مریم نواز نے ہزارہ برادری کے مظاہرے میں جا کر وزیراعظم عمران خان سے بڑا مطالبہ کر دیا


کوئٹہ(آن لائن)پاکستان مسلم لیگ(ن) کی نائب صدر مریم نواز شریف نے وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہاہے کہ میں سیاسی اختلافات کوپس پشت ڈال کر آپ سے کہتی ہوں کہ خدارا آؤ،منفی درجہ حرارت میں بیٹھے لوگوں کے سرپر ہاتھ رکھو،ریاست ماں ہے اورعوام کی جان ومال کا تحفظ اس کی ذمہ داری ہے، ہزارہبرادری نے وطن کی ترقی،خوشحالی اور دفاع کیلئے قربانیاں دیں، آج ریاست کی بھاری ذمہ داری ہے کہ وہ ان مظلوموں کے زخموں پرمرہم رکھیں۔ان خیالات کااظہار انہوں نے جمعرات کو کوئٹہ میں مچھ واقعہ کے لواحقین اور ہزارہ برادری کی جانب سے جاری

دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیااس موقع پر پاکستان مسلم لیگ(ن) کے قائدین احسن اقبال،رانا ثناء اللہ،مریم اورنگزیب،انجینئر خرم دستگیر، سینیٹرپرویز رشید،جمال شاہ کاکڑ،رحیم کاکڑ ودیگر بھی موجود تھے۔مریم نواز نے کہاکہ ہزارہ برادری سے جو ان کے پیارے چھینے گئے ہیں اور آپ پر جو قیامت ٹوٹی ہے ان پر میاں نوازشریف،شہبازشریف اورمسلم لیگ(ن) کی طرف سے تعزیت کااظہار کرتی ہوں،مجھے سمجھ نہیں آرہا گزشتہ پانچ دنوں سے یہ غم ٹی وی پر دیکھ رہے ہیں اور میں اپنی بات کہاں سے شروع کروں،جس پر غم ہو اس کاانداز ہ اس سے بہتر کوئی نہیں لگا سکتاہم تکلیف اور غم میں شریک ہوسکتے ہیں لیکن ان دکھوں اور غم کااحساس نہیں کرسکتے،انہوں نے کہاکہ مجھ سے ان قتل ہونے والے لوگوں کی وہ تصاویر نہیں دیکھی گئی،بچے ٹی وی پر ایک بے حس کو پکا رہی تھی کہ جب تک آپ نہیں آئیں گے ہم میتوں کو نہیں دفنائیں گے،ایک طالب علم جو کالج فیس جمع کرنے کیلئے کان میں کام کرنے کیلئے گیا تھا،یہاں ایسی میت بھی ہے جس کے خاندانمیں تدفین کیلئے کوئی مرد نہیں ہے،ہزارہ برادری کو دو میٹر کی ریڈیس تک کیلئے محدود کردیاگیاہے انہیں روزگار،کالج سکولز میں آزادنہ نقل کی آزادی نہیں،2ہزار شہداء کیلئے میرے لئے الفاظ نہیں،یہاں بیٹھا ہر شخص دکھ اور درد کا داستان ہے سارے سیاسی اختلافات بھلا کر یہ کہنا چاہتی ہوں کہ عمران خان آؤ ریاست کاکام تحفظدیناہے،کہتے ہیں ریاست ماں کی طرح ہے مجھے احساس ہے کہ ماں نے اپنا حق ادا نہیں کیا،اگر آپ اپنی ذمہ داری میں ناکام ہے تو آپ ہمت کرے چل کرآئیں اور ان لواحقین کے داد رسی کرے،لواحقین لاشیں رکھ کر آپ کے منتظر ہیں،کہاجاتاہے کہ اس پر سیاست نہ کرے ہم لاشوں پر سیاست نہیں کرتے اگر آپ سیاست سیاست کہہ کر اپنی ناکامیچھپانے کی کوشش کرینگے تو یہ ہم ہونے نہیں دینگے،آپ کو آنا ہوگا لواحقین منفی درجہ حرارت میں لاشیں رکھ کراحتجاج پربیٹھے ہیں ان کا کوئی بڑا مطالبہ نہیں صرف آپ کو آنے اور بات کرنے کاکہہ رہے ہیں تاکہ وہ لاشیں دفنائیں،میں ہزارہ برادری کانمائندہ بن کر سوال پوچھنے کیلئے حق بجانب ہوں کہ آپ اپنے لوگوں کے غم میںشریک ہوں ان کے سرپر ہاتھ رکھ کردکھ بانٹیں،انہوں نے اپیل کی کہ اللہ کے مخلوق پر رحم کیاجائے،ارباب اختیار اور اقتدار کی کرسی پر بیٹھے شخص کی بے حسی پر افسوس ہے،مجھے ایک ماں،بیٹی اور ایک بہن کی حیثیت سے ہزارہ برادری کے دکھوں کا احساس ہے،انہوں نے کہاکہ ہزارہ برادری وہ قوم جنہوں نے اس ملک کی خدمتاور وطن کادفاع کیاہے بلکہ ملک کی ترقی میں اپنا کردارادا کیاہے ریاست کی بھاری ہے کہ وہ اپنا حق ادا کرے اور ہزارہ برادری کے زخموں پر مرہم رکھیں،اگر حکمران یہاں نہیں آتے تو وہ سن لیں یہ قوم اس کو کرسی پربیٹھنے کی اجازت نہیں دے گی،پاکستان مسلم لیگ(ن) کے تمام ہمدردیاں ہزارہ برادری اور لواحقین کے ساتھ ہیں۔

موضوعات:

سٹیٹ کو جاگنا ہوگا

امیت سکھ خاندان میں پیدا ہوا‘ یہ لوگ ڈیرہ بابا نانک (کرتار پور) میں رہتے تھے‘ دو بھائی اور ایک بہن تھے‘ والدین کھیتی باڑی کرتے تھے‘ کرتار پور 1947ءمیں پاکستان میں آ گیا‘ پنجاب میں سکھ مسلمان فسادات شروع ہو ئے‘ امیت اس وقت آم توڑ رہا تھا‘ والدین‘ بہن اور چھوٹا بھائی گھر میں تھا‘گھر پر ….مزید پڑھئے‎

امیت سکھ خاندان میں پیدا ہوا‘ یہ لوگ ڈیرہ بابا نانک (کرتار پور) میں رہتے تھے‘ دو بھائی اور ایک بہن تھے‘ والدین کھیتی باڑی کرتے تھے‘ کرتار پور 1947ءمیں پاکستان میں آ گیا‘ پنجاب میں سکھ مسلمان فسادات شروع ہو ئے‘ امیت اس وقت آم توڑ رہا تھا‘ والدین‘ بہن اور چھوٹا بھائی گھر میں تھا‘گھر پر ….مزید پڑھئے‎





Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں