ن لیگ فرنٹ فٹ پر آگئی،31دسمبر سے 20فروری کے درمیان کیا بڑا ہونے والا ہے؟تہلکہ خیز پیش گوئی


لاہور(این این آئی)وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ بھارت کی مالی معاونت سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان دوبارہ آرگنائز ہو رہی ہے، دہشتگرد عملی طور پرپاکستان کے اندر داخل ہو چکے ہیں، دعا گو ہوں کہ اپوزیشن کے کوئٹہ اور پشاور کے جلسے خیریت سے ہوں، کوئی بھی سانحہ رونما ہوسکتا ہے جس سے سیاست میں اکھاڑ پچھاڑ ہو سکتی ہے،31دسمبر سے 20فروری کےدرمیان جھاڑو پھر جائے گا، جو بڑے پہلوان بنے ہوئے ہیں وہ ٹارزن کی پکڑ میں آئیں گے،دسمبر یا جنوری میں عمران خان کے جانے کی تاریخیں دنے والے سن لیں عمران خان

کہیں نہیں جارہا، حکومت چار ہفتوں تک مہنگائی پر قابو پا لے گی،مسلم لیگ (ن) فرنٹ فٹ اور پیپلزپارٹی بہتر سوچ کے ساتھ کھیل رہی ہے اور وقت آنے پر پیپلزپارٹی وہ فیصلہ کرے گی جس سے جمہوریت کو خطرہ نہ ہو۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ریلوے ہیڈ کوارٹر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ شیخ رشید احمد نے بتایا کہ فریٹ کی آن لائن سروس شروع ہو چکی ہے جس کا مقصد کسی بھی طرح کی بدعنوانی کو روکنا ہے، آٹھ ٹرینیں پرائیوٹائز کر رہے ہیں،چار فریٹ ٹرینیں بھی پرائیویٹ سیکٹر کو دیدی ہیں،تیس نومبر سے لاہور سے راولپنڈی ریل کار بحال کریں گے۔انہوں نے کہا کہ نوے فیصد پاکستانی پاک فوج اور اداروں سے محبت کرتی ہے اورپاک فوج کوجمہوریت کے استحکام کا باعث سمجھتے ہیں، نوے فیصد پاکستانی سرحدوں پراپنی جانیں قربان کرنے والی فوج کو سلام پیش کرتے ہیں، باقی دس فیصد شکست خوردہ،مایوس اور ناکام لوگ ہیں، ان کے بچوں کی شہریت توغیر ملکی ہے جبکہ خود اقاموں پر ہیں اور یہی لوگ پاکستانی فوج اور اداروں پر تنقید کرتے ہیں،جو پا ک فوج پر تنقید کرتا ہے وہ ملک دشمن ایجنڈے پر کام کرتاہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی حالات سب کے سامنے ہیں، سپر پاور امریکہ میں انتخابات ہونے جارہے ہیں، چین، تائیون،آذر بائیجان اور آرمینیا کی چپقلش چل رہی ہے،سی پیک جو پاکستان کی ترقی اور منزل کا نشان ہے اس کی راہ میں روڑے اٹکانے والی قوتیں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس پاکستان نے احتساب کی جو 120عدالتیں قائم کرنے اور روزانہ کی بنیاد پر سماعت کی بات کی ہے یہ سیاسی استحکام کی بات ہے۔ شیخ رشید نے کہا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان آرگنائز ہو رہی ہے اور اس پر بھارتی سرمایہ کاری ہے، میں دعا گو ہوں کہاپوزیشن کے کوئٹہ اورپشاور جلسے کیلئے خیریت سے ہوں،کہیں کوئی بھی سانحہ رونما ہو سکتا اورسیاست میں اکھاڑ پچھاڑ ہو سکتی ہے، دہشتگردی کے لئے لوگ پاکستان میں داخل ہو چکے ہیں۔ا نہوں نے کہا کہ اکتیس دسمبر سے بیس فروری تک جھاڑو پھر جائے گا، یہ میرا سیاسی تجزیہ ہے اسے یہ نہ سمجھا جائے کہ میرے پاس اطلاعات ہوتی ہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں دسمبر یا جنوری میںعمران خان جارہا ہے، تاریخیں دینے والے سن لیں عمران خان کہیں نہیں جارہا،ہم نے 126دن دھرنا دیا اور یہ شاید گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کا حصہ ہوگا ہمارے دھرنے سے حکومت نہیں گری،اصل مسئلہ مہنگائی کا ہے انشا اللہ چار ہفتوں میں وزیراعظم عمران خان اس پر قابو پا لیں گے۔ گندم کے جہاز لگ رہے ہیں، چینی کی آمد میں کچھ تاخیر ہوئی ہے، پنجاب میں خود دیکھا ہے کہ عوام کو آٹے کیفراہمی کیلئے ٹرک چوکوں اور چوراہوں میں کھڑے ہیں، اس کا سہرا پنجاب حکومت اور عثمان بزدار کے سر ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ میں مشاورت کے لئے تیار ہوں لیکن این آر او اور کرپشن کے کیسز پر بات کیلئے تیار نہیں ہوں، سیاست میں مشاورت، مذاکرات ختم نہیں ہوتے،سیاستدان پچھائیں گے، پی ڈی ایم کے جلسوں سے حکومت کہیں نہیں جارہی،جو بڑے پہلوان بنے پھرتے ہیں وہ ٹارزن کی پکڑ میں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج اور جمہوری حکومت ایک پیج پر ہیں اور یہ پیج جمہوریت کی کامیابی کی نشانی ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کی پوری کوشش ہے کہ نواز شریف کو واپس لایا جائے، کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں یہ آنے والا وقت بتائے گا۔ انہوں نے کہاکہ شہباز شریف میرے دوست ہیں لیکن انہوں نے وطن واپس آ کرغلطی کی ہے،اگر واپس نہ آتے تو آج وہاں موج میلہ کررہا ہوتا، شہباز شریف کا کیس انتہائی سنجیدہ ہے، شہباز شریف نے اپنے کیس کا جو تجزیہ کیا وہ غلط کیا۔ انہوں نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر کہا کہ یہ فیصلہ بر حق ہے یہ درست فیصلہ ہے۔ شیخ رشید نے کہا کہ مریم نواز نے دس مہینے انتظار کیا جبکہ نواز شریف ایک سال خاموش رہے، جب ان کی بات نہیں بنیتو ان کے پاس سوائے میدان میں آنے کے کوئی راستہ نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ آرمی چیف نے اپنے ادارے کے امیج کیلئے بلاول بھٹو کو ٹیلی فون کر کے دانشمندی اور دور اندیشی کا ثبوت دیا اور بہت اچھا کیا، ادارے ہم سب کے سانجھے ہیں،ا اداروں سے تصادم کی سیاست، سیاست کو تباہ کر دے گی، اداروں پر تنقید سے مقبولیت نہیں ملتی۔انہوں نے کہا کہ ٹی وی کے رپورٹر کے اغواء کی مذمت کرتا ہوں اور انہیں بحفاظت بازیاب کیا جائے۔





Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں