وفاقی حکومت کا مفتی منیب الرحمان نے بڑا عہدہ دینے کا اعلان


اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک/آئن لائن/ این این )حکومت نے مفتی منیب الرحمان کو جلد ہی بڑاعہد دینے کا اعلان کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر مذہبی امور نور الحق قادری نے کہا ہے کہ چیئرمین رویت ہلال کمیٹی کے عہدے سےمفتی منیب الرحمان کو میرے سفارش پر ہٹایا گیا انہیں جلد ہی کوئی بڑا عہدہ سونپا جائے گا ۔ واضح رہے کہ روئیت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب کو عہدے سےہٹا دیا گیا ۔مولانا عبدالخبیر آزاد روئیت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مقرر کردئیے گئے ۔ڈی جی سید مشاہد حسین خالد نے نوٹیفیکیشن جاری کر دیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق ہلال کمیٹی

کی تشکیل نو کر دی گئی ،رویت ہلال کمیٹی میں 19 ارکان شامل ہونگے ۔راغب نعیمی ، حسین اکبر،مولانا فضل الرحیم،ڈاکٹر یاسین ظفر شامل ہیں ۔ مفتی اقبال چشتی، ڈاکٹرمفتی علی اصغر،فیصل احمد،سید علی قرار نقوی کے علاوہ مفتی فضل جمیل ،حافظ عبدالغفور،یوسف کشمیری،قاری میر اللہ،حبیب اللہ چشتی مفتی ضمیر بھی شامل ہونگے۔جبکہ کمیٹی میں سپارکو،محکمہ موسمیات ،سائنس ٹیکنالوجی اوروزارت مذہبی امورکا ایک ایک نمائندہ شامل کیا گیا ہے ۔دوسری جانب تحریک تحفظ مساجد مدارس کانفرنس نے وقف املاک ایکٹ 2020 کو مسترد کرتے ہوئے ایکٹ کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ مدارس کی رجسٹریشن کے نام پر رکاوٹیں کھڑی کرناقابل قبول نہیں،اسلامی تعلیمی اداروں کو دہشت گردی کے ساتھ جوڑنا بدنیتی پر مبنی ہے۔جمعرات کو تحریک تحفظ مساجدومدارس کے زیراہتمام وقف املاک کے حوالے سے متفقہ لائحہ عمل تیارکرنے کیلئے آل پارٹیزتحفظ مساجدومدارس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا،اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ کے سربراہ مفتی منیب الرحمان نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایکٹ 2020 ایف اے ٹی اے ایف کے دباؤپر بنایا گیاایکٹ کی ہر سطح پر مذاحمت کریں گے خاسپیکر قومی اسمبلی وعدے کے مطابق ترامیم منظور کرائیں،آج کل مذہبی منافرت کی نہیں سیاسی منافرت کی تقریریں ہو رہی ہیں پاکستان میں مذہبی پابندیاں قبول نہیں اور لگانے کی کوشش کی تو مزاحمت کریں گے۔جمعیت علماء اسلام کے سیکریٹری جنرل عبدالغفور حیدری نے کہاکہ پارلیمنٹ میں بیٹھے علمائے کرام چوکیداری کررہے ہیں تاکہ اسلام سے متصادم کوئی قانون پاس نہ ہو اگر مدارس اور مساجد کو نہ بچا سکے تو ہمارے لیے لقمہ بھی حرام ہے۔جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ کا کہنا تھاکوئی بھی ایکٹ یا قانون دباو کے تحت پیش کیا جائے تو اْس کی کوئی حثیت نہیں ہوتی عمران خان ویسے تو یو ٹرن لیتے ہیں یہ ایکٹ بھی واپس لے لیں۔تحفظ مساجد و مدارس کانفرنس سے سینیٹر پروفیسر ساجد میرنے ایکٹ 2020 کا جائزہ لینے کیلئے کمیٹی تشکیل دینے جبکہ ممبر پنجاب اسمبلی مولانا معاویہ اعظم طارق نے معاملے کو عدالت میں لے جانے کی تجویز پیش کی۔





Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں