پاکستان ٹیم کی کارکردگی پر تنقید جائز ہے ،مصباح الحق کا اعتراف


لاہور (ین این آئی)پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مصباح الحق نے پاکستان ٹیم کی کارکردگی پر تنقید کودرست قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ ہم تینوں شعبوں میں اچھا کھیل پیش نہیں کر سکے ، ہمارے پاس مواقع بھی آئے فائدہ نہیں اٹھایا ،ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ڈراپ کیچز ہی تھا ہمیں اپنی فیلڈنگ میں بہتری لانا ہوگی ، سائوتھ افریقہ کے خلاف سیریزمیں اچھی کار کر دگی دکھانا ہوگی ۔پی سی بی کے پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہو ئے ہیڈ کوچ نے کہا کہ نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز کے بعد تنقید جائز ہے، یہ تنقید درست

ہو رہی ہے کیونکہ تنقید وہی کرتے ہیں جنہیں ٹیم کی صلاحیتیوں پر یقین ہوتا ہے۔ ہیڈ کوچ مصباح الحق نے کہا کہ پہلے ٹیسٹ میچ میں پاکستان ٹیم نے فائٹ کر کے اپنے پوٹینشل کا مظاہرہ کیا۔ پاکستان ٹیم میچ کو آخری پانچ اوورز تک لے کر گئی، حالانکہ صورتحال مشکل تھی۔انہوں نے کہا کہ اس کے بعد جب فینز آپ سے فائٹ کرنے کی توقعات وابستہ کر لیتے ہیں تو آپ توقعات پر پورا نہیں اترتے تو تنقید درست ہو تی ہے، ہم نے صلاحیتیوں سے کم تر کھیل پیش کیا ہے ، اس لیے تنقید بنتی ہے۔مصباح الحق نے کہا کہ ہم نے تینوں شعبوں میں اچھا کھیل پیش نہیں کیا، ہم نے ایسی صورتحال سے آئندہ کے لیے نکلنا ہے کیونکہ کسی بھی کھیل میں مقصد جیت ہوتا ہے اور جب آپ نہیں جیت پاتے تو مایوسی ہوتی ہے، اس لیے مایوسی بھی ہے اور افسوس بھی توقعات کے مطابق نہ کھیلنے پر افسوس ہوتا ہے۔مصباح الحق نے کہا کہ ہم اس ٹور پر اچھا کر سکتے تھے لیکن ہم نے موقعوں سے فائدہ نہیں اٹھایا، ہمارے پاس کئی مواقع آئے لیکن ہم نے ان موقعوں کو اپنے ہاتھ میں نہیں لیا۔انہوں نے کہا کہ کرکٹ میں ایسا ہوتا ہے لیکن یہ دیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ہمارے ساتھایسا کیوں ہوتا ہے ہم میچز کو قریب لے کر جا سکتے تھے لیکن ایسا کر نہیں پا رہے۔ہیڈ کوچ مصباح الحق نے کہا کہ ڈراپ کیچز ہمارا پہلے بھی مسئلہ رہا ہے یہاں بھی ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ڈراپ کیچز ہی تھا ہمیں اپنی فیلڈنگ میں بہتری لانا ہے، اس سیریز میں چانس مس کرنے سے بہت فرق پڑا۔ مصباح نے کہاکہ اب ہم نے ہوم سیریز سائوتھ افریقہ کے خلاف کھیلنا ہے یہ ایک اچھا موقع ہے کہ ہم ہر شعبے میں بہتری لائیں، اچھا کھیل کر اعتماد کو بحال کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ جو غلطیاں کیں ان کا جائزہ لے کر آگے بڑھنا ہے،ہوم کنڈیشنز اور حریف ٹیم کو سامنے رکھ کر ضروری تبدیلیوں کے بارے میں دیکھیں گے۔





Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں