نائیک سیف علی جنجوعہ شہید کا یوم شہادت عقیدت و احترام سے منایا گیا،پڑھئے ان کی بہادری کی عظیم داستان


اسلام  آباد (آن لائن) جرات اور بہادری کی عظیم لازوال داستان رقم کرنے والے آزاد جموں و کشمیر کے سپوت نائیک سیف علی جنجوعہ شہید کا  یوم شہادت  عقیدت و احترام سے منایا گیا ۔ نائیک سیف علی جنجوعہ نے مادر وطن کیلئے اپنی جان قربان کردی لیکن وطن کی حرمت پر آنچ نہیں آنے دی ، ،نائیک سیف علی جنجوعہ، آزاد جموں و کشمیر کے ضلع کوٹلی کی تحصیل نکیال کےایک گاوں میں 25 اپریل 1922ء میں پیدا ہوئے،انہوں نے 18 سال کی عمر میں برٹش انڈین آرمی کی رائل کور میں بطور سپاہی شمولیت اختیار کی،اس دوران وہ

دوسری جنگ عظیم میں چار سال بیرون ملک محاذ پر بھی تعینات رہے ، جنگ کے بعد ان کی یونٹ جالندھر اور لاہور میں تعینات ہوئی ،قیام پاکستان کے بعد وہ اپنے آبائی علاقے میں آگئے اور سردار فتح محمد کریلوی کی حیدری فورس میں شامل ہوگئے،جو بعدازاں آزاد کشمیر رجمنٹ کا حصہ بنی ، سیف علی جنجوعہ کی قائدانہ صلاحیت کو دیکھتے ہوئے انہیں نائیک کے عہدے پر ترقی دے د ی گئی ، اور بعدازاں انہیں پلاٹون کمانڈر بنا کر مینڈھر سیکٹر پر پیر کالیوا کے مقام پر دشمن کا حملہ روکنے کا حکم ملا، جہاں انہوں نے بھارتی فوج کے پورے بریگیڈ سے جوانمردی کے ساتھ مقابلہ کیا ، اور جرات اور بہادری کی لازوال داستان رقم کی ، ان کی پلاٹون نے دستیاب فائر پاور اور مختصر نفری کے ساتھ بھارتی بریگیڈ کے چار حملے پسپا کئے، نائیک سیف علی جنجوعہ نے بھارتی فوج کے وطن کی حرمنت کیلئے بے جگری اور جانبازی کی عظیم داستان رقم کرتے ہوئے 26اکتوبر 1948ء کو جام شہادت نوش کیا ، جس پر 14 مارچ 1949ء کو حکومت آزاد جموں و کشمیر نے نائیک سیف علی خان جنجوعہ کو آزاد جموں و کشمیر کا سب سے بڑا جنگی اعزاز” ہلال کشمیر ” عطا کیا، جو نشان حیدر کے مساوی ہے ، حکومت پاکستان نے آپ کی لازوال قربانی کی یاد میں 30 اپریل 2013 کو ایک یادگاری ٹکٹ بھی جاری کیا۔





Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں