پاکستان دفاعی آلات میں خود انحصاری کی طرف جا رہا ہے، جدید ٹینک عالمی منڈی میں 13 ملین ڈالر اور ہم کتنے میں بنا رہے ہیں؟ امریکہ بھارت دفاعی معاہدے کیخلاف بھی اہم فیصلہ


اسلام آباد (این این آئی) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداورنے امریکہ بھارت کے درمیان ہونے والے دفاعی معاہدے کے خلاف قراردادمتفقہ طور پر منظور کرلی جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ انڈیا امریکہ بیسک ایکسچینج کارپوریشن ایگریمنٹ سے خطے کاتوازن خراب ہوگا،خطے کے امن کوشدیدخطرہ لاحق ہوگیاہے ،معاہدے پریوایس کانگریس نظرثانی کرے،حکومت پاکستان عالمی سطحپر مسئلہ کواٹھائے۔چیئرمین ایچ آئی ٹی نے کہاکہ ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا دفاعی آلات میں خودانحصاری کی طرف جارہاہے،70 ارب روپے کماکردیئے،جدیدٹینک عالمی منڈی میں 13 ملین ڈالر جبکہ ہم 3 ملین ڈالر میں بنارہے ہیں،پورے خطے میں صرف آرمڈ وائیکل کی ٹیسٹنگ کی سہولت

ایچ آئی ٹی میں ہے،کمیٹی کو پاکستان میں درآمد کی جانے والے بلٹ پروف وائیکل کی این او سی ایچ آئی ٹی کے ٹیسٹ پاس کرنے والی گاڑیوں کودینے کی سفارش کردی ،پنجاب اور کے پی کے میں بلٹ پروف گاڑیوں کے اندرگولیاں چلی جاتی ہیں پہلے ٹیسٹ کئے جائیں اسکے بعد اجازت دی جائے۔مقامی سطح پر بنانے والے آلات کی درآمد پر پابندی لگائے جائے۔بدھ کوسینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداورکااجلاس چیئرمین جنرل (ر)عیدالقیوم کی سربراہی میں ہوا۔قائمہ کمیٹی میں سینیٹر پرویزرشید ،مشاہدحسین سید،نعمان وزیر،نذہت صادق ،محمد اکرام ،مولاناعبدالغفور حیدری ،انورلعل ،سیکرٹری دفاعی پیداوراور ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سمیت دیگر حکام نے شرکت کی۔کمیٹی کوچیئرمین ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا جنرل عامر نے ایچ آئی ٹی پر بریفنگ دی۔ایچ آئی ٹی نے ابھی تک تین سو مقامی فرموں کو مختلف چیزوں کوبنانے کے لیے کام کیاجبکہ ابھی تک 22ہزار سے زیادہ مختلف قسم کے سپیئرپارٹس بنائے جبکہ 1725ٹینک ،بکتربندگاڑیاں نئی بنائیں ہیں جبکہ مجموعی طور پر 4799گاڑیوں کواپ گریٹاور دوبارہ بنائی گئیں ہیں الخالد ون ٹینک اور 125ایم ایم ٹینک گن بنائی جارہی ہے جبکہ ٹینک ٹی 85اے پی،ٹینک ٹی 80یو ڈی،سیلف پروپیلڈ گن ،آرم ریکوری وئیکل ،آرم پرسنل کیریئر شامل ہیں اس کے ساتھ کمرشل پروڈکشن کے تحت412 آرمڈسیکیورٹی وئیکل بنائی گئیں اس کے ساتھ25 اے ایس وی مخافظ نیوی کودیں8اے ایس وی پروٹیکٹرسندھ پولیس جبکہ 9کے پی کے پولیس کودیئے گئے9 اے پی سی ایس ری بلڈ سندھ پولیس کودی گئیں اس کے ساتھ 14027بلٹ پروف جیکٹ اور 1242بلٹ پروف ہیلمٹ قانون نافذ کرنے والے اداروں کودیئے ہیںاس کے ساتھ44 اے پی سی طلحہ عراق ،60اے ایس وی محافظ عراق ،ایک یمن اور دو بحرین اس کے ساتھ 303آرمڈ گارڈ پوسٹ خلیجی ممالک جبکہ 6اے ایس وی انٹرسپٹربحرین نیشنل گاڑڈزکوفراہم کی ہیں پورےخطے میں صرف ایچ آئی ٹی میں آرمڈ پرڈکٹ، کی ٹیسٹنگ کی سہولت موجود ہے فیز ون کے تحت سارا سامان اور عمارت بنادی گئی ہے جبکہ فیز دو کے اندر فیلڈ ٹیسٹنگ کی سہولت مہیا کی جائے گی۔ایچ آئی ٹی نے گذشتہ پانچ سال میں 1.18ارب روپے حکومتی خزانہ میں جمع کرائے ہیں جبکہ 9.21ارب روپے گذشتہ پانچ سال میں حکومت کے پیسے بچائے ہیں۔ مارگلہ ہیوی انڈسٹریز لمیٹڈبھی ایس ای سی پی میں رجسٹرڈ کردی گئی ہے ایچ آئی ٹی نے گذشتہ پانچ سال میں 70ارب روپے کی بچت کی ہے گذشتہ پانچ سال میں کل اخراجات 25.21ارب روپے اخراجات آئے جبکہ اس پانچ سالوں میں 69.79ارب روپے کمائے ہیں اس لیے یہ کہنا کہ دفاعی ادارے خسارے میں اور حکومت پر بوجھ ہیں کہنا درست نہیں ایچ آئی ٹی منافع بخش ادارہ ہے جو حکومت کا کمانے کے ساتھ خودانحصاری پر لے جارہاہے امریکہ ٹینک ابراہم 8سے دس ملین ڈالر میں ملتا ہے جبکہ روس کا ٹی 90 بھی اتنی ہی رقم میں ملاجاتا ہے جبکہ فرانس کا Leclerc کی عالمی منڈی میں قیمت 13ملین ڈالر ہے جبکہ اسی کا ہم پلہ ٹینک خالد ون ہم پاکستان کے لیے 2.9ملین ڈالر میں بناکردیتے ہیں اس کے ساتھ ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کی وجہ سے مقامی صنعتوں کو 5ارب روپے سے زائد کا کاروبارملا ہے مختلف آلات بنانے والے 751فرم ہمارے ساتھ کام کررہے ہیں جبکہ 18401آلات ہم اب تک بنا چکے ہیں۔سینیٹر نعمان وزیر نے کہاکہ ایچ آئی ٹی سب اداروں میں بہتر ہے اداروں کے چیرمین کو لگانے کا ایک معیارہونا چاہیے اور ان کی بہترین ٹریننگ بھی کی جائے،جو چیزیں پاکستان میں بن سکتی ہیں ان کو بیرون ملک سے درآمد نہیں ہونی چاہیے اور اس حوالے سے قانون پر سختیسے عمل کریں،دنیا میں سب سے سستا ٹریکٹر پاکستان میں اور مہنگی گاڑی پاکستان میں بنتی ہے۔ایسی کوئی چیز نہیں جو پاکستان میں نہیں بن سکتی ہے ،پنجاب اور کے پی کے میں بلٹ پروف گاڑیوں میں گولی اندرچلی جاتی ہے ان کا پہلے ٹیسٹ کیا جائے تمام بلٹ پروف گاڑیوں کی این او سی ایچ آئی ٹی سے مشروط کی جائے اس کے بعد پاکستان میں آنے کی اجازت دی جائے۔ سیکرٹریدفاع نے کہاکہ اداروں کے درمیان تعاون کو بہتر بناتہے ہیں ہم خود انحصاری کی طرف جارہے ہیں آرڈی ای کو نیا ماڈل دیا ہے ان کو انڈسٹری کے ساتھ منسلک کیا ہے آر ڈی اے کو ان کی مدد کے لیے کہاہے،سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداورمیں اجلاس کے اختتا م پرامریکہ بھارت کے درمیان ہونے والے دفاعی معاہدے کے خلاف قراردادمتفقہ طور پر پاس کی۔ قرارداد میں امریکہاور بھارت کے درمیان ہونے والے معائدے(انڈیاامریکہ بیسک ایکسچینج کارپوریشن ایگریمنٹ ) جس کے تحت جدید ٹیکنالوجی بھارت کودی جائے گی پر کمیٹی نے شدید تشویش اور تحفظات کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ یسی صورت حال میں جب بھارت تین پڑوسی ممالک چین ، پاکستان اور نیپال کے ساتھ تصادم میں ہے جبکہ افغانستان کی سرزمین کوبھی ااستعمال کررہاہے جس سے  خطےمیں ٹینشن بڑھے گی اس سے پہلے امریکہ نے 21ارب ڈالرکااسلحہ2007میں بھارت کودیابھارت کے ساتھ ہونے والے حالیہ معاہدے سے بھارت کے جارحانہ عزائم میں مزید تیزی ا?ئے گی اور نئی سرد جنگ خطے کومزید غیرمستحکم بنائے گی۔کمیٹی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ حکومت اس مسئلے کوعالمی سطح پر اٹھائے اور امریکہ کے ساتھ بھی اس مسئلے کواٹھائے ،کمیٹی نےامید ظاہر کی کہ یو ایس کانگریس اس معاہدے پر پاکستان کے تحفظات کانوٹس لے گی اور اس غلط معاہدے پر نظرثانی کی جائے گی۔بھارت کوجدید ٹیکنالوجی دینے سے خطے کاتوازن خراب ہوگامقبوضہ کشمیر کی وجہ سے پہلے ہی پاکستان اور بھارت کے حالات کشیدہ ہیں اورنیوکلیئر فلش پوائنٹ بھی ہے۔ واضح رہے کہ امریکہ اوربھارت نے منگل کوحساس سیٹلائیٹ ڈیٹا کی فراہمی کے حوالے سے ایک دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔اس حساس ڈیٹا کی مدد سے بھارت اس قابل ہو جائے گا کہ وہ میزائلوں، ڈرونز اور دیگر اہداف کو درست اور بالکل ٹھیک ٹھیک انداز سے نشانہ بنے سکے گا۔ فوجی معاہدہ پر دستخط دہلی میں منگل کے روز ہونےوالے اعلیٰ سطحی مذاکرات کے بعد کیے گئے ہیں۔

موضوعات:

ڈائیلاگ اور صرف ڈائیلاگ

سینٹ ہونو رینا  فرانس کے علاقے نارمنڈی سے تعلق رکھتی تھیں‘ یہ کیتھولک نن تھیں‘ کنواری تھیں‘ نارمنڈی میںکیتھولک کا قتل عام شروع ہوا تو سینٹ ہونورینا کو بھی مار کر نعش دریائے سین میں پھینک دی گئی‘ یہ نعش بہتی بہتی کون فلوینس  پہنچ گئی‘ کون فلوینس پیرس سے 24 کلومیٹر کے فاصلے پر چھوٹا سا گاﺅں ….مزید پڑھئے‎

سینٹ ہونو رینا  فرانس کے علاقے نارمنڈی سے تعلق رکھتی تھیں‘ یہ کیتھولک نن تھیں‘ کنواری تھیں‘ نارمنڈی میںکیتھولک کا قتل عام شروع ہوا تو سینٹ ہونورینا کو بھی مار کر نعش دریائے سین میں پھینک دی گئی‘ یہ نعش بہتی بہتی کون فلوینس  پہنچ گئی‘ کون فلوینس پیرس سے 24 کلومیٹر کے فاصلے پر چھوٹا سا گاﺅں ….مزید پڑھئے‎





Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں