرح چینی کے لئے محتاج بنادیاگیا ہے،شہبازشریف کو شاباش ہے کہ انہوں نے انتہائی دباؤکے باوجود چینی کی قیمت بڑھنے نہیں دی تھی،ہم جباقتدار میں آئے تھے تو 50 روپے کلو چینی تھی، اقتدار سے گئے تو چینی کی یہی قیمت تھی،آج کوئی ہے جو ان مسائل کو دیکھے؟ کوئی سوال پوچھے؟ کوئی احتساب کرے؟۔انہوں نے کہا کہ سابقہ ڈی جی آئی ایس آئی ظہیرالاسلام نے جو کیا سب کو معلوم ہے،ظہیرالاسلام نے کہاکہ نوازشریف استعفیٰ دیں، یہ دھرنوں کے دوران کی بات ہے،آدھی رات کو مجھے پیغام ملا کہ اگر استعفیٰ نہدیا تو مارشل لاء بھی لگ سکتا ہے،میں نے کہاکہ استعفیٰ نہیں دوں گا جو کرنا ہے کر لو،کہاجاتا ہے کہ فوج سیاست میں مداخلت نہیں کرتی تو مولانا عبدالغفور حیدری کے بیان کا کیا مطلب ہے؟کیا مولانا عبدالغفور حیدری کے بیان کی کوئی تردید ہوئی؟ اس بیان کا کیا مطلب ہے؟جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے بار کے اجلاس میں کیا کہا؟ کیا اس پر کوئی کارروائی ہوئی؟۔ ہم حق اور سچ پر ہیں تو ہمیںان مظالم کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے میں کوئی ہچکچاہٹ اور تامل نہیں ہونا چاہیے۔ انتخابات دھاندلی ہوئی، کیا ہم اسے مان لیں؟ میرا ضمیر نہیں مانتا،انگریزوں کی غلامی سے نکل کر ہم اپنوں کی غلامی میں آگئے ہیں،آج پارلیمان نمائندے نہیں بلکہ کوئی اور چلارہا ہے، کوئی اور بتاتا ہے کہ کون سا بل لانا ہے؟ کیا کرنا ہے؟یہ سب باتیں سوچنے والی ہیں۔صحافی کو شاباش ہے جس نے سوال پوچھا کہجج سے ملنے کیوں آئے ہیں؟سوال صحیح پوچھے جارہے تھے، دل میں چور تھا، اس لئے جواب نہیں دیا، کتاب سے منہ چھپایا۔جج ارشد ملک نے تسلیم کرلیا کہ میں نے دباؤمیں فیصلہ سنایا۔جج ارشد ملک برطرف ہوگیا لیکن فیصلہ برقرار ہے، الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ آرٹی ایس کی دھاندلی کو تقدیر کا فیصلہ سمجھ کر قبول نہیں کرسکتے،کسی کا حق چھین کر کسی اور کی جھولیمیں گرا دیاجائے، یہ ظلم ہے، قبول نہیں کرسکتے۔70 سال سے یہ سب چل رہا ہے، کیا ایسے ہی چلتے رہنے دیں، ہمارا فیصلہ کہ نہیں،اب ہمیں اس کا دوٹوک طورپر فیصلہ کرنا چاہیے، عدالتوں پر دباؤ ڈال کر مرضی کے فیصلے لئے جاتے ہیں؟ کیا ہم ایسے ہی یہ سب چلنے دیں؟اس سے بڑی اور کیا بدقسمتی ہوگی کہ عدالتوں سے مرضی کے فیصلے لئے جائیں۔پارلیمنٹ کو کٹھ پتلی اور ربڑ سٹیمپبنادیاگیا ہے۔نواز شریف نے کہا کہ اللہ تعالی کے فضل وکرم سے مجھے ہمیشہ کامیابی ملی ہے،صرف دو بار پارلیمنٹ کا رکن نہیں رہا،مشرف کے دور میں جلاوطنی میں تھے تو پارلیمان کا رکن نہیں تھا،آج کے دور میں ایک بار پھر پارلیمان کا رکن نہیں ہوں۔اپنی عزت کو ملحوظ خاطر رکھ کر سیاست کی جاتی ہے،عزت پر سمجھوتہ کرکے سیاست نہیں ہوسکتی،عزت نہ ہو تو پھر کون سی سیاست اور کیسی سیاست؟آج کا دن ان تمام سوالات پر سوچنے کا دن ہے۔قوم کے تعاون اور دعاؤں سے ایک مخلص شخص کو تین بار وزیراعظم بنایا،قوم نے جیسے تین بار وزیراعظم منتخب کیا، اس شخص کے ساتھ یہ سلوک کیاگیا؟

موضوعات:

زندگی کھیل نہیں

حسن راشد کی عمر 28 سال ہے اور یہ مصر کے دارالحکومت قاہرہ کے شمال میں الکالوبیا میں رہتا ہے‘ یہ کھانے پینے کا شوقین ہے‘ فروری میں یہ اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھا تھا‘ ساتھیوں نے اسے تنگ کرنا شروع کر دیا ”تم سب کچھ کھا جاتے ہو‘ تمہارا معدہ ہے یا لوہا پگھلانے کی بھٹی ہے“ ….مزید پڑھئے‎

حسن راشد کی عمر 28 سال ہے اور یہ مصر کے دارالحکومت قاہرہ کے شمال میں الکالوبیا میں رہتا ہے‘ یہ کھانے پینے کا شوقین ہے‘ فروری میں یہ اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھا تھا‘ ساتھیوں نے اسے تنگ کرنا شروع کر دیا ”تم سب کچھ کھا جاتے ہو‘ تمہارا معدہ ہے یا لوہا پگھلانے کی بھٹی ہے“ ….مزید پڑھئے‎





Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں