مولانا محمد خان شیرانی اور حافظ حسین احمد اسرائیلی ٹولہ اور یہودی لابی کے لوگ ہیں مولانا عبد الغفور حیدری کی سابق پارٹی اراکین پر شدید تنقید ، سنگین الزامات عائد


اسلام آباد (این این آئی)جمعیت علمائے اسلام کے سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام کے خلاف اسرائیلی ٹولہ خلاف ہے۔ گزشتہ روز جمعرات کو جمعیت علمائے اسلام کے سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری نے جے یو آئی کے ناراض رہنماؤں کے اجلاس پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ جمعیت علمائے اسلام کے خلاف اسرائیلی ٹولہ خلاف ہے،مولانا محمد خان شیرانی اور حافظ حسین احمد کو جے یو آئی نے نکال دیا ہے وہ اسرائیلی ٹولہ ہے،اب وہ کسی کی حمایت میں بیان دیں تدریس یا کسی تنظیم کا کام کریں میں کچھ نہیں

کہ سکتا،اْن قوتوں نے اْنہیں یہاں تک پہنچایا میں سمجھتا وہ نا دانستہ طور پر حکوت یا اداروں کے لیے استعمال ہوئے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت نے سوچا اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے کچھ بے ضمیر لوگوں سے رائے بنائی جائے،حافظ حسین احمد مسلسل مولانا فضل الرحمن پر مسلسل تنقید کرتے رہے،جمعیت علمائے اسلام نے حافظ حسین احمد کو بیماری کی حالت میں ساتھ رکھا۔‎دوسری جانب آج جمعہ کو سینیٹ میں جمعیت علمائے اسلام (ف)کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر عبدالغفور حیدری نے کہا ہے کہ ہم ٹکڑے ٹکرے ہو جائیں مگر نیب میں پیش نہیں ہوں گے،نیب پہلے الزامات لگاتا ہے، بے عزتی کرتا ہے، پھر کہتا ہے کچھ ثابت نہیں ہوا،یہ بلیک میل کرنا کا دھندہ ہے، پیچھے سے پش کیا جاتا ہے کہ آپ نے یہ کرنا ہے،مولانا فضل الرحمن کا قصور یہ ہے جن شخصیتوں نے سلیکٹ کیا ہے ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر باتیں کرتے ہیں،اس لئے مولانا فضل الرحمن کا نیب اور میڈیا ٹرائل کیا جاتا ہے۔ سینیٹ کااجلاس چیئر مین سینٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت ہوا جس میں اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر راجہ ظفر الحق نے کہاکہ نیب کے معاملہ پر پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہیے ،اس معاملہ پر اپوزیشن کے ایجنڈا کے باوجودحکومتی ارکان کو بھی بحث کا موقع دیا جائے ،یہ معاملہ پارلیمان کی کمیٹی کو بھیجا جائے ۔ انہوںنے کہاکہ نیب قانون کی روح متاثر ہورہی ہے۔ سینیٹر راجہ ظفرالحق نے کہا کہ عدالت سے باہر ہی ٹرائل شروع کر کے متعلقہ افراد کی بدنامی کی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ عدالتوں کی جانب سے بھی اظہار کیا گیا ہے کہ نیب کا عمل یک طرفہ ہو رہا ہے، اس کا مقصد ہے کہ مخالفین کو بدنام کیا جائےراجہ ظفر الحق نے کہا کہ جنگ کے چیف ایڈیٹر میر شکیل الرحمن کو بھی گرفتار کیا گیا، تاہم اس کیس کا بھی کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔انہوں نے کہا کہ مخصوص افراد کو ہدف بنایا جاتا ہے، خواجہ آصف کو گرفتار کیا گیا، اس معاملے کو کمیٹی کے سپرد کر کے بحث کی جائے۔اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ کہا جاتا ہے کہ مولانا کے اسلام آبا د میں دو تین ارب کیجائیدادیں ہیں، مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ان کے کاغذات تو لے آئیں،دو ڈھائی سال میں اپنے وعدوں میں عمل درآمد کراتے، ملک کو آگے لے جاتے، کہا گیا کہ قرضے نہیں لوں گا،خودکشی کروں گا، پچاس لاکھ لوگوں کو گھر دینے کا وعدہ کیا ہوا، غریب اس کرونا میں ہسپتال میں جاتا ہے، اسکے پاس پیسے نہیں ہوتے اور تڑپ تڑپ کر مرجاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں (حکومت)نے کچھ افراد کواپوزیشن کے پیچھے لگا دیا ہے اور کہتے ہیں کہ فوج ہمارے پیچھے ہیں، آپ کیوں فوج کو سیاست میں ملوث کرتے ہو، فوج کے پیچھے چھپ کر حکومت نہیں چلائی جاتی، سی پیک کہا ں گیا؟، آج آپ کی معیشت بیٹھ گئی ہے، اللہ وہ دن نہیں دکھائے جس دن قومی اسمبلی، سینیٹ کو چلانے اور ملازمین کو دینے کیلئے پیسے نہیں ہوں،خدارا ملک کا سوچیں، ہماری پگڑیاں اچھال کر ٹرائل کرناناقابل قبول ہے،نیب سے احتساب نہیں، انتقام کی بوآتی ہے،حکومت بولتی رہتی ہے اب ہمارے بولنے کی باری ہے،خواجہ آصف کو اقامہ کی بنیادپر گرفتار کیا گیا،آصف زرداری ماضی میں بھی گرفتار ہوئے اب بھی بغیر وجہ کے جیل میں ہے،نیب احتساب کا نہیں،اپوزیشن کا انتقام کا ادارہ ہے،مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ نیب نے گرفتار کرنا ہے تو کرے، نیب کے در پر نہیں جاؤں گا، یہ ادارہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کررہا ہے،خواجہ آصف جیسے شریف شخص کی گرفتار کی مذمت کرتا ہوں،نیب انتقامی ادارہ بن چکا ہے، اس کے توسط سے میڈیا ٹرائل کیا جاتا ہے، بے ضمیر اینکرز کو ہائیر کیا جا تا ہے، چیئرمین اس کو نوٹس لیں۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر جاوید عباسی نے اظہا ر خیال کرتے ہوئے کہاکہ نیب احتساب کا ادارہ نہیں پی ٹی آئی کا ایک ونگ بن چکا ہے،یہ وہی پرانی باتیں اور طعنے دئیے جاتے ہیں،پارلیمنٹ سب سےبڑا ادارہ ہے، پارلیمنٹ کو ہی آئین میں ترمیم کی اجازت ہے، پارلیمان ہی چیک اینڈ بیلنس رکھ سکتی ہے، اس ملک میں نیب اور حکومت کی وجہ سے جو صورتحال پیدا ہو چکی ہے، اس پر پارلیمان میں بحث ہونی چاہیے،کوئی ادارہ جب آئین کی خلاف ورزی کرے پھر انتظامیہ اس کے پیچھے کھڑی ہو تو پارلیمنٹ کو نوٹس لینا چاہیے،سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ ادارہ(نیب)سیاسی ونگ بن چکا ہے اور سیاسیوفاداریاں تبدیل کرنے میں لگے ہیں،ریفرنس ابھی فائل نہیں ہوتے اور لوگوں کی پگڑیاں اچھال دیتے ہیں، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کیساتھ کیا سلوک روا رکھا جاتا ہے، جعلی کیسز بنائے جاتے ہیں اس کی دنیا میں کوئی اہمیت نہیں، ان کیسز سے نہیں ڈرتے، ملک کے بیورو کریسی اور تاجر آرمی چیف سے ملاقات میں نیب کی شکایات کرتے ہیں، بیوروکرسی کام کرنے سے ڈر رہی ہے، اس ملک کے سیاستدانوں کےساتھ کارروائیوں سے اپنی انتقام کی پیاس بجھائے مگر اس ملک کے تاجروں کا کیا قصور ہے۔جاوید عباسی نے کہا کہ آج ملک میں سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے سامنے کھڑی ہیں، ہم ان کی طرح الزامات اور بہتان نہیں لگاسکتے، یہ معاملہ چوری کا نہیں،سینہ زوری کا ہے،مضبوط ملک اور جمہوریت کیلئے احتساب کا ادارہ ہونا چاہیے،لوگوں کی عزتیں اورپگڑیاں اچھالنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔





Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں