مچھ واقعہ سے متعلق دھرنا منتظمین اور حکومت کے مابین تحریری معاہدے کی تفصیلات منظر عام پر آگئی


کوئٹہ(آن لائن)مچھ واقعہ سے متعلق دھرنا منتظمین اور حکومت کے مابین تحریری معاہدے کی تفصیلات منظرِ عام پر آگئی ہیں،6نکاتی معاہدے کے تحت مچھ واقعہ کی تحقیقات کیلئے وزیرداخلہ کی سربراہی میں خصوصی کمیشن ،غفلت برتنے پر آفیسران کے خلاف کارروائی ،ہزارہ برادری سے متعلق سیکورٹی کیلئے نیا پلان ،لواحقین کو روزگار کی فراہمی سمیت ہزارہ برادری کےشناختی کارڈ اور پاسپورٹ سے متعلق مسائل حل کئے جائیںگے ۔حکومت بلوچستان اور مچھ واقعہ کے خلاف لواحقین اور ہزارہ برادری کی جانب سے دھرنے کے منتظمین کے درمیان ہونے والے تحریری معاہدے کی تفصیلات منظر عام پر آگئی دونوں فریقین کے مابین

پہلی بار کوئی تحریری معاہدہ عمل میں آیا ہے۔ معاہدے کے متن کے مطابق دونوں فریقین سانحہ مچھ کی تحقیقات کیلئے وزیرِ داخلہ بلوچستان کی سربراہی میں خصوصی کمیشن کی تشکیل پر رضامند ہیں۔مذکورہ خصوصی کمیشن میں 2 ممبرانِ اسمبلی، ڈی آئی جی رینک کا ایک آفیسر اور شہدا کے لواحقین میں سے 2 افراد کو شامل کیا جائے گا۔ اگر جے آئی ٹی کے ذمہ دار افسران کو سانحہ مچھ کے حوالے سے کسی بھی غیر قانونی اقدام میں ملوث پایا تو ان کے خلاف سخت ایکشن ہوگا۔بلوچستان حکومت شہدا کے لواحقین کو فی کس 15 لاکھ روپے کے امدادی چیکس دے گی۔ خصوصی کمیشن کے طے کردہ ٹی او آرز کے مطابق کمیشن کا کام سانحہ مچھ تحقیقات کی نگرانی ہوگا۔گزشتہ 22 برس میں ہزارہ برادری پر جو حملے ہوئے، ان کی باریک بینی سے تفتیش کی جائے گی۔خصوصی کمیشن ہزارہ برادری کے لاپتہ افراد سے متعلق تحقیقات بھی کرے گا۔ صوبائی حکومت اور حساس ادارے مل کر سیکیورٹی صورت حال پر نیا پلان مرتب کریں گے ہزارہ برادری کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ سے متعلق مسائل کے حل کیلئے ڈی جی نادرہ و پاسپورٹ کام کریں گے لواحقین کو روزگار کے مواقع بھی فراہم کیے جائیں گے۔





Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں