ملک بھر میں تعلیمی اداروں کو 25جنوری سے کھولنے کی تجویز ، انتہائی اہم فیصلہ متوقع 


اسلام آباد /کراچی(این این آئی) ملک بھرمیں تعلیمی ادارے مرحلہ وار 25 جنوری سے کھولنے کی تجویز پرفیصلہ (کل)پیرکوہوگا۔وفاقی حکومت کے تحت ملک بھرکے تعلیمی ادارے مرحلہ وارتین حصوں میں کھولنے کی تجویز سامنے آئی ہے اور اس بار پہلے مرحلے میں ملک بھر کے پرائمری اسکولز کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس تجویز پر کوئی بھی فیصلہ پیر 4 جنوری کو ہونیوالیبین الصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس ( انٹر پرووینشل ایجوکیشن منسٹرز کانفرنس) کیا جائیگا جو وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کی زیر صدارت ہوگا اور چاروں صوبوں کے وزرائے تعلیم اس کانفرنس میں شریک ہونگے۔نجی ٹی وی کو

 موصول کانفرنس کے ایجنڈے کے مطابق ملک بھر کے چاروں صوبوں میں تعلیمی ادارے دوبارہ کھولنے کا فیصلہ ہیلتھ ایڈوائزری کی بنیاد پر کوویڈ کیسز کو سامنے رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں کانفرنس کو تجویز دی گئی ہے کہ پہلے مرحلے میں ملک بھر کے سرکاری و نجی پرائمری اسکولز 25 جنوری 2021 سے کھول دیئے جائیں جبکہ دوسرے کے مرحلے میں 4 فروری سے مڈل /سیکنڈری اسکولز کھول دیے جائیں اور تیسرے مرحلے میں ہائرمڈل/سیکنڈری اور اس کے مساوی تعلیمی ادارے کھولے جائیں۔محکمہ تعلیم کے افسر نے بتایا کہ’’ پہلے مرحلے میں پرائمری تعلیمی ادارے کھولنے کی تجویز اس لیے زیر غور ہے کہ موصولہ ڈیٹا کے مطابق ملک میں کوویڈ کی شدت سے سب سے کم چھوٹے بچے متاثرہوئے ہیں اور کوویڈ کم عمر بچوں کو دیگر age group کی طرح اثر انداز نہیں کررہا تاہم تعلیمی افسر کا کہنا تھا کہ اسکول کھولنے سے متعلق یہ تینوں تاریخیں مجوزہ ہیں اور اگر کوویڈ کی صورتحال بدستور خراب رہی تو 19 جنوری کو دوبارہ بین الصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس بلاکر اس پر غور اور رد بدل کیا جاسکتا ہے تاہم اس سلسلے میں کوئی بھی فیصلہ (اس مرض سے بچنے کا قومی رجحان اور اسپتالوں میں مریضوں کی تعداد و ملک کے نظام صحت پر موجودہ دبائو)کو سامنے رکھتے ہوئے کیا جائے گا‘‘۔علاوہ ازیں 4 جنوری کو ہونے والے اجلاس کے لیے بنائے گئے ایجنڈے کے مطابق ملک بھر میں سکولز اور بورڈز کی سطح پر امتحانات مئی کے آخری یا پھر جون کے اوائل سے شروع کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ اس سے قبل اکیڈمک کورس ورک کی تکمیل کرلی جائے گی اسی طرح گرمیوں کی تعطیلات کا دورانیہ کم کیا جائے گا اور نیا تعلیمی سال 2021 اگست سے شروع کیا جائے گا۔





Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں