میں کنفیوز ہوں


میرے ایک د وست عمران خان کے دیوانے ہیں‘ یہ سویڈن میں رہتے ہیں‘ کاروباری ہیں‘ ارب پتی ہیں‘ ان کی زندگی کاروبار اور کرکٹ صرف دو محور میں گھومتی تھی‘ یہ پاکستانی ٹیم کے ساتھ ساتھ دنیابھر میں پھرتے رہتے تھے‘ ایک کرکٹ سیریز ختم ہوتی تھی تو یہ اگلی سیریز کا انتظار شروع کر دیتے تھے‘ یہ کرکٹ بینی کے اس دور میں عمران خان سے دیوانگی کی حد تک پیار کرنے لگے‘ 1991ءمیں شوکت خانم ہسپتال شروع ہوا‘ یہ اس عظیم منصوبے کے ابتدائی ڈونرز میں شامل ہو گئے۔

یہ یورپ میں شوکت خانم ہسپتال کے ہر چیریٹی فنکشن میں پہنچ جاتے تھے اور سب سے پہلے چیریٹی کا اعلان کرتے تھے‘ یہ اپنے دوستوں‘ رشتے داروں اور کاروباری شراکت داروں سے بھی کینسر

ہسپتال کی سپورٹ کراتے تھے‘ 1994ءمیں کینسر ہسپتال بن گیا‘ یہ افتتاحی تقریب میں بھی شریک ہوئے‘ عمران خان نے 1996ءمیں پاکستان تحریک انصاف کی بنیاد رکھی تو یہ باقاعدہ فارم پر کر کے پارٹی کے کارکن بن گئے‘ مجھے آج بھی یاد ہے یہ عمران خان کی پہلی پریس کانفرنس میں شرکت کے لیے سویڈن سے لاہورآئے تھے‘ میں انہیں اپنے ساتھ لے کر اس پریس کانفرنس میں شریک ہوا تھا‘ عمران خان اس وقت بہت شرمیلے ہوتے تھے‘ یہ شرما شرما کر بول رہے تھے لیکن لوگ اس کے باوجود تالیاں بجا رہے تھے‘ میرے دوست نے اس دن پریس کانفرنس میں بیٹھے بیٹھے اپنی ساری توقعات عمران خان سے وابستہ کرلیں‘ میں بھی اس سے متفق تھا‘ عوام ملک کی دونوں بڑی پارٹیوں سے تنگ تھے‘ یہ کسی تیسری بڑی فورس کا راستہ دیکھ رہے تھے اور عمران خان عوام کی توقعات کے خانے میں پوری طرح فٹ بیٹھتے تھے‘ یہ نوجوان تھے‘ سمارٹ تھے‘ پوری دنیا میں مشہور تھے‘ اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے‘ ملک کو ورلڈ کپ کا تحفہ دے چکے تھے اور دنیا کے مشہور کاروباری خاندان کے داماد تھے لہٰذا ان کا سیاسی مستقبل ہر لحاظ سے روشن تھا‘ صاف نظر آ رہا تھا قائداعظم اور ذوالفقار علی بھٹو کے بعد ملک ایک تیسری صاف‘ ستھری اور طاقتور قیادت کی طرف بڑھ رہا ہے اور عمران خان ملک کا مقدر بدل دیں گے وغیرہ وغیرہ‘ میرا یہ دوست بھی بہت پرامید تھا اور میں بھی۔

میں نے 1997ءمیں کالم لکھنا شروع کیا‘ عمران خان کے کزن اور بہنوئی حفیظ اللہ نیازی سے رابطہ ہوا‘ یہ مجھے عمران خان کے پاس لے گئے اور یوں میرے ان کے ساتھ دوستانہ تعلقات استوار ہو گئے‘ میں ان کے فنکشنز میں بھی شریک ہونے لگا اور یہ مجھ سے اپنے کارکنوں کو لیکچر بھی دلانے لگے‘ جنرل مجیب الرحمن پارٹی کے سیکرٹری جنرل تھے‘ میرے ان سے 1993ءسے بہت اچھے تعلقات تھے‘ میں نے ان کے کہنے پر پارٹی کے چند بروشرز بھی لکھے اور پارٹی کے نیوز لیٹرز بھی ڈیزائن کیے۔

میں دل سے عمران خان کو ملک میں تبدیلی کی بنیاد سمجھتا تھا‘ میں ان کا دیوانہ بھی تھا‘ یہ دیوانگی وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی رہی‘ میری اس دوران آج کے وزیراعظم سے درجنوں ملاقاتیں ہوئیں اور میں ہر بار ان سے مزید متاثر ہو کر اٹھا‘ یہ ان دنوں ای الیون میں جمائما خان کے ساتھ رہتے تھے‘ ان کے گھر میں صرف چار فرد ہوتے تھے‘ یہ‘ جمائما‘ ان کا ملازم اور ان کا کتا اور بس‘ جمائما خان کا زیادہ تر وقت ٹیرس پر بیٹھ کر مارگلہ کی پہاڑیوں کو دیکھتے ہوئے گزرتا تھا جب کہ عمران خان کتے کے ساتھ گفتگو کرتے رہتے تھے۔

میں نے 2008ءمیں ٹیلی ویژن شو شروع کیا‘ یہ میرے شومیں آنا شروع ہوئے اور یہ 2014ءتک پاکستان میں سب سے زیادہ میرے شو میں آئے‘ میں آج جب بے شمار لوگوں کو ان کے اردگرد منڈلاتے دیکھتا ہوں تو میرے ہنسی نکل جاتی ہے‘ کیوں؟ کیوں کہ یہ وہ لوگ تھے جو آج سے دس بارہ سال پہلے تک عمران خان کے ساتھ بیٹھنے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتے تھے‘ شیخ رشید ایک دن انہیں دیکھ کر بڑبڑاتے ہوئے سٹوڈیو کے دروازے سے واپس چلے گئے تھے‘ شیخ صاحب نے اس دن خان صاحب کے بارے میں کیا کہا تھا میں آج وہ لفظ دوہرا بھی نہیں سکتا۔

شاہ محمود قریشی عمران خان کے ساتھ پہلی بار ہمارے شو میں آئے تھے لیکن یہ کیوں اور کس کے کہنے پر آئے تھے‘ میں یہ بھی نہیں بتا سکتا اور جہانگیر ترین کو آصف علی زرداری نے کس کے ذریعے پی ٹی آئی میں شامل کرایا تھا یہ بھی ایک دل چسپ راز ہے اور یہ راز مجھے جنرل پاشا نے ایک دوپہر ایف ایٹ کے ایک ریستوران میں بتایا تھا اور میرے پاس حیرت کے سوا کوئی تاثر نہیں تھا لیکن پھر 2014ءآ گیا اور عمران خان آزادی مارچ سے پہلے مجھے اپنے ساتھ بنوں لے گئے۔

ریحام خان بھی ہمارے ساتھ تھیں‘ یہ سفر ایک نظریاتی اختلاف کا باعث بن گیا اور میں گستاخوں کی فہرست میں شامل ہو گیا‘14 اگست 2014ءکو عمران خان کا آزادی مارچ شروع ہوا‘ پورا میڈیا ان کا حامی تھا جب کہ میں اکیلا اس مارچ کا مخالف تھا‘ سوشل میڈیا سکواڈ تازہ تازہ میدان میں اترا تھا چناں چہ مجھے لاکھوں کی تعداد میں گالیاں پڑنے لگیں‘ وہ میرے کیریئر کا مشکل ترین دور تھا‘ میں نے اس دور میں بے شمار دوست اور فین لوز کر دیے مگر ڈھیٹ ہونے کی و جہ سے میدان میں ڈٹا رہا۔ میرا سویڈن کا عزیز ترین دوست بھی مجھ سے ناراض ہو گیا۔

یہ مجھ سے پوچھا کرتا تھا ”کیا تم عمران خان کو مخلص نہیں سمجھتے تھے“ میں کہتا تھا” عمران خان میں تین شان دار خوبیاں ہیں‘ یہ ایمان دار ہیں‘ بہادر ہیں اور یہ اپنے کاز میں کلیئر ہیں‘ یہ گیواپ بھی نہیں کرتے اور یہ بات بھی ٹھیک کر رہے ہیں لیکن میں اس کے باوجود ان کا ساتھ نہیں دے سکتا“ یہ پوچھتے تھے”عمران خان میں کیا خرابی ہے“ میں جواب دیتا تھا” یہ غلط لوگوں کے ہاتھوں میں پہنچ گئے ہیں‘ یہ لوگ ان کی شہرت کو اپنے ایجنڈے کے لیے استعمال کر رہے ہیں‘ یہ کھیل ملک کو برباد کر دے گا اور ہم دہائیوں پیچھے چلے جائیںگے“ میرا دوست میری بات سے اتفاق نہیں کرتا تھا بہرحال قصہ مختصر اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ اب تاریخ بن چکا ہے۔

عمران خان اس وقت وزیراعظم ہیں‘ یہ دو سال اور تین ماہ گزار چکے ہیں‘ مجھے چند دن قبل اچانک محسوس ہوا میرا چھ سال کا بیانیہ درست نہیں تھا‘ میری عمران خان اور ان کی ٹیم کے بارے میں رائے سو فیصد غلط تھی ‘ میں گندی عینک کے ساتھ انہیں دیکھ رہا تھا اور یہ سراسر زیادتی اور ظلم تھا‘ یہ لوگ تو بہت شان دار ہیں اور ملک ان کے دور میں واقعی ترقی کر رہا ہے‘ مجھے شدید ندامت ہوئی اور میں رات کے وقت اپنے اس دوست کے گھر پہنچ گیا۔

وہ سویڈن واپس جانے کے لیے سامان باندھ رہا تھا‘ بچے جا چکے تھے اور یہ دو دن بعد روانہ ہو رہا تھا‘ میں اس کے پاس بیٹھ گیا‘ اس کے گھٹنے کو ہاتھ لگایا اور شرمندگی کے ساتھ عرض کیا ”رشید بھائی آپ لوگ بہت سمجھ دار‘ عقل مند اور تجربہ کار ہیں‘ وقت نے ثابت کر دیا میں ناتجربہ کاری اور بغض کی وجہ سے حکومت کو ”انڈر ایسٹی میٹ“ کرتا رہا او ریہ میری غلطی تھی‘ یہ یقینا تاریخ کی کام یاب ترین حکومت ہے‘ ملک کے 22 کروڑ لوگوں کواس کی کام یابی نظر آ رہی ہے۔

صرف میری عینک خراب تھی اور میں آج اس پر شرمندہ ہوں“ وہ خالی خالی نظروں سے میری طرف دیکھنے لگے‘ میں نے کہا” میں ٹھیک ہو گیا ہوں‘ میں اب حکومت کی باتوں پر فوراً یقین کر لیتا ہوں‘یہ لوگ کہتے ہیں ملک میں کوئی مہنگائی نہیں‘ گورننس اور مینجمنٹ کا بھی کوئی ایشو نہیں‘ کشمیر بھی ہمارے ہاتھوں سے نہیں نکلا‘ معیشت بھی مضبوط ہو رہی ہے‘ بیوروکریسی بھی ٹھیک کام کر رہی ہے اور پولیس بھی مکمل طور پر بدل چکی ہے‘ میں ان کی بات پریقین کر لیتا ہوں۔

میں یہ بھی سمجھتا ہوں پنجاب کا مقدر عثمان بزدار ہی بدلیں گے اور بیوروکریسی کی اے سی آر بھی ٹائیگر فورس سے لکھوائی جانی چاہیے‘ حکومت اگر انہیں تھانوں کی انسپکشن‘ ٹیکس کولیکشن اور محکمہ مال کا چارج بھی دے دے تو ملک مزید ٹھیک ہو جائے گا‘ مجھے کپتان کے لہجے میں بڑا جذبہ‘ بڑی حرارت محسوس ہوتی ہے‘ مجھے یقین سا ہونے لگا ہے یہ ملک دو برسوں میں ایشیا سے اڑ کر یورپ میں جا گرے گا‘ آٹھ ہزار ارب روپے ٹیکس بھی جمع ہو جائے گا ۔

ہم سو ارب ڈالر ایک اور سو ارب ڈالر دوسرے منہ پر بھی دے ماریں گے‘ ہم آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کو قرضے دینے کے قابل بھی ہو جائیں گے‘ میں یہ بھی سمجھ گیا ہوں چینی ہو‘ دالیں ہوں‘ آٹا ہو‘ گھی ہو یا پھر ادویات ہوں ان کی مہنگائی کا اصل ذمہ دار میاں نواز شریف ہے اور ملک کا سب سے بڑا مسئلہ آصف علی زرداری اور شریف خاندان ہے‘ یہ لوگ جب تک زندہ ہیں ملک کے مسائل ختم نہیں ہو سکتے چناں چہ میں آپ سے معافی مانگنا چاہتا ہوں‘ پلیز مجھے معاف کر دیں“۔

میرے دوست نیچے جھکے‘ اپنا جوتا اتارا‘ میرے ہاتھ میں دیا اور خود فرش پر بیٹھ گئے اور میں اس وقت سے حیران ہوں ‘رشید بھائی میرے بڑے بھائی ہیں‘ انہوں نے ایسا کیوں کیا؟ میں کہیں دوبارہ کوئی گستاخی تو نہیں کر بیٹھا‘ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘ آپ کو اگر آ رہی ہو تو پلیز مجھے بتا دیں‘ میں کنفیوز ہوں۔





Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں