نواز شریف کی تھپکی کے بغیر ایاز صادق اس سطح کا بیان نہیں دے سکتے ، فوج کیخلاف بیان بازی غیر ملکی ایجنڈا ہے، عقل کے اندھوں کو اس بات کااندازہ ہی نہیں،تہلکہ خیز دعویٰ


لاہور( این این آئی) وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ نواز شریف کی تھپکی کے بغیر ایاز صادق اس سطح کا بیان نہیں دے سکتے ، فوج کے خلاف جس طرح کی زبان استعمال کی جارہی ہے یہ غیر ملکی ایجنڈا ہے ، اگر اپوزیشن نے سیاسی لڑائی لڑنی ہے تو عمران خان میدان میں ہے لیکن اگر آپ ریاست سے لڑائی لڑیں گے تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے ، عقل کے اندوں کو اندازہنہیں ہے کہ پاکستان کی سیاست کس خطرناک مراحل میں داخل ہو چکی ہے اور اس کے کچھ بھی نتائج

نکل سکتے ہیں ، آج سے نئی سیاست شروع ہو رہی ہے اور نوے روز میں فیصلہ ہو جائے گا۔ ریلوے ہیڈ کوارٹر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیاسی حالات کافی ابتر ہوتے جارہے ہیں ،آج سیاست کو ریاست پر اہمیت دی جارہی ہے جو انتہائی غیر ذمہ دارانہ حرکت ہے ، کوئی سوچ بھی نہیں سکتا کہ ایاز صادق نوازشریف کی تھپکی کے بغیر یہ بیان دے سکتا ہے ،نواز شریف نے چھ آرمی چیف لگائے لیکن ان کی سب کے ساتھ لڑائی ہوئی ، ان کا ایجنڈ ا اس خوفناک حد تک آگے بڑھتا جارہا ہے کہ پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کو یہ کہنا پڑا کہ فوج میں غم وغصہ پایا جارہا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ وہ ادارے ادارے جو جمہوری نظام اور ملک و قوم کی سلامتی کی علامت ہیں ان کے خلاف بات نہیں ہونی چاہیے ،فوج شدید حالات کے باوجود بھی جمہوریت کی ضمانت ہے ،جو کچھ فوج کے بارے میں بات کی جارہی ہے یہ سوچی سمجھی سازش کے تحت کہا جارہا ہے اوریہ غیر ملکی ایجنڈا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کوئی دسمبر اورکوئی جنوری کی بات کررہا ہے ،میں نے یکم نومبر سے 20فروری تک کا وقت دیا ہے اور اس میں کٹی کٹا نکل آئے گا ۔غیر ملکی ایجنڈے کے تحت پاکستان کے خلاف پیسہ لگایا جارہا ہے ۔ میں نے نیکٹا کے تھریٹ الرٹ اور سیاسی بصیرت کی بنا ء پر کوئٹہ اور پشاورمیں تحریب کاری کے واقعہ کی بات کی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ملک میں کو آگے لے کر چلنا ہے تو سیاسی لڑائی لڑیں عمران خان میدان میں ہے لیکن اگر ریاست سے لڑیں گے تو اس کے نتائج سنگین ہوں گے ، سیاست سے لڑائی آپ کا حق ہے لیکن ریاست سے لڑائی آپ کا حق نہیں ہے ۔ آج ملک دشمن قوتیں پاکستان کے خلاف سرمایہ کاری کر رہی ہیں ، غیر ملکی دبائو کے ساتھ پاکستانکے اندر بھی خلفشار اور انتشار کی کوشش کی جارہی ہے اور پھر کہیں ایسا نہ ہو کہ سیاسی قوتوں کوپچھتانا پڑے ، ملک اس طرح کے حالات میں زیادہ دیر نہیں چل سکتے ۔ انہوں نے کہا کہ ایاز صادق نے جو بیان دیا ہے اس پر پاکستان کے دشمن بغلیں اور شادیانے بجارہے ہیں ۔ بھارت کو جو ندامت اور شکست ہوئی ایاز صادق کے بیان کے ذریعے وہ اس داغ کو دھو رہے ہیں ۔ مجھے سمجھنہیں آتی کہ ایاز صادق کو کیوں لانچ کیا گیا ، یہ سمجھ آتی ہے شاید شاہد خاقان عباسی کی جانب سے ڈائیلاگ کے بیان کے بعد ایسا کیا گیا ہے ۔ عمران خان نے کہا کہ کرپشن کے علاوہ تمام ایشوز پر مذاکرات ہو سکتے ہیں ۔اگر جمہوریت کو کسی حادثے سے دوچار کرنا ہو تو پھر بیشک مذاکرات کے دروازے بند کر دئے جائیں ۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور مریم نواز نے جو بیج بویا ہےسیاست میں ان کے لیے صرف مشکلات اور ناممکنات ہیں ۔انہوںنے کہاکہ پیپلز پارٹی نے بہتر سیاست کھیلی ہے اور سوچ سمجھ کر بیان دئیے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن کے پاس چھ فیصد ووٹ ہیں مگر ان کے پاس مدرسوں کی طاقت ہے ،وہ سینٹ اور صوبے میں ممبرز تو لاسکتے ہیں مگر ملکی سطح پر ان کی سیاست بڑی پارٹیوں کی محتاج ہے ،وہ حکومت کے لیے مشکلات تو پیدا کرسکتے ہیںمگر ملکی سیاست میں ان کے لیے حصہ نہیں ،چھ فیصد ووٹوں سے ہنگامہ آرائی، انتشار اور خلفشار پیدا کیا جاسکتا ہے لیکن ملک کی تقدیر نہیں بدلی جا سکتی ۔انہوں نے کہا کہ عقل کے اندھوں کو اندازہ نہیں ہے کہ سیاست کس خطرناک مراحل میں داخل ہو گئے ہے ، انہیں اندازہ نہیں ہے کہ سیاست کس دورائے پر پہنچ چکی ہے اور اس کے کچھ بھی نتائج نکل سکتے ہیں ،عمران خان کہیںنہیں جارہا ،20فروری تک حالات بہتر ہو جائیں گے ۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ نہ ملک مارشل لا کی طرف جارہا ہے نہ ہی اسمبلیاں توڑی جارہی ہیں ،عمران خان سرخرو ہوکر نکلے گا۔انہوںنے کہا کہ اگر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی مل سکتے ہیں تو حکومت کے ساتھ مذاکرات کیوں نہیں ہو سکتے۔ سلامتی کے ادارے کے حوصلے کی داد دینی چاہیے ۔ انہوںنے کہا کہآج انٹر نیشنل صورتحال سب کے سامنے ہے ، بھارت پاکستان کے خلاف جال بچھا رہا ہے جس سے پاک فوج بخوبی آگاہ ہے ۔ پاک فوج کے سربراہ نے حوصلے ، دانشمندی سے فیصلے کئے ہیں ، پاک فوج کے جرنیل اور جوان عظیم تر ہیں ۔انہوںنے کہا کہ حکومت کی طرف سے ڈیڈلاک کی صورتحال نہیں ۔ مسلم لیگ (ن) کے وہی لوگ متحرک ہیں جو نیب زدہ ہیں ۔ انہوں نےایک سوال کے جواب میں کہا کہ ملک صدارتی نظام کی طرف نہیں جارہا ، اس کے لئے چھ نکات کون پورے کرے گا ، کچھ بھی ہو سکتا ہے لیکن مارشل لاء نہیں لگے گا ۔ا نہوں نے کہا کہ پوری نواز لیگ نہیں بلکہ کچھ لوگ خود کو چمپئن ظاہر کر رہے ہیں ،یہ نواز شریف اور مریم نواز کے اشارے پر چل رہے ہیں،اڑھائی سال میں ایاز صادق کو کسی نے بولتے دیکھا ہے ۔ یہ بارودیسرنگوں پر چلنا اعزا ز سمجھتے ہیں لیکن انہیں ہزیمت اٹھانا پڑے گی ۔وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ ہم نے مزید10 نئی ٹرینیں چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ آج سے سیالکوٹ اور وزیر آباد کے درمیان شاہین ٹرین بھی شروع ہوجائے گی۔ 10 نومبر سے کوئٹہ چمن کے درمیان چمن ایکسپریس ٹرین بھی شروع ہوجائے گی جو روزانہ کی بنیاد پر چلائی جائے گی۔ 10 نومبرسے سکھر اور کوٹری کے درمیان موہنجواداڑو ایکسپریس کو بھی بحال کیا جارہا ہے۔ 30 نومبر سے راولپنڈی اور کوہاٹ کے درمیان چلنے والی کوہاٹ ایکسپریس کو بھی بحال کررہے ہیں اسی طرح راولپنڈی لاہور کے درمیان سہ پہر4بجکر 30 منٹ پر چلنے والی ریل کار کو بھی بحال کیا جارہاہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تین اور نئی ٹرینیں جن کےٹینڈر 12 نومبر سے کھل رہے ہیں جن میں راوی ایکسپریس، وارث شاہ ایکسپریس اور ماروی پسنجر کو بھی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت پرائیویٹائز کرنے جارہے ہیں۔ اس طرح ہماری 15 سے 20 ٹرینیں پرائیویٹائز ہوجائیں گی ۔ وفاقی وزیر ریلوے نے کہا کہ شیپ کلب کا ٹینڈر بھی قریب ہے اس کو بھی جلد سے جلد کرنے کا کہا ہے۔

موضوعات:

مٹی کی مٹھی

00ڈاکٹر نے مریض کا بازو سیدھا کیا اور مایوسی سے سر ہلا دیا‘ بیٹے نے آہستہ آواز میں پوچھا ”کیا کوئی چانس نہیں“ ڈاکٹر نے جواب دیا ”سر اب نہیں‘ ہمیں وینٹی لیٹر بند کرنا ہوگا“ بیٹے نے سر نیچے کیا اور آہستہ آہستہ چلتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا۔مریض کی کہانی 1940ء میں شروع ہوئی تھی‘ ….مزید پڑھئے‎

00ڈاکٹر نے مریض کا بازو سیدھا کیا اور مایوسی سے سر ہلا دیا‘ بیٹے نے آہستہ آواز میں پوچھا ”کیا کوئی چانس نہیں“ ڈاکٹر نے جواب دیا ”سر اب نہیں‘ ہمیں وینٹی لیٹر بند کرنا ہوگا“ بیٹے نے سر نیچے کیا اور آہستہ آہستہ چلتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا۔مریض کی کہانی 1940ء میں شروع ہوئی تھی‘ ….مزید پڑھئے‎





Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں