پاور بریک ڈائون ، سینئر افسران کو ڈیوٹی چھوڑ کر گھر جانا مہنگا پڑ گیا ، چارج شیٹ کر دیا گیا


اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک/این این آئی)پاور بریک ڈاؤن کی انکوائری کے بعد مزید2 افسران کیخلاف ایکشن لیا گیا ہے جو فالٹ کے وقت ڈیوٹی چھوڑ کر گھر چلے گئے تھے۔ذرائع کے مطابق سربراہ گدو پاور پلانٹ نےٹرپنگ کی رپورٹ وزارت توانائی میں جمع کرادی گئی ہے۔ گریڈ 19 کے افسر سید فائق علی شاہ کومعطل کیا گیا ہے اور گریڈ 17 کے افسر ارشد کو چارج شیٹ کردیا گیا ہے۔نجی ٹی وی ہم نیوز کے مطابق دونوں افسران کی ڈیوٹی سوئچ یارڈ پر تھی اور دونوں نے ظاہرکیا کہ وہ بریک ڈاؤن کے وقت ڈیوٹی پرتھے۔ بریک ڈاؤن والے دن دونوں

افسران ڈیوٹی پر حاضر ہونے کے بعد گھر چلے گئے تھے اور خرابی پیدا ہونے کے بعد واپس آئے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں وہ بریک ڈاؤن کے دوران واپس آتے دکھائی دیئے۔ گدو پاور پلانٹ کے 7 ملازمین کے خلاف پہلے بھی ایکشن لیا گیا تھا۔دوسری جانب جب پاکستان بھر میں بجلی کا نظام بیٹھ رہا تھا تو اس وقت اسلام آباد کے نیشنل پاور کنٹرول سینٹر (این پی سی سی) میں کیا ہورہا تھا، نجی ٹی وی نے ویڈیو حاصل کرلی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہفتے کی شب ملک بھر میں بریک ڈائون رات 11:47منٹ پر ہوا جس سے مکمل نظام بیٹھ گیا جبکہ اس حوالے سے تاحال کوئی معلوم نہیں ہو سکی ۔ نجی ٹی وی کو موصول ہونے والے ویڈیو کے مطابق این پی سی سی میں فریکوئنسی گرتی جارہی تھی اور عملہ گنتی کرتا رہا۔ عملے کے ارکان آپس میں بات چیت کررہے تھے کہ ’فریکوئنسی کم ہو رہی ہے، بجلی کی فریکوئنسی اوپر نیچے ہو رہی ہے، زیرو ہوگئی ہے ۔ جبکہ عملے کا کہنا تھا کہ سارا سسٹم بیٹھ گیا ہے ، مردان بھی سسٹم سے نکل چکا ہے ۔ دوسری جانب دو روز قبل ملک بھر میں کریک ڈائوں ہوتا تھا جس سے پورا ملک تاریکی میں ڈوب گیا تھا ۔ اس حوالے سے کے الیکٹرک حکام کا کہنا ہے کہ کراچی کے 70 فیصد علاقوں کو بجلی کی فراہمی بحال کردی گئی ہے۔گزشتہ رات سے اب تک 150 فیڈرز کو بحال کیا جا چکا ہے اور جن علاقوں میں بجلی نہیں وہاں امدادی ٹیمیں کام کر رہی ہیں۔کے الیکٹرک کے مطابق ترسیلی نظام بشمول تمام گرڈز پر بجلی کی بحالی عمل میں لائی جاچکی ہے اور فیڈرز کی بحالی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔ کراچی کے رہائشی علاقوں میں بجلی کی فراہمی تاحال معمول پر نہیں آسکی۔ نیو کراچی، سرجانی ٹان، نارتھ کراچی، ملیر، گودھرا، سہراب گوٹھ، بن قاسم اور لانڈھی میں بھی بحال نہیں ہو سکی۔کے الیکٹرک حکام کا کہنا ہے کہ پمپنگ اسٹیشنز،اسپتال اور اسٹریٹیجک تنصیبات کیلئے بجلی بحال کی جارہی ہے اور تکنیکی عملہ فیلڈ میں موجود ہے۔۔دوسری جانب بجلی کے بریک ڈائون سے صوبائی دارالحکومت میں پینے کے پانی کی قلت پیداہوگئی ۔ تفصیلات کے مطابق بجلی کے طویل بریک ڈائون سے ٹیوب ویل نہ چلنے کی وجہ سے سمن آباد، گلشن راوی، اقبال ٹائون ،مزنگ، بیگم روڈ،گڑھی شاہو،محمد نگر، جین مندر ،راج گڑھ، ریلوے اسٹیشن،مصری شاہ،جوہر ٹائون ،وحدت روڈ، سنت نگر، راوی روڈ ،بلال گنج ،بند روڈ ،چوبرجی، ریوارزگارڈن ،جیل روڈ اورتاجپورہ سمیت دیگر علاقوں میں پانی کی قلت پیدا ہو گئی جس کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامناکرنا پڑا۔ مرحلہ وار بجلی بحال ہونے سے ٹیوب ویل چلنے سے پانی کی فراہمی ممکن ہو سکی ۔واسا کے ٹیوب ویلز پر جنریٹرز موجود ہیں تاہم اکثرپر بجلی کی طویل عدم فراہمی کی صورت میں متبادل پر چلانے کے لئے ایندھن ذخیر رکھنے کی کوئی تیار نہیں تھی ۔ ایم ڈی واسا کے مطابق لاہور کے زیر انتظام تمام ڈسپوزل اسٹیشنز اور ٹیوب ویل کوجنریٹرز پر چلایا گیا اور بجلی کی بحالی کی ساتھ ساتھ ٹیوب ویلز اور ڈسپوزل اسٹیشنز کو واپڈا پر منتقل کر دیا گیا ۔خیال رہے کہ آئیسکو کے بیشترعلاقوں میں بجلیبحال ہوگئی ہے۔ ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق اسلام آباد اور راولپنڈی کے کئی علاقوں میں بجلی کی سپلائی شروع کردی گئی ہے۔ اسلام آباد کے ریڈزون میں بھی بجلی بحال ہے اور دیگر علاقوں میں بحالی کا کام جاری ہے۔نجی ٹی ہم نیوز کی رپورٹ کے مطا بق ملتان میں جزوی طور پر بجلی بحال ہونا شروع ہوگئی ہے۔ میپکو ریجن میں 132 کے وی اور11 کے وی سے بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔ 11کےوی سےآئندہ چند گھنٹوں میں مکمل طور پر بجلی کی فراہمی شروع ہوجائے گی۔میپکو حکام کا کہنا ہے کہ قاسم پور گرڈ اسٹیشن اور وہاڑی چوک گرڈ اسٹیشن سے بجلی ہوگئی ہے اور مرحلہ وار پورے ریجن میں بجلی بحال کر دی جائے گی۔ترجمان کے الیکٹرک کے مطابق بجلی کی بحالی کا عمل مرحلہ وار جاری ہے۔ پمپنگ اسٹیشنز، اسپتال اور اسٹریٹیجک تنصیبات کیلئے بجلی بحال کی جارہی ہے۔دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر بجلی بحال کی جاچکی ہے۔





Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں