پاکستان پیپلزپارٹی کا استعفوں، صوبائی خودمختاری سمیت دیگر حقوق سے دستبردار ہونے سے انکار


کراچی(این این آئی) پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو نے کہا ہے کے پی ڈی ایم نے اراکین کے استعفے اسپیکرز کے پاس جمع کرانے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا ،استعفے صرف اپنی اپنی پارٹی قیادت کے پاس جمع کرانے کی 31 دسمبر تک ڈیڈ لائن تھی،جس کے تحت پیپلز پارٹی کے تمام اراکین نے اپنے استعفے پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو اورشریک چیئرمین آصف علی زرداری کےپاس جمع کرادیئے ہیں۔پی ڈی ایم نے سینیٹ یا ضمنی انتخابات میں حصہ نہ لینے کا بھی کوئی فیصلہ نہیں کیا تھا اگر ایسا کوئی فیصلہ ہوتا تو ن لیگ اسلام آباد

کے میئر کے انتخاب میں حصہ نہ لیتی۔ شاہ محمود قریشی اپنی بلوغت اپنے پاس رکھیں وہ استعفوں کی فکر نہ کریں ہمیں پتہ ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کو کیسے گھر بھیجنا ہے ان کو گھر بھیج کر رہیںگے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو سندھ اسمبلی کے کمیٹی روم میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ نثار کھوڑو نے کہا کہ وفاقی حکومت صوبائی خود مختاری چھیننا چاہتی ہے۔ سندھ کے جزائر اور وسائل پر قبضہ کرنا کی کوشش کی جا رہی ہے ہم کسی صورت صوبائی خودمختاری سمیت سندھ دیگر حقوق سے دستبردار نہیں ہونگے اور کسی کو سندھ کے وسائل پر قبضہ کرنے نہیں دینگے، اگر سندھ کے وسائل پر قبضہ کرنے کی سوچ کو ترک نہیں کیا گیا تو پھر سندھ کی عوام جنگ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت وفاق کو مضبوط کرنا چاہتی ہے جبکہ مضبوط صوبے مضبوط مرکز کی علامت ہوتے ہیں۔ ہمیں مضبوط صوبے اورمضبوط پاکستان کے فارمولا پر چلنا ہو گا مرکزیت کو کم سے کم کرنا ہوگا اور ہر صوبے کو اپنے جائز حصہ فراہم کرنے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کی جانب بڑھنا ہوگا اور ہر صوبے کو اہم ترین سمجنا ہوگا اس میں ہی ملک کی مضبوطی اور ترقی ہوگی۔ نثار کھوڑو نے کہا کہموجودہ وفاقی حکومت نے وفاق کو کمزور کیا ہے اور صوبوں کے درمیان نفرت بڑھائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حکومت سے جان چھڑانا ہی مسئلوں کا حل ہے اور اس حکومت کے خلاف جدوجہد میں پارلیمنٹ سے باہر بیٹھی دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی شامل کرنے اور ان سے رابطوں کے لئے بلاول بھٹو نے ہدایت کردی ہے جس کے بعد قوم پرستوں سمیت کچھ سیاسی جماعتوں کےرہنمائوں سے رابطے کئے ہیں اور قادر مگسی سمیت دیگر جماعتوں کے رہنمائوں سے ملاقاتیں کروں گا۔انہوں نے کہا کے پارلیمنٹ کے اندر اور پارلیمنٹ کے باہر تمام سیاسی جماعتوں کو اکٹھا کرکے اس حکومت سے جان چھڑائیںگے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم استعفیٰ دیں اور ملک میں قبل از وقت شفاف انتخابات کروائے جائیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ایم کیو ایم کوملاقات میں یاد کرانے گئی تھی کے مردم شماری صرف کراچی کا نہیں پورے سندھ اور سب جماعتوں کا مسئلہ ہے اس مردم شماری میں سندھ کی آبادی کم ظاہر کی گئی ہے اور ایم کیو ایم نے وفاق میں بیٹھ کر مردم شماری کے معاملے پر خاموشی اختیار کی۔ نثار کھوڑونے کہاکہ ایم کیو ایم سے مردم شماری سمیت دیگر ایشوز پر باتیں ہوئیں جب جاتے ہیں تو دل کھول کر باتیں کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مردم شماری میں پنجاب کے ایک گھر کے 7 افراد جبکہ سندھ کے ایک گھر کے 5 افراد رجسٹرڈ کرکے سندھ کی آبادی کوکم ظاہر کیا گیا، جس پر سندھ کو اعتراض ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے ملازمتوں کے اعلان پر تو عمل نہیں ہوا مگر سندھ کو بھی وفاقی ملازمتوں کی کوٹا نہیں دیا جا رہاہے سندھ کے حقوق پر ڈاکہ ڈالہ جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کے ایک صوبے کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب کے سامنے ہے این ایف سی کی تقسیم ہو یا سندھ کے ساتھ دیگر ناانصافیاں ہوں سندھ نے ہی بھگتا ہےاب مزید نا انصافیاں برداشت نہیں کرینگے۔انہوں نے کہا کہ کورنگی کو ضلع بنایا ہے تو باڈھ کو بھی تحصیل کا درجہ دلائیںگے۔ انہوں نے کہا کے پیپلز پارٹی کی کوشش ہوگی کہ پورے صوبے میں موجود سیاسی و سماجی تنظیموں سے رابطے کرکے مختلف ایشوز پر مشترکہ جدوجہد کرنے کے لئے کثیر الجہتی حکمت عملی اپنائی جائے۔ نثار کھوڑو نے کہا کہ سندھ میں ہنری تعلیم ،ووکیشنل ایجوکیشن کو مضبوط اور مربوط کیا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ نوجوانوں میں اپنی نوکری آپ کرنے کا حوصلہ پیدا ہواور ہماری کوشش ہوگی کہ اس برس سندھ کے طلبا اور گریجویٹس کی مقررہ بیرونی اسکالرشپ کو وفاق سے حاصل کیا جائے گا تاکہ صوبہ سندھ کے نوجوان بھی وفاقی پاکستان سے استفادہ حاصل کرسکیں ۔نثار کھوڑو نے کہاکہ ہم کورونا کے خاتمے کے لیے ویکسیئن کے استعمال کو زیادہ سے زیادہ عام کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ 2021 کا نیا سال اس امید کے ساتھ کہ یہ سال کووڈ سے آزاد سال ہو جائے گااورپاکستان سمیت دنیا بھر کے لوگ نئے سال میں وبا کی اس مصیبت سے نجات پالیں گے۔انہوں نے کہا کہ 2020 کا سال کورونا کی شدت کے ساتھ پوری دنیا میں قہر بن کر ٹوٹا اور پاکستان میں کورونا کی وجہ سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 10 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے مگر آج کی وفاقی حکومت حکومت مصائب کا نمونہ ہے اور اس میں کوئی بھی پیش قدمی کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔آج کی یہ حکومت سیاست سماجیات اور ملک کی اقتصادیات کے خلاف ایک خطرناک حملہ ہے ہمیں پاکستان کو اس حملے سے بچانا ہے۔ انہوں نے کہا کورونا کی وجہ سے ہم پاکستان زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات کہ بہت بڑے نقصان پر رنجیدہ ہیں۔ کورونا نے ہم سے ہمارے دیرینہ ساتھی راشد حسین ربانی، غلام مرتضی بلوچ. سید علی مردان شاہ، جام مدد علی، اعجاز شاہ شیرازی،سابق ایم پی ایز حاجی منور علی عباسی، فقیر جادم خان منگریو ہم سے جدا ہوئے جبکہ پیپلزپارٹی کی خاتون ایم پی اے شہناز انصاری بہیمانہ قتل کی وجہ سے جدا کی گئی بلوچستان کے عوام کی طرح پورے ملک میں میر حاصل خان بزنجو کا خلا محسوس ہوتا رہے گا۔ پاکستان نے سابق وزیراعظم میر ظفراللہ خان جمالی، جسٹس فخرالدین جی ابراہیم اورچیف جسٹس پشاور وقار سیٹھ کو بھی اسی سال کھویا۔پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی رہنما ڈاکٹر مبشر حسن نامور بزنس مین سراج قاسم تیلی، نثار صدیقی، مہتاب چائولہ سمیت سندھ بلوچستان رائس ملز ایسوسی ایشن کے گداحسین مہیسر۔ پیپلزپارٹی کے ایم این اے خورشید احمد جونیجو کی دو بہنوں کا دو دن میں انتقال بھی اسی برس ہوا۔ نثار کھوڑو نے کہا کہ نامور دانشور ڈاکٹر غلام علی الانا،پروفیسر قلندر شاہ لکیاری، رسول بخش درس، ڈاکٹر کمال جامڑو اورپارس حمید کی ادبی خدمات کو کبھی بھی نہیں بھلایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آرٹس کونسل کراچی کے لگ بھگ 225 ممبران کا کورونا کی وجہ سے انتقال ہوا ان کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔ محمد مناف ، کرکٹر زارا عابد ، اداکارہ فردوس ملک عطا محمد خان،وقار حسن ،وفاقی مشیر نعیم الحق ،اولمپک باکسر عثمان اللہ خان،مارکسی دانشور لال خان ، سابق میر نعمت اللہ خان ، سابق امیر جماعت اسلامی سید منور حسن ،مفتی محمد نعیم ، طارق عزیز ، صبیحہ خانم ، ضمیر اختر نقوی، خادم حسین رضوی وزیراعلی سندھ کے بہنوی سید مہدی شاہ ،مظفر حسین شاہ اور دوسرے شامل ہیں ان سب کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔

موضوعات:

ڈرٹی پالیٹکس

جواہر لال نہرو کے والد موتی لال نہرو کام یاب وکیل‘ بزنس مین اور سیاست دان تھے‘ وہ دہلی‘ الٰہ آباد اور کلکتہ میں پریکٹس کرتے تھے اور 1900ءکے شروع میں لاکھوں روپے ماہانہ کماتے تھے‘ وہ دوبار آل انڈیا کانگریس کے صدر بھی رہے‘ بڑے نہرو صاحب خود سیاست دان تھے مگر وہ اپنے بیٹے جواہرل لال ….مزید پڑھئے‎

جواہر لال نہرو کے والد موتی لال نہرو کام یاب وکیل‘ بزنس مین اور سیاست دان تھے‘ وہ دہلی‘ الٰہ آباد اور کلکتہ میں پریکٹس کرتے تھے اور 1900ءکے شروع میں لاکھوں روپے ماہانہ کماتے تھے‘ وہ دوبار آل انڈیا کانگریس کے صدر بھی رہے‘ بڑے نہرو صاحب خود سیاست دان تھے مگر وہ اپنے بیٹے جواہرل لال ….مزید پڑھئے‎





Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں