’’ وفاقی حکومت کی جانب سے ایک اور وعدہ پورا ہو گیا ‘‘ وزیراعظم عمران کا کراچی کی عوام کو نئے سال پر شاندار تحفہ


کراچی (این این آئی) گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے کراچی والوں کے لئے 50 اسٹیٹ آف آرٹ فائر ٹینڈرز اٹھارہ ہزار گنجائش کے اور دو باؤزرز نئے سال کا تحفہ ہے جس سے وفاقی حکومت کی جانب سے ایک اور وعدہ پورا ہوا، انہوں نے مزید کہا کہ درآمد شدہ فائر ٹینڈرز اور باوزرز کی مالیت ایکارب چالیس کروڑ روپے ہے، گورنر نے کہا کہ KMC کے پاس اس وقت شہرکے چھبیس فائراسٹیشنزمیں صرف گیارہ فائرٹینڈرزقابل استعمال ہیں جبکہ چوالیس فائرٹینڈرزمیں سے تینتیس فائرٹینڈرزخراب ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے

وفاقی حکومت کی جانب سے کراچی شہر کیلئے 50 فائر ٹینڈرز اور دو باؤزرز کے حوالے سے کراچی پورٹ ٹرسٹ میں منعقدہ تقریب سے خطاب کے دوران کیا۔ اس موقع پر گورنر سندھ نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اتنی بڑی تعداد میں کبھی فائر ٹینڈرز نہیں خریدے گئے پرائیویٹ پبلک پارٹنر شپ کے تحت 9 صنعتی ایسوسی ایشنز کو دو دو فائر ٹینڈرز جبکہ سیلانی اور چھیپا کو بھی فائر ٹینڈرز دئیے جائیں گے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ جن اداروں کو یہ فائر ٹینڈرز سپرد کیے جائیں گے وہ خود ان فائر ٹینڈرز کی دیکھ بھال اور پانی کی فراہمی کے ذمہ دار بھی ہوں گے جبکہ ان فائر ٹینڈرز کی تین سال وفاقی حکومت بذریعہ سپلائر مینٹی نینس کو ممکن بنائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ کسٹم سے کلیئر ہونے کے بعد وزیر اعظم عمران خان خود یہ فائر ٹینڈرز KMC کے فائر ڈپارٹمنٹ کے حوالے کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ اس منصوبے کو کامیاب بنانے میں سندھ انفرا اسٹرکچر ڈویلپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ کی کاوشیں قابل ستائش ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ پروجیکٹ مکمل طور پر موجودہ حکومت میں ہیشروع کیا گیا اور یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ گذشتہ حکومت نے اس پروجیکٹ کے حوالے سے کوئی بھی پیش رفت کی تھی۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وفاقی وزیر امین الحق نے کہا کہ گورنر سندھ عمران اسماعیل اور سابق میئر کراچی کی کاوشوںکے نتیجہ سے آج وفاقی حکومت کا وعدہ پورا ہوا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ کراچی کے ترقیاتی کاموں پر رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی۔ میڈیا سےبات چیت کرتے ہوئے وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ K-IV منصوبے کو وفاق آگے لے کر جائے گاجس پر واپڈا نے کام شروع کردیا ہے جبکہ گرین لائن ٹریک پر رواں سال جولائی میں ایک جدید ٹرانسپورٹ نظام شروع ہوجائے گا، اس کے ساتھ ساتھ فریٹ کوریڈور پورٹ سے پپری تک ریلوے لنک تعمیر ہوگا جس سے پورٹ پر تاخیر اور شہر میں ٹریفک کا مسئلہ حل ہوجائے گا، اس ضمن میں سرکلر ریلوے اور فریٹ کوریڈور کے لیے کنسلٹنٹ کی خدمات بھی حاصل کرلی گئی ہیں۔ وفاقی وزیر علی زیدی نے بھی اس موقع پر میڈیا سے بات چیت کی۔





Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں